
بدھ کے روز ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت کے دوران پینٹاگون کے قائم مقام چیف فنانشل آفیسر، جولز ہرسٹ (Jules W. Hurst III) نے تصدیق کی کہ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے اس جنگی بجٹ کا زیادہ تر حصہ مہنگے گولہ بارود اور میزائلوں کے استعمال، آپریشنز کی دیکھ بھال، اور تباہ ہونے والے عسکری آلات کی تبدیلی پر خرچ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ، تنازع کے ابتدائی دنوں میں ایک امریکی ‘F-15E سٹرائیک ایگل’ طیارے کا گرایا جانا اور اس کے پائلٹس کو بچانے کا آپریشن بھی ان بھاری اخراجات کا ایک بڑا حصہ تھا۔ ہرسٹ نے مزید بتایا کہ تنازع کی مکمل قیمت کا جائزہ لینے کے بعد پینٹاگون جلد ہی وائٹ ہاؤس کے ذریعے کانگریس سے باقاعدہ اضافی بجٹ (Supplemental Budget) کی درخواست کرے گا۔
اسی سماعت میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) نے مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے تاریخی دفاعی بجٹ کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ امریکہ کو مستقبل اور موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
آزاد ماہرین کی ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق تخمینہ
اگرچہ پینٹاگون نے 25 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے، لیکن کئی آزاد تحقیقی اداروں اور ماہرین نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ‘سنٹر فار امریکن پروگریس’ اور ‘امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ’ کے مطابق، اصل لاگت 25 سے 35 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک ماہر کے مطابق، اگر تمام بالواسطہ اور مستقبل کے اخراجات کو ملایا جائے تو اس جنگ کی کل قیمت 1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی اور امریکی معیشت پر اثرات
اس تنازع نے صرف عسکری بجٹ کو ہی نہیں بلکہ عام امریکی شہری کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش: ایران کی جانب سے تیل کی ترسیل کے اس اہم ترین راستے کو بند کرنے کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتیں: تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس نے زرعی مصنوعات (جیسے کھاد) کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں اور افراطِ زر (Inflation) میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
سیاسی ردِ عمل اور ڈیموکریٹس کی تنقید
اس سماعت کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
نمائندہ ایڈم اسمتھ (Adam Smith): انہوں نے پینٹاگون پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "شکر ہے آپ نے اس سوال کا جواب دیا، کیونکہ ہم کافی عرصے سے یہ پوچھ رہے تھے اور کوئی ہمیں نمبر نہیں دے رہا تھا۔” انہوں نے جنگی حکمت عملی پر بھی کڑی تنقید کی۔
نمائندہ رو کھنہ (Ro Khanna): انہوں نے متنبہ کیا کہ اس جنگ کی وجہ سے ہر امریکی خاندان پر کم از کم 5,000 ڈالر کا اضافی معاشی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے 25 ارب ڈالر کے تخمینے کو "انتہائی کم اور غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیا۔
ہیگسیتھ نے تنقید کے جواب میں کانگریس سے سوال کیا کہ "ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے کیا قیمت ادا کرنا مناسب ہے؟” تاہم، انہوں نے عام امریکیوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ کی براہِ راست ذمہ داری لینے سے گریز کیا۔
موجودہ صورتحال اور جنگ بندی
اس وقت امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک کمزور اور عارضی جنگ بندی قائم ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور مذاکرات کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ جنگ کے دوران اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
جیسے جیسے امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشنز (Mid-term Elections) قریب آ رہے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ پولز کے مطابق، صرف 34 فیصد امریکی عوام ایران کے ساتھ جنگ کی حمایت کر رہے ہیں، اور یہ گرتا ہوا رجحان آنے والے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔



