خواجہ آصف 2

خواجہ آصف کی سفارش گاؤں والوں کو مہنگی پڑ گئی

پاکستان کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہم عموماً یہ سنتے آئے ہیں کہ یہاں طاقت، عہدہ اور تعلق ہی سب کچھ ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اگر آپ کے پاس اقتدار ہے تو نظام آپ کی انگلیوں پر ناچے گا۔

لیکن کیا ہو جب ملک کا وزیرِ دفاع اور سابق وزیرِ بجلی و پانی خود اسی نظام کے سامنے بے بس اور لاچار نظر آئے؟

خواجہ محمد آصف کے حالیہ ٹویٹ نے نہ صرف موجودہ حکومت کی عملداری (رٹ) پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے بلکہ ایک ایسی بے اختیار حکومت کی تصویر کشی کی ہے جو اپنے ہی ماتحت محکموں پر کنٹرول کھو چکی ہے۔

خواجہ آصف کا بے اختیاری کا نوحہ

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک گھریلو ملازم کی بپتا سنائی۔ ان کے ملازم کے گاؤں کا ٹرانسفارمر جل گیا، جس کی مرمت کے لیے وزیر موصوف نے لیسکو (LESCO) کے ایک پرانے مہربان (سی ای او) کو ذاتی طور پر فون کرکے سفارش کی۔

نتیجہ کیا نکلا؟ لیسکو کے اہلکاروں نے ٹرانسفارمر تو ٹھیک کر دیا لیکن اس "مہربانی” کے عوض غریب گاؤں والوں سے 80 ہزار روپے چندہ اکٹھا کروا کر وصول کیے اور اس کی کوئی رسید تک نہیں دی۔

بے اختیار حکومت اور کڑوا سچ

یہ واقعہ بظاہر ایک عام سی کرپشن کی کہانی لگتا ہے جو ہمارے ہاں روز کا معمول ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپا پیغام انتہائی سنگین ہے۔

ذرا سوچیے! خواجہ آصف موجودہ وفاقی کابینہ کے اہم ترین رکن ہیں۔ وہ ملک کے وزیر دفاع ہیں اور ماضی میں اسی بجلی کے محکمے کے وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

اگر ان کی براہ راست اور ذاتی سفارش پر بھی لیسکو کے نچلے درجے کے اہلکار رشوت اور ناجائز وصولی سے باز نہیں آتے، تو پھر اس حکومت کی طاقت اور اختیار کہاں ہے؟

یہ ٹویٹ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ حکومت صرف کاغذی حد تک بااختیار ہے۔ کابینہ کے اجلاسوں میں بیٹھ کر بڑے بڑے فیصلے تو کیے جا سکتے ہیں، لیکن عملی طور پر نظام کے کل پرزے، بیوروکریسی اور سرکاری محکمے اب حکومتی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہو چکے ہیں۔

جب ایک وفاقی وزیر کی بات کی اتنی بھی وقعت نہ ہو کہ وہ بغیر رشوت دیے ایک جائز کام کروا سکے، تو ایسی حکومت کو "بے اختیار حکومت” نہ کہا جائے تو اور کیا نام دیا جائے؟

عام آدمی کا نوحہ

خواجہ آصف نے اپنے ٹویٹ کے آخر میں بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ "عام صارف کا کیا حال ہوگا؟”۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہر پاکستانی اپنے روزمرہ کے تجربات میں بھگت رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی تو روزانہ اس بوسیدہ اور کرپٹ نظام کی چکی میں پس رہا ہے۔

جب وفاقی کابینہ کے ایک طاقتور رکن کی سفارش لیسکو اہلکاروں کے لالچ اور کرپشن کو نہیں روک سکتی، تو اس غریب کسان، مزدور یا تنخواہ دار طبقے کی کون سنے گا جس کا کوئی سفارشی نہیں؟

عام آدمی تو واپڈا، پولیس، کچہری اور ہر سرکاری دفتر میں روزانہ اپنی عزتِ نفس بیچ کر، قرض پکڑ کر یا پیٹ کاٹ کر اپنے جائز کام کروانے پر مجبور ہے۔

وزیر دفاع کا ٹویٹ اور المیہ 

خواجہ آصف کا یہ ٹویٹ عوام کے لیے محض ایک خبر یا شکایت نہیں بلکہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ جب حکمران خود اپنے محکموں کی کرپشن کا رونا رونے لگیں اور سوشل میڈیا پر آ کر بے بسی کا اظہار کریں، تو عوام کس سے داد رسی مانگیں؟

ایک ایسی حکومت جس کا وزیر دفاع بجلی کے محکمے سے 80 ہزار روپے کی رسید تک نہ نکلوا سکے، وہ ملکی سلامتی، معیشت کی بحالی اور گڈ گورننس کے بڑے بڑے دعوے کیسے سچ ثابت کر سکتی ہے؟

یہ واقعہ حکومتی رٹ، انتظامی بے بسی اور کرپٹ نظام کی جیت کا وہ نوحہ ہے جسے پڑھ کر یہ احساس مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں اور عام آدمی کا اس ملک میں کوئی والی وارث نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں