اہم خبریں

"سو روپے بڑھاؤ بیس تیس کم کرو” پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر متضاد پالیسی

جہاں قیمتیں بڑھاتے وقت سینکڑوں روپے کا اضافہ ایک ہی جھٹکے میں کر دیا جاتا ہے، لیکن جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی ہے تو محض چند روپوں کی کمی کر کے خانہ پوری کی جاتی ہے۔

حکومتِ پاکستان نے حالیہ ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ حالیہ فیصلے کے تحت، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 12 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 353 روپے 43 پیسے ہو گئی ہے۔

تاہم حیران کن طور پر پیٹرول کی قیمت کو 366 روپے 58 پیسے پر بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھا گیا ہے

یہ فیصلہ حکومت کی اس روایتی حکمتِ عملی کی واضح عکاسی کرتا ہے جہاں قیمتیں بڑھاتے وقت سینکڑوں روپے کا اضافہ ایک ہی جھٹکے میں کر دیا جاتا ہے، لیکن جب عوام کو ریلیف دینے کی باری آتی ہے تو محض چند روپوں کی کمی کر کے خانہ پوری کی جاتی ہے۔

قیمتوں میں اضافے اور کمی کا غیر متوازن کھیل

 

حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین کا یہ دوہرا معیار عوام کے لیے شدید معاشی پریشانی کا سبب ہے۔ اس صورتحال کی حقیقت کو درج ذیل نکات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے:

  • ہوشربا اور یکطرفہ اضافہ: عالمی بحرانوں اور جغرافیائی کشیدگی کا جواز بنا کر حکومت نے حالیہ ہفتوں میں ایک ہی رات میں پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 185 روپے تک کا ہوشربا اضافہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ڈیزل 520 روپے اور پیٹرول 458 روپے فی لیٹر کی تاریخی سطح تک جا پہنچا تھا۔

  • نام نہاد اور معمولی ریلیف: جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے تو حکومت اس کا مکمل فائدہ عوام کو منتقل کرنے سے گریز کرتی ہے۔ 100 روپے سے زائد کے ظالمانہ اضافے کے بعد، اب ڈیزل میں محض 32 روپے کی کمی اور پیٹرول میں صفر کمی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

عوام کی جیبوں پر پڑنے والے اثرات

اس غیر منصفانہ اور یکطرفہ حکومتی پالیسی کا براہِ راست اور سب سے زیادہ بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے:

  • متوسط طبقہ اور پیٹرول کا بوجھ: پیٹرول کی قیمت میں کوئی کمی نہ کرنا موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں، اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے ساتھ صریح زیادتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو روزمرہ کے سفر اور اپنی روزی روٹی کے لیے پیٹرول پر انحصار کرتا ہے، مگر حکومت نے اس بڑے طبقے کو مکمل طور پر ریلیف سے محروم رکھا ہے۔

  • ٹرانسپورٹ اور مہنگائی مافیا: ڈیزل کی قیمت میں کمی بظاہر ایک اچھی خبر محسوس ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی یہ تلخ حقیقت ہے کہ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو کرائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں راتوں رات آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس، جب ڈیزل سستا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز اور دکاندار قیمتوں میں اس تناسب سے کمی نہیں کرتے، جس سے عوام تک اس کا حقیقی ثمر کبھی نہیں پہنچ پاتا۔

  • بھاری ٹیکسز کا نفاذ: عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود، حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 107 روپے فی لیٹر (جس میں 81 روپے پیٹرولیم لیوی شامل ہے) اور ڈیزل پر تقریباً 36 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ یہ بھاری ٹیکسز عوام کی جیبوں پر ایک بہت بڑا ڈاکہ ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حکومت نظر ثانی کرے

 

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حکومت کو ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے محصولات کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس کی قیمت غریب اور متوسط طبقے کو اپنا پیٹ کاٹ کر نہیں چکانی چاہیے۔

قیمتیں بڑھاتے وقت عوام کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے سینکڑوں روپے کا اضافہ کر دینا اور پھر عالمی سطح پر کمی کے باوجود محض چند روپوں کا دکھاوا کرنا، کسی بھی صورت میں منصفانہ طرزِ حکمرانی نہیں کہلا سکتا۔

جب تک حکومت ٹیکسوں کے بوجھ کو منصفانہ طور پر تقسیم نہیں کرے گی اور غریب عوام کی فلاح کو ترجیح نہیں دے گی، تب تک چند روپوں کی یہ کمی عوام کے لیے کوئی حقیقی خوشخبری نہیں بن سکتی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button