اہم خبریں

زمین کا عالمی دن: محض کیلنڈر کا ایک دن یا طرزِ زندگی بدلنے کا پیغام؟

مشہور مقولہ ہے کہ "ہم نے یہ زمین اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں نہیں پائی، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں سے ادھار لی ہے۔"

آج 22 اپریل ہے اور دنیا بھر یومِ ارض (Earth Day) یعنی زمین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ہم ہر سال یہ دن مناتے ہیں، سوشل میڈیا پر چند پوسٹس لگاتے ہیں، ماحولیات پر گفتگو کرتے ہیں، شاید ایک آدھا پودا بھی لگا لیں، اور پھر اگلے ہی دن اپنی اسی تیز رفتار، مشینی زندگی میں واپس لوٹ جاتے ہیں۔

لیکن آج کے دن ذرا چند لمحوں کے لیے رک کر سوچیے: کیا اس سیارے کے ساتھ ہمارا رشتہ صرف کیلنڈر کے ایک دن کا محتاج ہے؟

ہم جس زمین پر چلتے ہیں، سانس لیتے ہیں اور اپنے خواب بنتے ہیں، کیا ہم نے کبھی اس کی خاموش چیخوں کو سننے کی کوشش کی ہے؟

ہماری سب سے بڑی غلط فہمی

 

انسانی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ (Tragedy) یہ ہے کہ ہم نے خود کو اس زمین کا "مالک” اور "فاتح” سمجھ لیا ہے۔ ہم نے ندیوں، پہاڑوں، اور جنگلوں کو محض ایسے "وسائل” سمجھا جنہیں اپنی ہوس مٹانے کے لیے بے دردی سے نچوڑا جا سکتا ہے۔

حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہم اس زمین کے مالک نہیں، بلکہ محض اس کے امین (Trustees) اور کرایہ دار ہیں۔

مشہور مقولہ ہے کہ "ہم نے یہ زمین اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں نہیں پائی، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں سے ادھار لی ہے۔”

ذرا سوچیں، کوئی کرایہ دار اس گھر کو تباہ کیوں کرے گا جس میں اسے اپنے بچوں کو بھی پروان چڑھانا ہو؟ پھر ہم اتنی بے حسی سے اپنے ہی گھر کی بنیادیں کیوں کھوکھلی کر رہے ہیں؟

فطرت کی خاموش بغاوت

 

جب ہم فیکٹریوں کا زہریلا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہیں، یا سمندروں کو پلاسٹک کے کچرے سے بھر دیتے ہیں، تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ہم اپنی موت کا سامان کر رہے ہیں۔

زمین ہم سے بدلہ نہیں لے رہی، وہ صرف اپنا بگڑا ہوا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، پگھلتے گلیشیئرز، بے وقت کی طوفانی بارشیں اور تباہ کن سیلاب—یہ سب فطرت کی طرف سے بجنے والی خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔

ہم ایک بہت بنیادی سچائی بھول جاتے ہیں: زمین کو ہماری ضرورت نہیں، ہمیں زمین کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ماحولیات کو مکمل تباہ کر بھی دیں، تو زمین ختم نہیں ہوگی، وہ لاکھوں سالوں میں خود کو کسی نہ کسی نئی شکل میں ڈھال لے گی، لیکن ہم انسان اپنی بقا کھو بیٹھیں گے۔ ڈائنوسارز کی طرح ہم بھی محض تاریخ کا ایک باب بن کر رہ جائیں گے۔

شعور کی بیداری: ایک دن نہیں، ایک طرزِ زندگی

 

زمین کا عالمی دن منانے کا اصل مقصد صرف ایک دن کے لیے سبز رنگ پہننا یا درخت لگانا نہیں ہے، بلکہ اپنی سوچ کے زاویے کو بدلنا ہے۔ یہ اس تلخ حقیقت کا ادراک ہے کہ ہم جو پلاسٹک کی تھیلی آج بے خیالی میں سڑک پر پھینکتے ہیں، وہ سینکڑوں سال تک اس مٹی کا زہر بنی رہے گی۔

ہمیں اپنے طرزِ زندگی میں ‘ہمدردی’ (Empathy) کو شامل کرنا ہوگا۔ یہ ہمدردی صرف انسانوں کے لیے نہیں، بلکہ ان پرندوں، جانوروں اور سمندری حیات کے لیے بھی ہونی چاہیے جن کا گھر اور رزق ہم اپنی نام نہاد ترقی کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔

آئینے میں ایک سوال

 

آج جب ہم زمین کا عالمی دن  منا رہے ہیں، تو خود سے ایک سوال کیجیے: جب آج سے سو سال بعد انسانی تاریخ لکھی جائے گی، تو کیا ہمیں اس لالچی اور بے حس نسل کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے گھر کو آگ لگا دی؟ یا اس باشعور اور ذمہ دار نسل کے طور پر، جس نے وقت رہتے تباہی کا راستہ موڑ دیا اور آنے والے بچوں کے لیے ایک سرسبز، سانس لینے کے قابل دنیا چھوڑی؟

فیصلہ آپ کے اور میرے ہاتھ میں ہے۔ تبدیلی کا آغاز کسی بڑی عالمی کانفرنس سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا آغاز ہماری اپنی ذات، ہمارے اپنے گھر اور ہماری اپنی روزمرہ کی عادات سے ہوتا ہے۔ زمین بچانے کا وقت کل نہیں تھا، آج ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button