غزہ کیلئے عطیہ 22

سویڈیش شہری کا 75 ملین امریکی ڈالر غزہ کیلئے عطیہ

انسانیت کسی مذہب، سرحد یا رنگ و نسل کی محتاج نہیں ہوتی۔ موجودہ دور میں جب دنیا بھر میں غزہ کے مظلوم بچوں کی چیخیں گونج رہی ہیں اور بدقسمتی سے مسلم دنیا کے کئی ارب پتی افراد اور صاحبِ ثروت شخصیات محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ایسے میں سویڈن کے ایک رئیل اسٹیٹ ارب پتی راجر اکیلیس (Roger Akelius) نے ہمدردی اور احساس کی ایک ایسی بے مثال تاریخ رقم کی ہے جس نے پوری دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

غزہ کیلئے عطیہ ایک بے مثال کہانی

 

 راجر اکیلیس نے اپنی فاؤنڈیشن (Akelius Foundation) اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف (UNICEF) کے ذریعے غزہ کے لیے 800 ملین سویڈش کرونر (تقریباً 75 ملین امریکی ڈالر) کے خطیر رقم غزہ کیلئے عطیہ کرنے کا اعلان کیا

یہ یونیسیف سویڈن کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی عطیہ ہے، جس کا بنیادی مقصد غزہ کی تباہ شدہ نسل کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور انہیں تعلیم اور خوراک فراہم کرنا ہے۔

مسلم دنیا کے لیے ایک گہرا لمحہ فکریہ

 

اس خبر کا سب سے تکلیف دہ اور ساتھ ہی سبق آموز پہلو وہ زاویہ ہے جس سے اسے دیکھا جانا چاہیے۔

ہم اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک ایسے بے شمار مسلم ارب پتی موجود ہیں جن کی دولت کا کوئی شمار نہیں، لیکن غزہ کے اس سنگین ترین انسانی بحران میں ان کی جانب سے کوئی ایسی مربوط، تاریخی اور وسیع پیمانے کی عملی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی جو عالمی سطح پر ایک روشن مثال بن سکے۔ وہ اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کے تحفظ میں الجھے ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس، سویڈن کے ایک غیر مسلم اور غیر عرب شخص کو غزہ کے بچوں کی چیخیں سونے نہیں دے رہیں۔ اور وہ مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے۔ 

جہاں مسلم دنیا کے امراء مصلحتوں کا شکار ہیں، وہیں ایک سویڈش ارب پتی کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ انہیں عالمی سطح پر کس ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اکیلیس نے واضح کیا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ غزہ کے بچوں کی مدد کرنے پر انہیں ‘یہود دشمن’ (anti-Semite) یا دیگر القابات سے پکارا جا سکتا ہے، لیکن ان کے نزدیک ایک انسان کی جان اور اس کا مستقبل کسی بھی تنقید یا ملامت سے کہیں بڑھ کر ہے۔

امداد کی تفصیلات اور سویڈش حکومت کا کردار

 

راجر اکیلیس کے اس قدم نے سویڈن میں ایک ایسی لہر پیدا کی ہے جس نے حکومت کو غزہ کیلئے عطیہ دینے پر آمادہ کیا۔ اس وقت سویڈن کی جانب سے غزہ کے لیے کی جانے والی کل امداد ایک تاریخی سنگ میل عبور کر چکی ہے۔

عطیہ دہندہامدادی رقم (سویڈش کرونر)مقصد / دائرہ کار
اکیلیس فاؤنڈیشن800 ملین400 سکولوں کی فراہمی، 5 سال تک اساتذہ اور بچوں کی خوراک
سویڈش حکومت400 ملینبچوں کی صحت، طبی امداد اور ہنگامی ضروریات کی فراہمی
مجموعی پیکیج1.2 بلین کرونرغزہ کے بچوں کی بنیادی بحالی اور محفوظ مستقبل

درد مند دل کی پکار

 

یہ امداد محض ایک شماریاتی خبر نہیں ہے، بلکہ دنیا کے ہر اس باشعور انسان اور خاص طور پر ان مسلم ارب پتیوں کے ضمیر پر ایک دستک ہے جو مادی وسائل کا سمندر رکھنے کے باوجود مظلوموں کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں۔

راجر اکیلیس کا اقدام غزہ کے ان لاکھوں بچوں کے لیے امید کی ایک حقیقی کرن ہے جن کے سکول، گھر اور بچپن، بمباری کے شعلوں کی نذر ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں