اہم خبریںپاکستان

جب جب پاکستان امریکہ کی مدد کرے حالات بگڑ کیوں جاتے ہیں؟

تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ محض اتفاق نہیں، جب جب پاکستان امریکہ کی مدد کو نکلا ، بھاری قیمت چکائی۔

جب بھی پاکستان امریکہ کی مدد کرتا ہے، پاکستان کے بعد میں حالات بگڑ جاتے ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ آئیے تاریخ کے ورق پلٹیں۔

1971 جب پاکستان امریکہ کے کام آیا لیکن کام نکلنے پر امریکہ بدل گیا

 

1971 میں رچرڈ نکسن کے دور میں پاکستان نے چین کے ساتھ خفیہ راستے قائم کرنے میں امریکہ کی مدد کی۔ ہنری کسنجر اسلام آباد سے بیجنگ گئے۔ اس اقدام نے عالمی سیاست کا رخ ہی بدل دیا۔ ل

یکن اس کے فوراً بعد کیا ہوا؟ 1971 کی جنگ کے دوران امریکہ کا جھکاؤ بھارت کی طرف زیادہ رہا۔ یعنی جب واشنگٹن نے چین سے اپنا مطلب نکال لیا تو پاکستان کو سائیڈ لائن کر دیا گیا۔

روس کے افغانستان سے انخلاء میں پاکستان کا کردار

 

اب آیا 1979سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ پاکستان فرنٹ لائن اتحادی بن گیا اور اس نے افغان مجاہدین کی مالی معاونت، تربیت اور انہیں مسلح کرنے میں امریکہ کی مدد کی۔

اس دوران اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے گئے، لیکن سوویت انخلا کے بعد امریکہ کی دلچسپی ختم ہو گئی۔

اس دوران پاکستان کو افغان مہاجرین کی صورت میں لاکھوں افغانیوں کو پناہ دینا پڑی اور یہ سلسلہ رواں سال آکر ختم ہوا۔ لیکن پاکستان نے اس ساری مہمان نوازی کی بہت قیمت چکائی ہے۔

1990 میں امریکہ نے پریسلر ترمیم کے ذریعے پابندیاں عائد کر دیں اور پاکستان کے جوہری پروگرام کو جواز بنا کر فوجی امداد روک دی۔ یوں شراکت داری معطل ہو گئی۔

نائن الیون کے بعد پاکستان فرنٹ لائن اتحادی

 

پھر آیا 2001—نائن الیون کے بعد پاکستان ایک بار پھر اہم امریکی اتحادی ٹھہرا۔ فوجی اڈے، انٹیلیجنس، لاجسٹکس—سب کچھ دیا گیا۔ دو دہائیوں کے دوران امریکی امداد کے طور پر ایک بار پھر اربوں ڈالر آئے، لیکن اس کی قیمت کیا چکانی پڑی؟ پاکستان کے اندر عسکریت پسندی میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ دسیوں ہزار جانیں ضائع ہوئیں۔ ملک اس دہشت گردی کی قیمت آج بھی چکا رہا ہے۔

اور 2021 میں امریکہ کسی پائیدار انتظام کے بغیر ہی افغانستان سے نکل گیا، اور پاکستان آج تک اس کے سنگین نتائج بھگت رہا ہے۔ آج پاکستان کے برادر اسلامی ملک افغانستان کے ساتھ حالات خراب ہونے کی بڑی وجہ وہی افغان طالبان ہیں جو امریکہ کے بنائے گئے تھے۔ اب امریکہ انہیں مسلح کر کے خود نکل گیا تو پاکستان اس کی قیمت چکا رہا ہے۔

ایک بار پھر ثالث کا کردار اور پاکستان

 

اب آج کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے ملکی معاملات ایک سائیڈ رکھ کر تمام توجہ اس ثالثی پر مرکوز ہے۔

دونوں ممالک میں ملاقات کا ایک دور ہو چکا دوسرا دور منگل سے متوقع ہے۔ امریکی حکومت اس جنگ سے فیس سیونک چاہ رہی ہے  جو اسے پاکستان دلا رہا ہے۔

دیکھیں آنے والے دنوں میں پاکستان امریکہ تعلقات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ کیونکہ تاریخ یہی رہے کہ جب جب پاکستان امریکی کام آیا بعد میں اس کی بھاری قیمت چکائی۔ اور جب پاکستان یہ قیمت چکا رہا ہوتا ہے، تب امریکہ خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button