اہم خبریں

صرف ایک انجکشن سے پیدائشی بہرے پن کا کامیاب علاج

اندرونی کان میں لگائے گئے صرف ایک انجکشن کے ذریعے مریضوں میں پیدائشی بہرے پن کا کامیاب علاج ہوا اور محض چند ہفتوں میں دوبارہ سننا شروع کر دیا ہے.

طبی سائنس کی دنیا سے ایک انتہائی امید افزا اور انقلاب آفرین خبر سامنے آئی ہے۔ ایک نئی ‘جین تھراپی’ (Gene Therapy) کی بدولت پیدائشی طور پر بہرے پن کا شکار افراد کے لیے زندگی میں پہلی بار آوازیں سننے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ 

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، اندرونی کان میں لگائے گئے صرف ایک انجکشن کے ذریعے مریضوں میں پیدائشی بہرے پن کا کامیاب علاج ہوا اور محض چند ہفتوں میں دوبارہ سننا شروع کر دیا ہے.

تحقیق کا پس منظر اور ‘OTOF’ جین کا کردار

یہ تحقیق سویڈن کے مشہور طبی ادارے ‘Karolinska Institutet’ اور چین کے مختلف ہسپتالوں کے محققین کی مشترکہ کاوش ہے، جس کے نتائج حال ہی میں مشہور طبی جریدے Nature Medicine میں شائع ہوئے ہیں۔ یہ مطالعہ خاص طور پر ان مریضوں پر کیا گیا جو ایک مخصوص جینیاتی نقص کا شکار تھے۔

انسانی کان کے اندر ایک جین پایا جاتا ہے جسے OTOF (Otoferlin) کہا جاتا ہے۔ یہ جین ایک خاص پروٹین بنانے کا ذمہ دار ہے جو اندرونی کان (Cochlea) سے دماغ تک آواز کے سگنلز پہنچانے کا کام کرتا ہے۔

جن بچوں کے ڈی این اے میں اس جین کی خرابی (Mutation) ہوتی ہے، ان کا کان آواز تو موصول کرتا ہے لیکن دماغ تک پیغام نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ پیدائشی طور پر مکمل بہرے پن کا شکار ہوتے ہیں۔

 

علاج کا طریقہ کار (جین تھراپی)

 

سائنسدانوں نے اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ایک مصنوعی وائرس (AAV) کا استعمال کیا، جو ایک صحت مند OTOF جین کی کاپی کو اپنے ساتھ براہ راست اندرونی کان تک لے کر جاتا ہے۔

یہ دوا کان کی بنیاد پر موجود ایک باریک جھلی (جسے Round Window کہا جاتا ہے) کے ذریعے صرف ایک انجیکشن کی صورت میں دی گئی۔ اس عمل کا بنیادی مقصد خراب جین کی جگہ درست جین کو خلیوں میں داخل کرنا تھا تاکہ جسم خود بخود وہ پروٹین بنانے لگے جو سننے کے عمل کے لیے ناگزیر ہے۔

 

کلینیکل ٹرائل کے حیران کن نتائج

 

اس تحقیق میں 1 سے 24 سال کی عمر کے 10 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جو پیدائشی طور پر اس جینیاتی نقص کا شکار تھے۔ اس ٹرائل کے نتائج انتہائی شاندار اور تیز رفتار ثابت ہوئے:

 علاج کے محض ایک ماہ کے اندر ہی زیادہ تر مریضوں کی قوتِ سماعت بحال ہونا شروع ہو گئی۔

 چھ ماہ کے بعد تمام 10 مریضوں میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ اوسطاً، وہ مریض جو علاج سے پہلے صرف 106 ڈیسیبل (انتہائی اونچی اور شور والی آواز) ہی محسوس کر پاتے تھے، وہ علاج کے بعد 52 ڈیسیبل تک کی عام اور دھیمی آوازیں سننے کے قابل ہو گئے۔

5 سے 8 سال کی عمر کے بچوں میں اس کے سب سے ڈرامائی نتائج سامنے آئے۔ مث ماضی میں اس طرح کے چھوٹے تجربات صرف بچوں پر ہوئے تھے، لیکن اس ٹرائل نے ثابت کیا کہ یہ طریقہ علاج نوعمروں اور بالغ افراد کے لیے بھی کارآمد ہے۔

 

کیا اس علاج کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس (Side Effects) ہیں؟

 

تحقیق کے دوران یہ تھراپی محفوظ اور قابلِ برداشت پائی گئی۔ 6 سے 12 ماہ کے فالو اپ کے دوران کوئی سنگین یا خطرناک مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ چند مریضوں میں صرف خون کے سفید خلیوں (Neutrophils) کی تعداد میں وقتی اور معمولی کمی دیکھی گئی، جو طبی لحاظ سے کوئی سنگین خطرہ نہیں ہے۔

 

حقیقت پسندانہ پہلو: کیا یہ ہر قسم کے بہرے پن کا کامیاب علاج ہے؟

 

بطور ایک درست معلومات فراہم کرنے والے اسسٹنٹ کے، یہ واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ یہ علاج فی الحال صرف ایک مخصوص جینیاتی بہرے پن (OTOF Mutation) کے لیے مؤثر ثابت ہوا ہے۔ یہ دنیا بھر میں موجود بہرے پن کی ہر قسم—مثلاً عمر بڑھنے کے ساتھ سماعت کا کمزور ہونا، یا کسی حادثے، انفیکشن اور شور کی وجہ سے کان کے پردے یا خلیوں کا خراب ہو جانا—کا علاج نہیں ہے۔

مستقبل کی امیدیں

پیدائشی بہرے پن کا کامیاب علاج کا یہ تجربہ ہزاروں خاندانوں کے لیے یقیناً ایک معجزے سے کم نہیں جن کے بچے ایک مخصوص جینیاتی نقص کی وجہ سے ساری زندگی خاموش دنیا میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سائنس کی یہ ترقی ہمیں بتاتی ہے کہ جینیاتی سطح پر کام کر کے ہم مستقبل میں مزید ناقابلِ علاج سمجھی جانے والی بیماریوں پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button