
حال ہی میں وسطی یورپ میں ایک انتہائی پریشان کن واقعہ سامنے آیا ہے جس نے والدین اور صحت کے حکام میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ آسٹریا، سلوواکیہ اور جمہوریہ چیک میں بچوں کی معروف عالمی برانڈ ‘ہپ’ (HiPP) کی پراڈکٹ بچوں کی خوراک میں چوہے مار زہر نکل آیا
اس سنگین واقعے کے فوراً بعد ان ممالک کی سپر مارکیٹوں سے متعلقہ مصنوعات کو ہنگامی بنیادوں پر ہٹا دیا گیا ہے اور الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
تشویشناک واقعے کا آغاز اور ہنگامی اقدامات
اس واقعے کی شروعات اس وقت ہوئی جب آسٹریا میں ایک گاہک کی شکایت پر ایک مشکوک جار کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا گیا جس میں چوہے مار زہر کی تصدیق ہوئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے جمہوریہ چیک کے شہر برنو اور پڑوسی ملک سلوواکیہ میں بھی ایسے ہی زہر آلود جار سامنے آ گئے۔
متاثرہ پروڈکٹ بنیادی طور پر 5 ماہ کے بچوں کے لیے تیار کردہ گاجر اور آلو کا مرکب ہے جو 190 گرام کے شیشے کے جارز میں دستیاب ہوتا ہے۔
آسٹریا کی وزارتِ صحت کی جانب سے والدین، کنڈرگارٹنز اور ڈے کیئر سینٹرز کے لیے سخت احتیاطی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
حفاظتی اقدام کے طور پر کمپنی نے متاثرہ اسٹورز سے اپنی پروڈکٹس واپس منگوا لی ہیں اور صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خریدے گئے جارز واپس کر کے بغیر رسید کے بھی مکمل ریفنڈ حاصل کر سکتے ہیں۔
مجرمانہ سازش اور پولیس کی تحقیقات
ابتدائی تحقیقات اور کمپنی کے بیانات کے مطابق، یہ کسی مینوفیکچرنگ کی خامی یا فیکٹری کی غلطی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک سوچی سمجھی مجرمانہ کارروائی ہے۔ حکام اسے بلیک میلنگ یا بھتہ خوری کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ہپ (HiPP) انتظامیہ نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ فیکٹری سے نکلتے وقت ان کی تمام مصنوعات معیار کے مطابق اور مکمل طور پر محفوظ تھیں، اور یہ زہر آمیزی سپلائی چین کے دوران فیکٹری سے باہر کسی شرپسند عنصر کا کام ہے۔
اس وقت آسٹریا، سلوواکیہ اور جمہوریہ چیک کی پولیس اس سنگین معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہے تاکہ ان مجرموں کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے جنہوں نے بچوں کی خوراک میں چوہے مار زہر شامل کرکے بچوں کی جان خطرے میں ڈالی۔
مشکوک اور زہر آلود جارز کی پہچان کا طریقہ
اس خطرناک صورتحال کے پیشِ نظر، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے والدین کو مشکوک جارز کی پہچان کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ پولیس کے مطابق، زہر آلود جار کے نچلے حصے پر ایک سفید رنگ کا اسٹیکر لگا ہو سکتا ہے جس پر ایک سرخ رنگ کا دائرہ بنا ہوا ہے۔
والدین کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ بچوں کو خوراک دینے سے قبل جار کے ڈھکن اور سیفٹی سیل کا بغور معائنہ کریں۔
اگر نیا جار کھولتے وقت اس کی مخصوص ‘پاپ’ (Pop) کی آواز نہ آئے، ڈھکن پہلے سے ڈھیلا ہو یا اس کی سیل ٹوٹی ہوئی ہو، تو اسے ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔ مزید برآں، خوراک سے آنے والی کسی بھی قسم کی غیر معمولی یا خراب بو بھی خطرے کی علامت ہے۔
زہر کے خطرناک اثرات اور طبی ماہرین کا انتباہ
طبی ماہرین کے مطابق اس خوراک میں ‘بروماڈیولون’ (Bromadiolone) نامی زہر ملایا گیا ہے جو عام طور پر چوہے مار ادویات میں استعمال ہوتا ہے اور خون کو جمنے سے روکتا ہے۔
اگر کوئی بچہ بدقسمتی سے یہ زہر نگل لے، تو اس کے مسوڑھوں یا ناک سے خون بہنے، جسم پر نیل پڑنے اور فضلے میں خون آنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
اس زہر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ انہیں نمایاں ہونے میں دو سے پانچ دن لگ سکتے ہیں۔
اسی لیے صحت کے حکام نے زور دیا ہے کہ ایسی کوئی بھی علامت ظاہر ہونے یا معمولی سا شک گزرنے کی صورت میں بھی بغیر وقت ضائع کیے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
بچوں کی خوراک میں زہر کی موجودگی اور والدین کیلئے سبق
یہ واقعہ دنیا بھر کے والدین کے لیے ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ بچوں کی پیک شدہ خوراک کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
مصنوعات پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنے کے بجائے، اسے استعمال کرنے سے پہلے اس کی پیکنگ، سیل، کوالٹی اور ظاہری حالت کی مکمل تسلی کر لینا بچوں کی صحت اور زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔



