اہم خبریںسیاست

سہیل آفریدی کی چھٹی اور نیا وزیراعلیٰ کے پی کے آنے کی پیشن گوئیاں

 حال ہی میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ایک تقریر سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا: "یا میں نظام بدل دوں گا، یا نظام مجھے بدل دے گا"۔

گزشتہ سال اکتوبر 2025 میں جب علی امین گنڈا پور کو اچانک استعفیٰ دینے کا حکم دے کر نوجوان رہنما سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا، تو یہ امید کی جا رہی تھی کہ صوبے میں سیاسی استحکام آئے گا۔

لیکن محض چھ سے سات ماہ بعد ہی، مئی 2026 کے آغاز میں، سوشل میڈیا پر ایک بار پھر "وزیر اعلیٰ کی تبدیلی” کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

افواہوں کی حقیقت اور پس منظر

 

اس حالیہ بحث کا آغاز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے چند وی لاگز اور بیانات سے ہوا۔

 حال ہی میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ایک تقریر سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا: "یا میں نظام بدل دوں گا، یا نظام مجھے بدل دے گا”۔ اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور یہ تاثر ابھرا کہ ان کے اور پارٹی یا اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات ٹھیک نہیں چل رہے

 عمران ریاض خان اور دیگر وی لاگرز کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ایک اور بڑا فیصلہ کر لیا ہے اور سہیل آفریدی کی چھٹی ہونے والی ہے۔ یہاں تک کہ علی امین گنڈا پور کی واپسی کی قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئیں۔

سرکاری موقف اور زمینی حقائق

 

صحافتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ افواہوں کے ساتھ ساتھ سرکاری موقف کو بھی سامنے رکھا جائے۔

 3 مئی 2026 کو خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان تمام افواہوں کی تردید کی ہے۔ ان کا واضح کہنا تھا کہ صوبائی حکومت میں کسی فوری تبدیلی کا کوئی امکان یا اشارہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کی تبدیلی پی ٹی آئی کا خالصتاً اندرونی معاملہ ہے اور علی امین گنڈا پور کی واپسی جیسی توقعات بالکل غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔

 

پی ٹی آئی کا اندرونی بحران اور طرزِ سیاست: جو ہو رہا ہے وہ ناقابلِ قبول ہے

 

اگرچہ فی الحال گورنر کی جانب سے ان خبروں کو محض افواہ قرار دیا گیا ہے، لیکن صحافتی اور عوامی سطح پر یہ سوال اٹھانا انتہائی ضروری ہے کہ آخر پی ٹی آئی کے اندر یہ چل کیا رہا ہے؟

بطور ایک غیر جانبدار مبصر، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پی ٹی آئی کی صفوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ جمہوری اور عوامی لحاظ سے بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

  • عوامی مینڈیٹ کی توہین: خیبر پختونخوا کے عوام نے فروری 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو ایک واضح اور بھاری مینڈیٹ دیا تھا۔ یہ مینڈیٹ صوبے کی ترقی، امن و امان (خاص طور پر دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے) اور معاشی بہتری کے لیے تھا۔ یہ مینڈیٹ اس لیے نہیں تھا کہ ہر چھ ماہ بعد "اقتدار کی میوزیکل چیئرز” کا کھیل کھیلا جائے۔

  • مستقل عدم استحکام: پہلے علی امین گنڈا پور کا اچانک استعفیٰ اور اب سہیل آفریدی کے سر پر لٹکتی تلوار—یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات، دھڑے بندی اور کنٹرول کی جنگ نے صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو یرغمال بنا لیا ہے۔

  • گورننس کا فقدان: جب ایک وزیر اعلیٰ کو ہر وقت اپنی کرسی جانے کا ڈر ہو اور پارٹی کے اندر سے ہی اس کی ٹانگیں کھینچی جا رہی ہوں، تو وہ صوبے میں کیا گورننس دے گا؟ دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، بے روزگاری اور وفاق کے ساتھ وسائل کی جنگ جیسے سنجیدہ مسائل کو چھوڑ کر، پارٹی رہنما ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔

خلاصہ

حقائق کے مطابق، فی الحال سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے کا کوئی باقاعدہ یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا اور سرکاری سطح پر اس کی تردید کی گئی ہے۔ لیکن، جہاں آگ ہوتی ہے وہیں دھواں اٹھتا ہے۔

پی ٹی آئی کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ خیبر پختونخوا کوئی تجربہ گاہ نہیں ہے۔ عوام کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں، اور اس قسم کا اندرونی انتشار، غیر یقینی صورتحال اور بار بار کی اکھاڑ پچھاڑ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں کی جا سکتی۔

حکومت سازی ایک سنجیدہ عمل ہے، اسے ذاتی انا اور دھڑے بندیوں کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button