
پاکستان کے سب سے بڑے نیوز چینل ‘جیو نیوز’ کی کوریج اور نشریاتی ترجیحات اکثر عوامی اور قانونی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔
ایک طرف یہ چینل ریٹنگز میں سب سے آگے رہتا ہے، تو دوسری جانب قومی پالیسی، صحافتی اخلاقیات اور معاشرتی اقدار کو پامال کرنے کے حوالے سے اس کی تاریخ تنازعات سے بھری پڑی ہے۔
حال ہی میں بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کی وفات پر پیمرا کا نوٹس، ماضی میں سابق خاتونِ اول کے انتہائی نجی معاملات کو ٹی وی پر زیرِ بحث لانا اور اسرائیلی قیادت کی تقاریر کو نمایاں کوریج دینا—یہ سب وہ معاملات ہیں جو چینل کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
1. آشا بھوسلے کی وفات اور قانون کی خلاف ورزی (اپریل 2026)
12 اپریل 2026 کو مشہور بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال کے بعد، جیو نیوز نے اپنی خبروں میں ان کے گانے اور بھارتی فلموں کے کلپس نشر کیے۔ اس اقدام پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے فوری ایکشن لیتے ہوئے 13 اپریل کو چینل کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔
قانون کی خلاف ورزی: پیمرا کے مطابق یہ اقدام سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2018 کے اس فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے تحت پاکستانی چینلز پر ہر قسم کے بھارتی مواد کی نشریات پر مکمل پابندی عائد ہے۔
عوامی ردعمل: اگرچہ جیو نیوز کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر دفاع کیا کہ "فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی”، لیکن عوامی حلقوں اور ناقدین نے شدید تنقید کی کہ جب بھارت نے دہائیوں سے پاکستانی فنکاروں اور مواد پر پابندی لگا رکھی ہے تو ایک پاکستانی چینل ملکی اعلیٰ عدالت کے احکامات کو کیوں روند رہا ہے۔
2. اخلاقی حدود کی پامالی: بشریٰ بی بی اور شاہزیب خانزادہ کا شو
صحافت میں اخلاقی گراوٹ کس حد تک جا سکتی ہے، اس کی بدترین مثال جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں دیکھنے کو ملی۔
نجی زندگی کا تماشا: اس شو میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کا انٹرویو نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے قومی ٹیلی ویژن پر بشریٰ بی بی کے "مخصوص ایام” (menstrual cycle) اور دورانِ عدت نکاح جیسے انتہائی حساس، شرعی اور پرائیویٹ معاملات پر کھلے عام گفتگو کی گئی۔
زرد صحافت: پاکستانی معاشرے میں میاں بیوی کے نجی معاملات کو سرِعام ٹی وی پر ڈسکس کرنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس انٹرویو نے پورے ملک میں شدید غم و غصے کو جنم دیا اور اسے "زرد صحافت” (Yellow Journalism) کی بدترین شکل قرار دیا گیا جہاں سستی شہرت کے لیے ایک خاتون کے پردے اور ذاتی زندگی کی دھجیاں اڑائی گئیں۔
3. اسرائیلی پارلیمنٹ اور نیتن یاہو کی نشریات کو کوریج
جیو نیوز پر اکثر بین الاقوامی خبروں کی آڑ میں ایسا مواد کوریج پاتا ہے جو براہ راست پاکستانی عوام کی جذباتی اور ریاستی حساسیت سے متصادم ہے۔
اسرائیلی قیادت کو ایئر ٹائم: فلسطین اور غزہ میں جاری شدید تنازعات اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے باوجود، جیو نیوز پر کئی مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی تقاریر، بیانات اور اسرائیلی پارلیمنٹ (Knesset) کی کارروائیوں کی فوٹیج کو نمایاں کوریج دی گئی۔
اسرائیلی پارلیمنٹ سے براہ راست، جیو نیوز پر pic.twitter.com/mF8vNYs0Zt
— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) October 13, 2025
قومی بیانیے سے انحراف: چونکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ریاستی و عوامی سطح پر فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے، اس لیے ایک پاکستانی چینل پر غزہ پر حملے کرنے والے اسرائیلی لیڈران کو بغیر کسی فلٹر کے بریکنگ نیوز میں دکھانا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
4. دیگر متنازعہ معاملات
ان نمایاں واقعات کے علاوہ درجنوں اور ایسے معاملات ہیں جو اس ادارے کی پالیسیوں کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں:
قومی اداروں سے محاذ آرائی: ماضی میں اپنے ایک نامور اینکر پر حملے کے بعد بغیر کسی ثبوت کے قومی سلامتی کے ادارے کے اس وقت کے سربراہ کی تصویر گھنٹوں سکرین پر چلا کر میڈیا ٹرائل کرنا۔
سنسنی خیزی (Sensationalism): حساس عدالتی فیصلوں یا سیاسی خبروں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر صرف سنسنی پھیلانے کے لیے بریک کرنا۔
پیمرا کی سمت کا تعین کون کرے گا؟
آزادیِ صحافت ایک جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے، لیکن اس کے ساتھ بھاری ذمہ داری بھی مشروط ہے۔ جیو نیوز کی جانب سے "سب سے پہلے خبر” دینے کی دوڑ میں ملکی قوانین (بھارتی مواد پر پابندی)، معاشرتی اقدار (خواتین کے نجی معاملات کی تشہیر) اور قومی حساسیت (اسرائیلی قیادت کی کوریج) کو پسِ پشت ڈالنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹی وی چینلز کے اندر ایک مؤثر اور اخلاقی طور پر مضبوط ایڈیٹوریل بورڈ کی اشد ضرورت ہے۔
پیمرا کو چاہیے کہ وہ محض علامتی نوٹسز جاری کرنے کے بجائے میڈیا کے لیے ایسے ٹھوس قواعد و ضوابط کو یقینی بنائے تاکہ آزادیِ اظہارِ رائے کے نام پر مادر پدر آزادی اور اخلاقی گراوٹ کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔



