ارشاد بھٹی کی پوڈ کاسٹ میں ادکارہ میرا سے نامناسب سوالات پر معافی
ارشاد بھٹی کی معافی مانگنے کے بعد صارفین نے ان کے عمل کو سراہا۔ تاہم صارفین نے ان کے سینئر صحافیوں سے بھی معافی کا مطالبہ کیا جو ایسی حرکتیں کھلے عام کرتے ہیں لیکن معافی نہیں مانگتے۔

صحافی ارشاد بھٹی کا ایک حالیہ پوڈ کاسٹ اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اس پوڈ کاسٹ میں ان کے مہمان اداکارہ میرا اور فلمسٹار شان تھے۔
یہ اداکار اپنی نئی آنے والی فلم سائیکو کی پروموشن کیلئے ارشاد بھٹی کی پوڈ کاسٹ کا حصہ بنے تھے۔
اس پوڈ کاسٹ کے دوران ارشاد بھٹی کی جانب سے ایک افسوسناک رویہ دیکھنے کو ملا۔ وہ فلم پر بات کرنے کی بجائے ادکارہ میرا سے ان کی نجی زندگی سے متعلق انتہائی نامناسب سوالات کرتے رہے۔
اداکارہ میرا انہیں بار بار فلم کی طرف لاتی رہیں لیکن ارشاد بھٹی پھر انہی سوالات پر منتقل ہو جاتے۔
اس پر اداکارہ میرا نے باوقار طریقے سے ارشاد بھٹی کی پوڈ کاسٹ سے واک آؤٹ کر دیا۔
پوڈ کاسٹ کا یہ کلپ وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین، ادبی و صحافتی حلقوں نے ارشاد بھٹی کے طرزِ صحافت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ساتھ ہی فلمسٹار میرا کی جانب سے باوقار انداز میں واک آؤٹ کرنے کے عمل کو بھی بہت سراہا گیا۔
ارشاد بھٹی کی معافی
ادبی و صحافتی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کے بعد صحافی ارشاد بھٹی نے اپنے رویے پر معافی مانگ لی۔
اپنے ایک ٹویٹ میں ارشاد بھٹی نے لکھا :
مجھ سے محبت کرنے والے،مجھے دیکھنے،سننے والے،مجھ سے بہتری کی امید رکھنے والےسب دوستوں کی دل آزاری اور قابلِ احترام فلمسٹار میرا صاحبہ سے معذرت۔۔ میرا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ ہر کوئی ہر لمحےسیکھ رہا ہوتا ہےاور جب کچھ بےدھیانی میں بھی غلط ہو جائےتو احساس ہونےکےبعد اُس پر معذرت کرلینی چاہیئے۔۔ اور ہاں اُن سب اپنوں کا شکریہ جنہوں نے مجھے یہ احساس دلایا۔۔
ارشاد بھٹی کی معافی مانگنے کے بعد صارفین نے ان کے عمل کو سراہا۔ تاہم صارفین نے ان کے سینئر صحافیوں سے بھی معافی کا مطالبہ کیا جو ایسی حرکتیں کھلے عام کرتے ہیں لیکن معافی نہیں مانگتے۔
شاہ زیب خانزادہ کا عدت کیس میں کردار
صحافی و اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے عدت کیس کے دوران بشریٰ بی بی کے شوہر خاور مانیکا کو نیشنل ٹی وی پر اپنے پرائم ٹائم شو میں غلاظت بکنے کا موقع تھا۔
اگر وہ چاہتے تو اس سے انکار کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اس گندگی کو مول لیا۔
کیس کا فیصلہ ہوا، ریورس ہوا اوراس سارے معاملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اس سب کو ٹرانسمیشن کا حصہ بنانے پر شاہزیب خانزادہ نے آج تک معافی نہیں مانگی۔
خواتین سے نامناسب سوالات کرنے والے سہیل وڑائچ
سہیل وڑائچ کے خواتین مشہور شخصیات سے کئے گئے انٹرویوز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اتنے قابل اعتراض کلپ ملیں گے جنہیں فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
ان کے قابل اعتراض کلپس کو سینئر صحافی کی اعلیٰ صحافتی اقدار سےجوڑ کر ایسے بھلا دیا جاتا ہے جیسے خواتین کا صرف ایک طبقہ ہی عزت کا حقدار ہے۔ بقیہ جو مقتدرہ حلقوں سے مخالف رائے رکھتے ہیں ان کی خواتین بارے کچھ بھی کہتے رہنا جائز ہے۔
پی ٹی وی پر بٹھائے گئے حکومتی صحافی
حکومت کی جانب سے رضوان رضی عرف رضی دادا جیسے کردار پاکستان ٹیلی ویژن پر بٹھائے جاتے ہیں جو مخالفین کی خواتین بارے دن رات غلاظت بکتے ہیں۔
اخلاقیات ترجیحات کی پابند نہیں ہوتیں اور ہر خاتون ہی عزت کی حقدار ہے۔ اس لئے شاہ زیب خانزادہ ہوں یا سہیل وڑائچ ماضی کے واقعات پر معافی ان کے قد کو بڑا کرے گی نہ کی چھوٹا۔



