
کراچی ایک بار پھر خون سے رنگ گیا، اور اس بار نشانہ بنے ایک نوجوان اور پیشہ ور ڈاکٹر۔ 20 اور 21 اپریل 2026 کی درمیانی شب شہر کی مصروف شاہراہِ فیصل کے قریب ڈاکٹر سارنگ میمن کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
ڈاکٹر سارنگ میمن اپنی اہلیہ کے ساتھ رکشے میں گھر جا رہے تھے جب ایک کار میں سوار حملہ آوروں نے ان کا پیچھا کیا، انہیں روکا اور قریب سے گولیاں مار دیں۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر کو چار گولیاں لگیں جن میں سینے پر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی، جبکہ ان کی اہلیہ انہیں فوری طور پر اسپتال لے گئیں مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اس واقعے کو پولیس ابتدائی طور پر ٹارگٹ کلنگ قرار دے رہی ہے کیونکہ حملہ آوروں نے کوئی لوٹ مار نہیں کی اور سیدھا فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔
تفتیشی حکام مختلف پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کر رہے ہیں، جن میں ذاتی دشمنی بھی شامل ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ شہر کے حساس ترین علاقوں میں اس طرح کا حملہ سیکیورٹی صورتحال پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
ڈاکٹر سارنگ کے خاندان کی دکھی داستان
یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ ایک مکمل خاندان کے بکھرنے کی داستان ہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر سارنگ میمن کے ایک بھائی ماضی میں بے نظیر بھٹو کے قتل بعد ہونے والے پرتشدد واقعات میں بدین میں فائرنگ سے جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ دوسرے بھائی کا انتقال جامشورو میں دریا میں ڈوبنے سے ہوا تھا۔ اب تیسرے بھائی کا قتل اس خاندان پر تیسرا بڑا سانحہ بن کر ٹوٹا ہے۔
اس اندوہناک پس منظر نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایک ہی گھر کے تین افراد مختلف حادثات اور جرائم کا شکار کیسے ہو سکتے ہیں اور ریاست کہاں کھڑی ہے۔
یہ واقعہ شہریوں میں بڑھتے عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر رہا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو معاشرے میں خدمات انجام دے رہے ہیں جیسے کہ ڈاکٹرز۔
کراچی میں اس سے پہلے بھی ڈاکٹروں اور دیگر پیشہ ور افراد کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اور کئی کیسز آج تک حل طلب ہیں۔ ماہرین کے مطابق شہر میں جرائم کی نوعیت بدل رہی ہے جہاں مخصوص افراد کو ٹارگٹ کرنا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے جو ہر ایسے واقعے کے بعد اٹھتا ہے مگر جواب نہیں ملتا: کیا ڈاکٹر سارنگ میمن کے قاتل پکڑے جائیں گے، یا یہ کیس بھی کراچی کے ان گنت اندھے قتلوں میں شامل ہو جائے گا؟



