صبا قمر 13

انمول عرف پنکی پر بائیو پک میں‌صبا قمر کو کاسٹ کرنے کی تیاریاں

گزشتہ چند روز سے پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک نام مسلسل گردش کر رہا ہے، اور وہ نام ہے ’انمول عرف پنکی‘۔

 

انمول کو کراچی اور پاکستان کی مبینہ ”کوکین کوئین“ (Cocaine Queen) اور ”ڈرگ کوئین“ کہا جا رہا ہے۔ ان کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی کے دوران ملنے والے مبینہ ”وی آئی پی پروٹوکول“ (بغیر ہتھکڑی کے پراعتماد انداز میں چلنے) نے پورے ملک کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

 

اسی سنسنی خیز صورتحال کے پیشِ نظر معروف فوٹو جرنلسٹ اور مصنف بلال حسن نے یہ تجویز دی ہے کہ بالی وڈ سے پہلے پاکستان میں انمول پنکی پر ایک بائیوپک (سوانحی فلم) بننی چاہیے، جس میں صبا قمر انمول کا اور گوہر رشید ان کے شوہر کا کردار ادا کریں۔

 

آخر اس کیس میں ایسا کیا ہے جس نے اسے ایک فلمی کہانی بنا دیا ہے؟ اور صبا قمر ہی اس کردار کے لیے کیوں موزوں ترین سمجھی جا رہی ہیں؟ آئیے ان حقائق کا انسانی اور سماجی پہلو سے جائزہ لیتے ہیں۔

گلیمر کی دنیا سے جرائم کے اندھیروں تک کا سفر

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، انمول پنکی کا سفر مبینہ طور پر ماڈلنگ کی چمکتی دمکتی دنیا سے شروع ہوا اور وہ ایک خوفناک ڈرگ کوئین بن گئیں۔ پولیس تفتیش میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک کارپوریٹ طرز کا انتہائی منظم ڈرگ سنڈیکیٹ (منشیات کا نیٹ ورک) قائم کر رکھا تھا۔

یہ نیٹ ورک کراچی کے پوش علاقوں جیسے ڈی ایچ اے اور کلفٹن سے لے کر لاہور تک پھیلا ہوا تھا، جس میں 800 سے زائد ہائی پروفائل کلائنٹس کو منشیات سپلائی کی جاتی تھیں۔ اس نیٹ ورک میں مبینہ طور پر برانڈڈ پیکجنگ، ہوم ڈیلیوری کے لیے مخصوص رائیڈرز اور حتیٰ کہ ریٹرن پالیسی بھی شامل تھی۔

یہ ایک عام جرم کی کہانی نہیں ہے؛ یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے ماہانہ دو کروڑ روپے سے زائد کی کوکین فروخت کی اور تفتیش کے مطابق مبینہ طور پر مختلف اہلکاروں کو 10 کروڑ روپے تک کی رشوت دی تاکہ اس کا نیٹ ورک محفوظ رہے۔

یہ کیس ہمارے معاشرے، پولیس کے نظام اور ایلیٹ کلاس کے ان تاریک رازوں کو بے نقاب کرتا ہے، جن پر عام طور پر پردہ پڑا رہتا ہے۔

صبا قمر کا انتخاب: ایک بہترین فیصلہ کیوں؟

جب ہم کسی ایسی خاتون کے بارے میں سوچتے ہیں جس نے ماڈلنگ سے جرائم کی دنیا تک کا سفر کیا ہو، جس کے چہرے پر گرفتاری کے بعد بھی خوف کے بجائے ایک بے باک مسکراہٹ اور پراسرار اعتماد ہو، تو پاکستان کی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں صبا قمر کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے۔

  1. نفسیاتی گہرائی کی ماہر: صبا قمر کو پیچیدہ اور گرے (Grey) کردار ادا کرنے میں کمال حاصل ہے۔ انہوں نے ڈرامہ ‘باغی’ میں قندیل بلوچ کا کردار جس انسانی ہمدردی اور گہرائی کے ساتھ نبھایا تھا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی بھی متنازعہ شخصیت کے اندرونی درد، اس کے حالات اور اس کی بغاوت کو سکرین پر زندہ کر سکتی ہیں۔

  2. شخصیت کا دبدبہ: انمول پنکی کے کردار کے لیے ایک ایسی اداکارہ چاہیے جس کی سکرین پریزنس (Screen Presence) انتہائی طاقتور ہو۔ عدالت کے باہر انمول کے چلنے کا انداز، جس پر انہیں مبینہ طور پر ایک سلیبرٹی جیسا پروٹوکول ملا اور تفتیشی افسر ان کے آگے چل رہا تھا، ایک مخصوص قسم کی ڈھٹائی اور طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ صبا قمر کی باڈی لینگویج اور آنکھوں کے تاثرات اس طاقت اور بے خوفی کو بخوبی پیش کر سکتے ہیں۔

  3. کہانی کی مانگ: لوگ انمول کی کہانی میں دلچسپی اس لیے لے رہے ہیں کیونکہ انہیں ایک پاکستانی ”پابلو اسکوبار“ جیسی کہانی نظر آ رہی ہے۔ گوہر رشید کا نام ان کے شوہر کے کردار کے لیے بھی اسی لیے موزوں ہے کیونکہ وہ شدت پسند اور پراسرار کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرنا جانتے ہیں۔

ایسی فلمیں کیوں بننی چاہئیں؟

بطور انسان، ہم تاریک کہانیوں کی طرف اس لیے کھنچے چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں انسانی فطرت کے ان پہلوؤں سے روشناس کرواتی ہیں جنہیں ہم سمجھنا چاہتے ہیں۔ انمول پنکی پر بننے والی بائیوپک کا مقصد جرائم کو فروغ دینا یا منشیات فروشی کو گلیمرائز کرنا نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ ہوگی جو بتائے گی کہ:

  • کیسے پیسے اور طاقت کی ہوس ایک انسان کو تباہی کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔

  • ہمارا نظام کہاں کمزور پڑتا ہے کہ 10 مختلف مقدمات میں مطلوب ایک ملزمہ 5 سے 15 سال تک قانون کی گرفت سے بچی رہتی ہے۔

  • اس ”کارپوریٹ ڈرگ مافیا“ کے پیچھے چھپے وہ کون سے سفید پوش اور طاقتور چہرے ہیں جو کبھی سامنے نہیں آتے۔

کیا پاکستانی سینما میں ایک اور  شاندار بائیوپک بننے جارہی؟

اگر بلال حسن کی تجویز حقیقت کا روپ دھارتی ہے اور صبا قمر یہ بائیوپک کرتی ہیں، تو یہ پاکستانی سینما کی تاریخ کی ایک شاہکار فلم ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ محض ایک سنسنی خیز فلم نہیں ہوگی، بلکہ ایک ایسی انسانی اور معاشرتی دستاویز ہوگی جو یہ سوال اٹھائے گی کہ جب نظام انصاف کمزور پڑ جائے اور دولت کی چمک آنکھوں کو خیرہ کر دے، تو ایک عام انسان کیسے جرائم کی دلدل کا بے تاج بادشاہ (یا ملکہ) بن جاتا ہے۔

یہ بائیوپک ہمیں اس سچائی کا سامنا کرنے پر مجبور کرے گی کہ برائی اکثر ہمارے اردگرد ہی ایک پرکشش لبادے میں موجود ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں