
ہر دور میں والدین کی یہی خواہش رہی ہے کہ ان کی اولاد دنیا میں کامیاب ہو، ان کا نام روشن کرے اور ایک بہترین زندگی گزارے۔
لیکن آج کے اس تیز ترین اور مادی دور میں، کامیابی کے پیمانے اس قدر بدل چکے ہیں کہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ: کیا انجانے میں والدین خود اپنے بچوں کو اللہ سے دور تو نہیں کر رہے؟
یہ سوال بظاہر بہت تلخ محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر ہم اپنے اردگرد کے معاشرے اور اپنے روزمرہ کے رویوں کا گہرائی سے جائزہ لیں، تو حقیقت کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ کسی بچے کا ایمان اچانک خراب نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد اسی گھر سے پڑتی ہے جہاں وہ آنکھ کھولتا ہے۔
یہاں وہ چند اہم وجوہات ہیں جو بتاتی ہیں کہ کس طرح جدید دور کے والدین، شعوری یا لاشعوری طور پر، بچوں اور اللہ کے درمیان فاصلہ پیدا کر رہے ہیں:
1. دنیاوی تعلیم بمقابلہ دینی تعلیم
آج کل والدین کی سب سے بڑی پریشانی بچے کے اسکول کے گریڈز اور امتحانات کے نتائج ہوتے ہیں۔ اگر بچہ اسکول کا ہوم ورک نہ کرے تو گھر میں طوفان کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہی بچہ نماز چھوڑ دے یا قرآن کی تلاوت نہ کرے، تو اکثر والدین یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ "ابھی بچہ ہے، بڑا ہو کر پڑھ لے گا”۔
یہ رویہ بچے کے ذہن میں یہ بات بٹھا دیتا ہے کہ دنیاوی تعلیم اللہ کے احکامات سے زیادہ اہم ہے۔ اور یوں وہ اللہ سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
2. والدین کا اپنا عملی نمونہ
بچے وہ نہیں کرتے جو ان سے کہا جاتا ہے، بلکہ وہ وہ کرتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
اگر گھر میں اذان کی آواز گونج رہی ہو اور والدین ٹی وی، موبائل یا دنیاوی کاموں میں مگن رہیں، تو بچہ کبھی بھی نماز کی اہمیت نہیں سمجھے گا۔
جھوٹ بولنے سے منع کرنے والے والدین جب خود فون پر جھوٹ بولتے ہیں، تو بچے کا اخلاقی اور روحانی زوال وہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
3. مادیت پرستی اور رزقِ حلال کا تصور
ہم بچوں کو یہ تو سکھاتے ہیں کہ پیسہ کیسے کمانا ہے، لیکن یہ سکھانا بھول جاتے ہیں کہ حلال اور حرام کی تمیز کیا ہے۔
جب گھر میں گفتگو کا مرکز صرف مہنگی گاڑیاں، بڑے گھر اور برانڈڈ کپڑے ہوں، تو بچے کا ذہن خود بخود اللہ کی رضا کے بجائے دنیاوی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔
4. تربیت کی جگہ ڈیجیٹل اسکرینز نے لے لی
پہلے مائیں بچوں کو صحابہ کرامؓ اور انبیاءؑ کے قصے سنا کر سلاتی تھیں، جس سے ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت پیدا ہوتی تھی۔ آج کے دور میں والدین اپنی مصروفیات کے باعث بچوں کو خاموش کروانے کے لیے ان کے ہاتھ میں اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ تھما دیتے ہیں۔
انٹرنیٹ کا بے ہنگم اور مادر پدر آزاد مواد بچے کے کچے ذہن سے اللہ کا خوف اور حیا کا تصور آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔
5. دین کو مشکل بنا کر پیش کرنا
کچھ والدین بچوں کو اللہ سے ڈراتے بہت ہیں لیکن اللہ کی محبت اور رحمت کا تصور نہیں دیتے۔ "ایسا کرو گے تو اللہ جہنم میں ڈال دے گا” جیسے جملے بچے کے ذہن میں اللہ کی ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو صرف سزا دینے والا ہے۔ اس کے برعکس، انہیں یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ اللہ ان سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔
بہترین تربیت صرف اچھے سکول بھیجنے کا نام نہیں
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچوں کی بہترین تربیت صرف انہیں اچھے اسکولوں میں پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ ان کی روح کی آبیاری کرنے کا نام ہے۔
اگر ہم نے آج اپنی ترجیحات درست نہ کیں اور بچوں کو اللہ سے جوڑنے کی شعوری کوشش نہ کی، تو کل کو یہ بچے دنیا میں تو شاید بہت آگے نکل جائیں، لیکن دین کے راستے سے بہت بھٹک چکے ہوں گے۔ اور اللہ سے دور ہونا ان کی ناکامی کی وجہ بنے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ والدین اپنے رویوں کا محاسبہ کریں اور بچوں کے دلوں میں اللہ کی محبت کا بیج دوبارہ بوئیں



