شوگر مافیا 4

پاکستانی ایک بار پھر شوگر مافیا کے شکنجے میں پھنسنے کو تیار

خبر ایک بار پھر وہی ہے: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (PSMA) نے حکومت سے "اضافی” چینی برآمد (Export) کرنے کی اجازت مانگ لی ہے۔

بظاہر یہ ایک سادہ سی معاشی خبر لگتی ہے کہ ملک میں چینی ہماری ضرورت سے زیادہ پیدا ہوئی ہے، لہٰذا اسے بیرونِ ملک بیچ کر قیمتی زرمبادلہ کمایا جائے۔ لیکن، پاکستان کے ہر اس عام شہری کے لیے جو روزمرہ کی مہنگائی سے لڑ رہا ہے، یہ خبر کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔

آپ کی یہ بات بالکل درست اور حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمارے ہاں اس "اضافی چینی” کے پیچھے ایک بہت گہرا اور تکلیف دہ چکر چھپا ہوتا ہے۔ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا کھیل ہے جس کی قیمت ہمیشہ غریب اور متوسط طبقہ ادا کرتا ہے۔

ایک جانی پہچانی کہانی: منافع، قلت اور پھر منافع

 

پاکستان کی معاشی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ شوگر مافیا یا مل مالکان کا ایک آزمودہ اور کامیاب ماڈل نظر آتا ہے۔ اس گھن چکر کو تین بنیادی مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  • پہلا مرحلہ (برآمد اور زرمبادلہ کا خواب): سب سے پہلے یہ بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے۔ مل مالکان حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ اگر اسے برآمد نہ کیا گیا تو کسانوں کا نقصان ہوگا۔ حکومت اجازت (اور بعض اوقات سبسڈی) دے دیتی ہے۔ مل مالکان بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی بیچ کر خوب منافع کماتے ہیں۔

  • دوسرا مرحلہ (مصنوعی قلت اور دگنی قیمتیں): جیسے ہی چینی ملک سے باہر جاتی ہے، اچانک مقامی مارکیٹوں میں "نامعلوم” وجوہات کی بنا پر چینی کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ سٹاک غائب ہو جاتا ہے اور جو چینی کل تک سستی تھی، آج اس کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ یہاں شوگر مافیا اربوں روپے کا منافع نچوڑتے ہیں۔

  • تیسرا مرحلہ (درآمد اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ): جب عوام کی چیخیں نکلتی ہیں اور میڈیا پر شور مچتا ہے تو حکومت حرکت میں آتی ہے۔ اب عوام کو ریلیف دینے کے نام پر وہی چینی مہنگے داموں بین الاقوامی مارکیٹ سے درآمد (Import) کی جاتی ہے۔ اس سارے عمل میں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔

چائے کی پیالی میں اٹھنے والا طوفان

 

جب ہم ان بڑے بڑے معاشی اعداد و شمار اور اربوں روپے کی بات کرتے ہیں، تو ہم اکثر اس عام انسان کو بھول جاتے ہیں جس کے لیے یہ سب محض ایک خبر نہیں۔

ذرا اس دیہاڑی دار مزدور کا سوچیے جو دن بھر کی سخت مشقت کے بعد تھک ہار کر گھر لوٹتا ہے۔ اس کے لیے شام کی ایک پیالی میٹھی چائے کوئی عیاشی نہیں، بلکہ دن بھر کی تھکن اتارنے کا واحد سستا سہارا ہے۔

جب چینی کی قیمت اچانک 100 روپے سے اچھل کر 150 یا 160 روپے فی کلو تک پہنچ جاتی ہے، تو وہ صرف چینی نہیں خرید رہا ہوتا، وہ اپنے بچوں کے حصے کی روٹی کاٹ کر ایک مافیا کی جیب میں ڈال رہا ہوتا ہے۔

یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک زرعی ملک جو گنے کی پیداوار میں خود کفیل ہے، وہاں کا شہری دنیا کی مہنگی ترین چینی خریدنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ سماجی بے حسی کی بدترین مثال ہے۔

کیا اس بار کچھ مختلف ہوگا؟

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ماضی کی ان تلخ حقیقتوں سے سبق سیکھے۔ اگر واقعی ملک میں چینی ہماری ضرورت سے زیادہ ہے، تو اس کا پہلا ثمر عام شہری کو ملنا چاہیے۔ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں کمی ہونی چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔

چند ضروری اقدامات جو وقت کی اہم ضرورت ہیں:

  1. شفاف آڈٹ: برآمد کی اجازت دینے سے پہلے ملک میں موجود چینی کے ذخائر کا غیر جانبدارانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔

  2. بفر سٹاک (Buffer Stock): حکومت کو چاہیے کہ وہ برآمد کی اجازت کو ملک میں کم از کم چھ ماہ کے بفر سٹاک کی موجودگی سے مشروط کرے۔

  3. قیمتوں کا کنٹرول: اگر برآمد کی اجازت دی بھی جائے، تو اس شرط کے ساتھ کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت ایک روپے بھی نہیں بڑھے گی، اور اگر بڑھی تو برآمدات فوری طور پر روک دی جائیں گی۔

حکومت شوگر مافیا نہیں عوام کا سوچے

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت کا مقصد صرف چند خاندانوں کی تجوریوں کو بھرنا نہیں، بلکہ معاشرے کے آخری درجے پر کھڑے انسان کی زندگی کو سہل بنانا ہے۔ چینی کی مٹھاس پر صرف مل مالکان کا حق نہیں، اس غریب کا بھی حق ہے جس کے پسینے سے یہ نظام چل رہا ہے۔ امید ہے کہ اس بار فیصلہ سازی کے ایوانوں میں بند فائلوں سے زیادہ عوام کی سسکیوں کو سنا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں