اہم خبریںپاکستان

ارشاد بھٹی کے اداکارہ میرا سے پوڈ کاسٹ میں نامناسب سوالات زیر تنقید

اداکارہ میرا اپنی آنے والی فلم "سائیکو" (Psycho) کی پروموشن کے سلسلے میں ارشاد بھٹی کے پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئی تھیں۔

حال ہی میں پاکستانی سینئر صحافی اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا ایک پوڈ کاسٹ کلپ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہے، جس میں انہوں نے معروف اداکارہ میرا سے ان کی نجی زندگی اور ماضی کے تنازعات کے حوالے سے انتہائی نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ سوالات کیے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی ہتک کا باعث بنا بلکہ اس نے مجموعی طور پر ارشاد بھٹی کے انٹرویو کرنے کے انداز اور پوڈ کاسٹ کلچر میں صحافتی اخلاقیات پر بھی ایک بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔

میرا کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ

 

اداکارہ میرا اپنی آنے والی فلم "سائیکو” (Psycho) کی پروموشن کے سلسلے میں ارشاد بھٹی کے پوڈ کاسٹ میں شریک ہوئی تھیں۔ توقع یہ تھی کہ گفتگو فلم کے موضوع، ان کے کردار اور کیریئر کے گرد گھومے گی۔ تاہم، ارشاد بھٹی نے اس کے برعکس میرا کی ذاتی زندگی پر حملے شروع کر دیے۔

انہوں نے میرا کے مبینہ پرانے رشتوں، ہمایوں سعید، کیپٹن نوید، عتیق الرحمٰن اور ان کی والدہ کے نام پر بننے والے ہسپتال جیسے حساس اور ذاتی نوعیت کے معاملات کو کریدنا شروع کیا۔

اس دوران میرا مسلسل یہ درخواست کرتی رہیں کہ وہ صرف اپنی فلم پر بات کرنا چاہتی ہیں اور انہوں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار کہا کہ "مجھے نہیں معلوم آپ کیا کہہ رہے ہیں، آپ بس میری فلم سائیکو دیکھیں۔”

لیکن ارشاد بھٹی مسلسل ذاتی نوعیت کے سوالات دہراتے رہے، یہاں تک کہ میرا نے اپنا مائیک اتارا اور انتہائی شائستگی سے یہ کہتے ہوئے انٹرویو چھوڑ کر چلی گئیں کہ "ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے بلایا، میں جا رہی ہوں۔”

 

ارشاد بھٹی کا مجموعی اندازِ گفتگو اور پوڈ کاسٹ کے تنازعات

 

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ارشاد بھٹی کے پوڈ کاسٹ یا ان کے اندازِ گفتگو پر سوال اٹھے ہوں۔ بحیثیت مجموعی ان کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے تو چند تلخ حقائق سامنے آتے ہیں:

"سخت سوالات” کی آڑ میں ذاتی حملے:

ارشاد بھٹی اپنے پوڈ کاسٹ کا عنوان عموماً سخت سوالات رکھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات یہ سوالات صحافتی تحقیق کی بجائے مہمان کی ذاتی زندگی کی ٹوہ لگانے یا انھیں جان بوجھ کر زچ کرنے پر مبنی ہوتے ہیں۔

میرا کے واقعے نے اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ ریٹنگز اور ویوز کی خاطر خواتین شخصیات کو غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوالات کے ذریعے ہدف بنایا جاتا ہے۔ ناقدین کے نزدیک یہ صحافت سے زیادہ کلک بیٹ (Clickbait) اور ڈیجیٹل ہراسانی کا ایک طریقہ معلوم ہوتا ہے۔

 ایک سینئر صحافی ہونے کے ناطے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملکی و سماجی مسائل یا مہمانوں کے کام پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ تاہم، حالیہ عرصے میں ان کے پوڈ کاسٹس عموماً متنازع بیانات اگلوانے، کسی کو نیچا دکھانے، یا پرانے تنازعات کو ہوا دے کر وائرل ہونے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

عوام اور صحافتی برادری کا ردعمل

سوشل میڈیا صارفین نے میرا کے تحمل، شائستگی اور باوقار انداز میں واک آؤٹ کرنے کی بھرپور تعریف کی ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ میرا نے جارحانہ پن دکھائے بغیر حدود کا تعین (Boundaries) واضح کر دیا۔

ارشاد بھٹی صحافت کریں غلاظت نہیں

 

ارشاد بھٹی اور میرا کے اس پوڈ کاسٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں سنسنی خیزی اور ویوز کی دوڑ نے بعض اوقات صحافتی اقدار کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ایک صحافی کا کام سوال پوچھنا اور حقائق سامنے لانا ضرور ہے، لیکن یہ سوالات ہتکِ عزت اور ذاتی زندگی میں بے جا مداخلت کے زمرے میں نہیں آنے چاہئیں۔ کسی کے ماضی کو کرید کر اسے ریٹنگز کے لیے استعمال کرنا صحافت نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button