
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر اعلان کیا کہ امریکی حکومت کے نمائندے ایران کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے اسلام آباد، پاکستان روانہ ہو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اسی سلسلے میں فاکس نیوز کو بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اسلام آباد کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، اور ان کے داماد جیرڈ کُشنر بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ یوں اسلام آباد ٹاکس کا دوسرا راؤنڈ بھی پاکستان میں ہونے کے امکانات ہیں۔
𝗗𝗼𝗻𝗮𝗹𝗱 𝗝. 𝗧𝗿𝘂𝗺𝗽 𝗧𝗿𝘂𝘁𝗵 𝗦𝗼𝗰𝗶𝗮𝗹 𝗣𝗼𝘀𝘁 𝟬𝟴:𝟭𝟬 𝗔𝗠 𝗘𝗦𝗧 𝟬𝟰.𝟭𝟵.𝟮𝟲 pic.twitter.com/yD6IG0TqKB
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) April 19, 2026
اسلام آباد ٹاکس پہلے دور کی ناکامی
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والی اسلام آباد ٹاکس بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے، جو ایران کی جانب سے شروع ہونے والی جنگ کے سات ہفتے بعد ہوئے تھے۔ یہ مذاکرات 2015 کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات تھی اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اعلیٰ ترین سطح کی بات چیت تھی۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی جس میں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر بھی شامل تھے، جبکہ ایران کی طرف سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں موجود تھے۔
تنازع کی بنیادی وجوہات
اس مذاکراتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے اور تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ افزودہ یورینیم واپس کرنے سے انکار تھا، اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی محصول کے کھولنے کا مسئلہ بھی حل نہ ہو سکا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے بتایا کہ مذاکرات کے اہم موضوعات میں آبنائے ہرمز، جوہری معاملات، پابندیاں، ہرجانہ، اور ایران و علاقے کے خلاف جنگ کا خاتمہ شامل تھے۔
پاکستان کا کردار: ثالث اور میزبان
پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا اہم کردار ادا کیا ہے، اور پاکستانی حکام ایک دوسرے دور کے مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔
پاکستان کے وزیرِاعظم نے بھی اس سلسلے میں متعدد دورے کیے اور دونوں ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ پاکستان کی ثالثی سے ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔
آبنائے ہرمز: تازہ بحران
ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نہ ہٹائی تو ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دے گا۔
یہ آبنائے عالمی تیل کی تقریباً بیس فیصد ترسیل کا راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
ٹرمپ کا موقف: "معاہدہ ہو کر رہے گا”
صدر ٹرمپ نےکہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی "سنگین خلاف ورزی” کی ہے، لیکن ساتھ ہی کہا: "امن معاہدہ ہو گا، چاہے آسان طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے — یہ ہو کر رہے گا۔”
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ یہ جنگ "ختم ہونے کے بہت قریب ہے”، اور نیویارک پوسٹ کو کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور "اگلے دو دنوں میں ہو سکتا ہے۔”
اس کے علاوہ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلام آباد میں معاہدہ طے پا جائے تو وہ خود بھی پاکستان جا سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی عمل جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ ایرانی نمائندوں نے بھی مزید مذاکرات کے لیے محتاط آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی معنی خیز پیش رفت کے لیے امریکہ کو رعایتیں دینی ہوں گی۔
دونوں جانب سے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی جاری ہیں۔
دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر ٹکی ہیں ۔ کیا یہ دوسرا دور وہ تاریخی کامیابی لے کر آئے گا جو پہلے دور میں حاصل نہ ہو سکی؟ پاکستان کی سرزمین ایک بار پھر عالمی امن کے لیے ایک اہم میدانِ سفارت کاری بن چکی ہے۔



