
پاکستانی ٹیلی ویژن پر ریٹنگز (TRPs) اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی دوڑ نے نشریاتی اور معاشرتی اخلاقیات کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
معروف میزبان اور اداکارہ فضا علی کے لائیو شو کے دوران پیش آنے والے حالیہ متنازع واقعے پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ چینل سے جواب طلب کر لیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے تیزی سے گرتے ہوئے معیار اور سنسنی خیز مواد کی تشہیر پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
لائیو شو میں غیر مناسب رویہ اور پیمرا کا ایکشن
تفصیلات کے مطابق، حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے لائیو شو کے دوران فضا علی کے شوہر نے انہیں آن ایئر کندھے پر اٹھا لیا۔ اس کلپ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی عوامی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔
اگرچہ فضا علی نے بعد ازاں ایک وضاحتی ویڈیو میں اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے میاں بیوی کے درمیان ایک "بے ساختہ اور مزاحیہ لمحہ” قرار دیا، تاہم ناظرین کی بڑی تعداد نے اسے فیملی ٹی وی اسکرین کے آداب اور پاکستانی ثقافت کے منافی قرار دیا۔
عوامی شکایات اور الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیتے ہوئے پیمرا نے متعلقہ ٹی وی چینل کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ فیملی ٹائم کے دوران ریٹنگز کے حصول کے لیے نجی نوعیت کے ایسے رویوں کی نمائش ٹی وی براڈکاسٹنگ رولز کی صریح خلاف ورزی ہے۔
رمضان ٹرانسمیشن میں ڈاکٹر نبیحہ کیس: دکھ کا تجارتی استعمال
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب فضا علی کو کسی شو کے فارمیٹ اور مواد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل حالیہ رمضان ٹرانسمیشن کے دوران بھی ان کا پروگرام شدید تنازعات کا شکار رہا تھا۔
رمضان کے مقدس مہینے میں، جہاں روایتی طور پر برداشت اور روحانیت کا درس دیا جاتا ہے، فضا علی کے شو میں معروف ٹک ٹاکر ڈاکٹر نبیحہ علی خان کو مدعو کیا گیا۔
نجی تنازعات کی سرِعام تشہیر: شو کے دوران ڈاکٹر نبیحہ کے اپنے شوہر (حارث کھوکھر) اور سسرال کے ساتھ جاری سنگین نجی تنازعات کو ریٹنگز کے لیے زیرِ بحث لایا گیا۔
میزبان کا غیر پیشہ ورانہ انداز: ایک غیر جانبدار میزبان کا کردار ادا کرنے کے بجائے فضا علی نے انتہائی جذباتی انداز اپنایا اور لائیو شو میں دھمکانے والے لہجے میں کہا کہ "حارث کھوکھر کو گھر سے بلاؤ، دو ٹوک بات ہوگی۔”
مقدس مہینے کا تقدس پامال: ناقدین کے مطابق، مہمان کے ذاتی دکھ، سسرالی جھگڑوں اور نجی ازدواجی زندگی کو ایک سستے فیملی ڈرامے کی طرح پیش کر کے رمضان نشریات کے تقدس کو پامال کیا گیا۔
"ٹی وی شوز میں کسی کے گھریلو مسائل اور ذاتی دکھ کو سنسنی خیز بنا کر پیش کرنا صحافتی اور معاشرتی اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔” — میڈیا تجزیہ کار
پاکستانی ٹی وی انڈسٹری کا مجموعی زوال
فضا علی سے جڑے یہ حالیہ واقعات محض انفرادی نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ یہ پوری پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے ایک خطرناک مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ میڈیا ماہرین کے مطابق، موجودہ انڈسٹری میں درج ذیل رجحانات تشویش کا باعث ہیں:
وائرل ہونے کی لت: پروڈیوسرز اور اینکرز دانستہ طور پر شوز میں ایسی حرکات کو فروغ دے رہے ہیں جو کلپس کی صورت میں کاٹ کر یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر وائرل کی جا سکیں۔
نجی زندگی کا تماشا: سکرین پر اب ٹیلنٹ اور معلوماتی گفتگو کی جگہ نجی زندگی، طلاقوں، آڈیو لیکس اور بیڈروم کی کہانیوں کو "کونٹینٹ” کے طور پر بیچا جا رہا ہے۔
پیشہ ورانہ حدود کا فقدان: پرائیویٹ زندگی اور پبلک براڈکاسٹ کے درمیان موجود اخلاقی لکیر کو ریٹنگز کی اندھی دوڑ میں مکمل طور پر مٹا دیا گیا ہے۔
حرفِ آخر
پیمرا کی جانب سے چینل کو نوٹس جاری کرنا بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ محض جرمانوں سے اس اخلاقی زوال کو نہیں روکا جا سکتا۔
پاکستانی ٹی وی چینلز کو خاندانی اقدار اور تہذیب کے دائرے میں لانے کے لیے ٹی وی مالکان، پروڈیوسرز اور خود ناظرین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سکرین کو سنسنی خیزی کے بجائے ایک بار پھر معیاری تفریح کا ذریعہ بنایا جا سکے۔



