
آج اتوار 19 اپریل 2026 کو جہلم کی مشین محلہ میں واقع انجینئر مرزا کی قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی کے باہر فائرنگ ہوئی اور حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا۔ تاہم انجینئر مرزا اور ان کے طالبعلم محفوظ رہے۔
یہ واقعہ اس لیے مزید تکلیف دہ ہے کیوں کہ صرف دو ماہ قبل اسی اکیڈمی میں ایک اور قاتلانہ حملے کی کوشش ہو چکی تھی۔
فروری 2026 اور انجینئر مرزا پر قاتلانہ حملہ
جہلم میں مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر ان کی قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی میں ایک درس کے اختتام پر حملہ ہوا۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ شرکاء تصویر بنوانے کے لیے رکے ہوئے تھے۔
ایک شخص نے اچانک انجینئر مرزا کا کالر پکڑ کر مکے مارے، ان کا عمامہ زمین پر پھینکا، اور دونوں ہاتھوں سے ان کا گلہ دبانے کی کوشش کی، جبکہ بلند آواز میں نعرے بازی بھی کی۔
ملزم ایبٹ آباد کا 26 سالہ نوجوان تھا جس نے تصویر کے بہانے اکیڈمی میں قدم رکھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ وہ صبح 9 بجے اکیڈمی میں داخل ہوا اور سیشن کے اختتام تک انتظار میں بیٹھا رہا۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ حملے کے دوران اس نے تحریک لبیک پاکستان کے نعرے لگائے، تاہم ٹی ایل پی نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
اگست 2025 — جیل کی سلاخیں
25 اگست 2025 کو جہلم پولیس نے انجینئر مرزا کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا اور ان کی اکیڈمی کو سیل کر دیا گیا۔ ان پر توہین مذہب کے قوانین کے تحت مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور صحابہ کرام کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دینے کے الزامات لگائے گئے۔
بعد ازاں انہیں ڈسٹرکٹ جیل جہلم سے حافظ آباد اور پھر اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ 3 دسمبر 2025 کو لاہور ہائی کورٹ (راولپنڈی بنچ) نے انہیں ضمانت دی۔
اگست 2023 — پانچواں حملہ
اگست 2023 میں گجرات سے تعلق رکھنے والے علی حسن نے چاقو لے کر جہلم اکیڈمی میں گھسنے کی کوشش کی۔ اسے گارڈز اور اکیڈمی کے دیگر اراکین نے قابو کر لیا۔ یہ ایک اور واضح اشارہ تھا کہ حملے منصوبہ بند ہیں اور خطرہ حقیقی ہے۔
مارچ 2021 — چاقو کا زخم
مارچ 2021 میں انجینئر مرزا کی ہفتہ وار کلاس کے دوران ایک شخص نے چاقو سے حملہ کیا جس سے انجینئر صاحب کے بازو پر زخم آیا۔ حملہ آور شہزاد علی لاہور کا رہائشی تھا۔ پولیس نے دو ملزمان گرفتار کیے اور مقدمہ درج کیا۔
اکتوبر 2017 — پہلا قاتلانہ حملہ
انجینئر مرزا پر پہلا قاتلانہ حملہ اکتوبر 2017 میں ہوا تھا، اس کے بعد مارچ 2021 میں دوسری بار چاقو سے حملہ کیا گیا جس میں حملہ آور لاہور سے جہلم آیا تھا۔ یعنی 2017 سے 2026 تک — تقریباً نو سال میں چھ بار قاتلانہ حملے۔
عدم برداشت کا پھیلتا سایہ
آج کے پاکستان میں علمی اختلاف کا جواب مکالمے سے نہیں، بلکہ چاقو، ہاتھوں کی گرفت، اور نعروں سے دیا جاتا ہے۔
ملزمان گرفتاری کے بعد یہی کہتے ہیں کہ انجینئر مرزا "لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں” — گویا اختلاف رائے کی سزا موت ہے۔
یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں — مارچ 2021، 2017، اور مختلف موقعوں پر ہونے والے حملے ثابت کرتے ہیں کہ عدم برداشت کا یہ سلسلہ ایک منظم رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
جب تک معاشرے میں یہ یقین موجود رہے گا کہ "جسے میں گمراہ سمجھتا ہوں، اسے خاموش کرنا میرا فرض ہے” — یہ سلسلہ جاری رہے گا۔



