سمندر کی گہرائیوں میں موجود پر اسرار جھیلیں 36

سمندر کی گہرائیوں میں موجود پر اسرار جھیلیں جہاں مچھلیاں بھی ڈوب جاتی ہیں

کیا آپ نے کبھی تصور کیا ہے کہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں، جہاں پانی ہی پانی ہے، وہاں ایک اور "جھیل” بھی موجود ہو سکتی ہے؟ ایک ایسی جھیل جس کے اپنے کنارے، اپنی لہریں اور اپنا ساحل ہو؟

سمندر کی گہرائیوں میں موجود پر اسرار جھیلیں , یہ کوئی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ ہماری زمین کے سمندروں میں چھپی ایک حقیقت ہے جسے سائنسدان "نمکین جھیلیں” (Brine Pools) کہتے ہیں۔

سمندر کی گہرائیوں میں موجود پر اسرار جھیلیں

 

یہ سوال ہر ذہن میں ابھرتا ہے کہ ایک پانی دوسرے پانی سے الگ کیسے رہ سکتا ہے؟ اس کا جواب کیمسٹری اور فزکس کے بنیادی اصولوں میں پوشیدہ ہے:

  • کثافت (Density) کا فرق: ان زیرِ سمندر جھیلوں کے پانی میں عام سمندری پانی کی نسبت نمکیات (Salinity) 3 سے 8 گنا تک زیادہ ہوتی ہے۔

  • پانی کا الگ تھلگ رہنا: نمک کی اس کثیر مقدار کی وجہ سے یہ پانی انتہائی بھاری (Dense) ہو جاتا ہے اور سمندر کی تہہ میں بیٹھ کر ایک الگ تہہ یا جھیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

  • واضح سرحد: بھاری پن کی وجہ سے یہ پانی اردگرد کے سمندری پانی میں حل نہیں ہوتا، بالکل ویسے ہی جیسے تیل اور پانی آپس میں نہیں ملتے۔

"موت کی جھیلیں”

 

ان جھیلوں کا نظارہ جتنا دلفریب ہے، ان کا ماحول اتنا ہی خطرناک ہے۔ اسی لیے انہیں "موت کی جھیلیں” بھی کہا جاتا ہے۔

  • آکسیجن کی کمی: اس انتہائی نمکین پانی میں آکسیجن بالکل نہیں ہوتی۔

  • زہریلی گیسیں: ان جھیلوں میں ہائیڈروجن سلفائیڈ اور میتھین جیسی زہریلی گیسیں اور کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں۔

  • اگر کوئی عام مچھلی، کیکڑا یا دیگر سمندری حیات غلطی سے اس جھیل کی حدود میں داخل ہو جائے، تو وہ زہریلے ماحول اور نمک کی زیادتی کی وجہ سے فوراً مر کر اس کے کناروں پر تیرنے لگتی ہے۔

تاریکی میں زندگی کا معجزہ

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں عام جانداروں کے لیے موت ہے، وہاں اللہ کی قدرت سے کچھ خاص مخلوقات نے اسی زہریلے ماحول کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔

ان گہرائیوں میں جہاں سورج کی روشنی کا ایک قطرہ نہیں پہنچتا، یہ جاندار فوٹو سنتھیسز (Photosynthesis) کے بجائے کیمیو سنتھیسز (Chemosynthesis) کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ یعنی یہ بیکٹیریا، آرکیا (Archaea) اور مخصوص جھینگے سورج کی روشنی کے بجائے زمین کے اندر سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں اور کیمیائی مادوں سے اپنی خوراک اور توانائی حاصل کرتے ہیں۔

یہ جاندار اس بات کا ثبوت ہیں کہ زندگی انتہائی سخت اور ناممکن نظر آنے والے حالات (Extremophiles) میں بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔

خلائی تحقیق اور مستقبل کے امکانات

ان نمکین جھیلوں کی دریافت نے صرف سمندری سائنس دانوں کو ہی نہیں بلکہ خلائی تحقیق کرنے والے اداروں (جیسے NASA اور ESA) کو بھی حیران کر دیا ہے۔ اس تحقیق کے درج ذیل اہم پہلو ہیں:

  • دوسرے سیاروں پر زندگی کی تلاش: اگر زمین کے اس تاریک، زہریلے اور انتہائی دباؤ والے ماحول میں زندگی پنپ سکتی ہے، تو سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مشتری کے چاند یوروپا (Europa) اور زحل کے چاند اینسیلاڈس (Enceladus) کے برفیلے سمندروں میں بھی خوردبینی زندگی موجود ہو سکتی ہے۔

  • طبی اور بائیو ٹیکنالوجی فوائد: ان انتہائی سخت حالات میں زندہ رہنے والے بیکٹیریا سے نئے اینزائمز اور ادویات تیار کرنے پر تحقیق جاری ہے، جو مستقبل میں کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

سمندری تاریکیاں اور قرآنی دعوتِ فکر

جدید سائنس آج ہمیں جن سمندری تاریکیوں، اندرونی لہروں اور گہرائیوں کے ماحولیاتی نظام سے روشناس کروا رہی ہے، قرآن مجید نے چودہ سو سال قبل سورۃ النور (آیت 40) میں اس جانب اشارہ کیا تھا:

"یا (ان کے اعمال) ایسے ہیں جیسے ایک گہرے سمندر کی تاریکیاں، جسے ایک موج نے ڈھانپ رکھا ہو، اس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر بادل ہوں۔ اندھیرے پر اندھیرے ہوں، یہاں تک کہ اگر کوئی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی مشکل سے دیکھ سکے…”

جدید سمندری سائنس (Oceanography) تصدیق کرتی ہے کہ سمندر کے اندر بھی لہریں (Internal Waves) ہوتی ہیں جو مختلف کثافتوں والے پانیوں کے درمیان بنتی ہیں (جیسے ان برائن پولز کے اوپر)، اور ایک خاص گہرائی کے بعد روشنی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

حرفِ آخر

 

ہماری زمین کا 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور آج بھی ہم نے چاند اور مریخ کے مقابلے میں اپنے سمندروں کا بہت کم حصہ دریافت کیا ہے۔ یہ "نمکین جھیلیں” انسان کو اس کی معلومات کی محدودیت کا احساس دلاتی ہیں۔ کائنات کا ہر مشاہدہ، اور سمندر کی ہر تاریک گہرائی سے نکلنے والی نئی دریافت، دراصل انسان کو اس کائنات کے عظیم خالق کی قدرت، حکمت اور صناعی پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں