
یہ واقعہ کراچی کا ہے جہاں ایک شہری یاسر کلوار اور ان کی بیوی فرزین کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوئیں لیکن پھر دونوں کی طلاق ہوگئی اور فرزین نے دوسری شادی کرلی۔ جس پر یاسر نے فرزین سے بیٹیاں واپس لینے کے لیے گارڈین کورٹ سے رجوع کیا۔
لیکن گارڈین کورٹ کے علاوہ اپیل میں ڈسٹرکٹ کورٹ نے بھی یاسر کی بیٹیوں کی کسٹڈی کی استدعا مسترد کردی۔ یاسر نے بالآخر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
بچیوں کی کسٹڈی کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع
ہائیکورٹ میں یاسر نے کہا کہ بچیوں کی ماں نے جس شخص سے شادی کی ہے وہ بچیوں کے لیے اجنبی اور غیر محرم ہے، لہٰذا بیٹیوں کا اس سوتیلے باپ کے ساتھ رہنا شرعاً بھی درست نہیں ہے۔ جبکہ باپ ایک CSS آفیسر اور جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتا ہے جہاں اس کے والدین بچیوں کی بہترین پرورش کرسکتے ہیں۔
فرزین نے جواب دیا کہ یاسر نہ ایک اچھا شوہر تھا اور نہ ہی ایک اچھا باپ۔ شادی کے دوران بھی اس نے بچیوں کے لیے کبھی وقت نہیں نکالا، بلکہ وہ تو بیٹیوں کی موجودگی میں شراب پینے کا عادی تھا۔ ایک آفیسر ہونے کی وجہ سے اسکے تبادلے مختلف شہروں میں ہوتے رہتے ہیں یوں وہ خود بچیوں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتا، اس لیے وہ بچیوں کی کسٹڈی لینے کا ہرگز حقدار نہیں ہے۔
ہائیکورٹ میں جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کیس کی سماعت کی اور ستمبر 2024ء میں فیصلہ سنایا۔
عدالت کا تاریخی فیصلہ، ماں کب بیٹیوں کی کسٹڈی کا حق کھو دیتی؟
عدالت نے قرار دیا کہ "محمدن لاء” کے مطابق ماں جب (بچی کے) غیر محرم سے شادی کرلے تو وہ بچی کی کسٹڈی کا حق کھو دیتی ہے۔ اس اصول سے انحراف ممکن ہے، لیکن دوسری شادی کی صورت میں یہ ماں کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ایسے غیر معمولی حالات موجود ہیں جن کی وجہ سے بچیوں کا اسی کے پاس رہنا ضروری ہے، اور اگر وہ یہ ثابت نہ کر سکے تو کسٹڈی باپ کو مل جاتی ہے۔
بچیوں کی صورت میں ماں کی کسٹڈی کا حق ان کے بالغ ہونے تک ہوتا ہے، یہاں چونکہ دونوں بچیاں (ایک 17/16 جبکہ دوسری 14/13 سال کی) بالغ ہوچکی ہیں، اسلیے ماں کا یہ حق ویسے بھی ختم ہوچکا ہے۔
ماں نے اپنے الزامات و موقف کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ بچیوں کا باپ انکی کفالت نہیں کرسکتا۔
جوان ہوتی بیٹیوں کا ایک اجنبی و غیر محرم شخص (سوتیلے والد) کے ساتھ رہنا اسلام میں بھی منع ہے۔ باپ بچوں کا فطری و حقیقی گارڈین ہے۔ بیٹیاں ایک اجنبی کے بجائے اپنے سگے باپ اور دادا دادی کے ساتھ زیادہ پرسکون اور آرام دہ محسوس کریں گی۔
ہائیکورٹ نے پٹیشن منظور کرتے ہوئے بچیوں کی کسٹڈی باپ کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ اور ماں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ ہفتے میں ایک دن، یا فریقین کی باہمی رضامندی سے طے شدہ دنوں پر، اپنی پسند کی کسی بھی جگہ اپنی بیٹیوں سے ملاقات کر سکتی ہے۔



