
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور عارضی جنگ بندی (سیز فائر) کے خاتمے کے قریب آتے ہی سفارتی محاذ پر شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران کا موقف اور امریکی خلاف ورزیاں
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے موجودہ صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں قطعی طور پر ’سنجیدہ نہیں‘ ہے۔
جارحانہ عمل: اسماعیل بقائی کے مطابق، حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے جارحانہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ واشنگٹن امن کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر گامزن ہے۔
سیز فائر کی خلاف ورزی: ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ امریکہ نے موجودہ جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری نہیں کی، جس کی وجہ سے باہمی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا فی الحال ناممکن ہو گیا ہے۔
امریکی پیشرفت اور ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
دوسری جانب، ایران امریکہ مذاکرات کیلئے سفارتی دباؤ اور خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔
توقع کی جا رہی تھی کہ اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد شروع ہوگا، تاہم ٹرمپ کے اس اعلان کے باوجود ایران کی جانب سے تاحال اپنی مذاکراتی ٹیم بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا ہے۔
بدھ کو سیز فائر کا ممکنہ خاتمہ
اس وقت عالمی برادری کی نظریں آنے والے بدھ کے روز پر مرکوز ہیں، جب دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے موجودہ سیز فائر کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے۔
اہم ترین پہلو: اگر ایران اور امریکہ کے درمیان بدھ تک اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور پر اتفاق نہیں ہوتا اور جنگ بندی میں توسیع نہیں کی جاتی، تو مشرق وسطیٰ اور ملحقہ خطوں میں کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافے کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد کا کلیدی کردار
اسلام آباد، جہاں ایران امریکہ مذاکرات کا یہ اہم ترین دور متوقع ہے، ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بن گیا ہے۔ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
لیکن اب تمام تر انحصار تہران کے حتمی فیصلے پر ہے کہ آیا وہ امریکی وفد کی موجودگی کے باوجود مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار ہوتا ہے یا پھر سیز فائر کے خاتمے کے بعد کسی نئی حکمت عملی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔



