اہم خبریںپاکستان

شہریوں کو ہراساں کرنے والے پیرا فورس اہلکار کڑے احتساب کے شکنجے میں

ناجائز کریک ڈاؤن اور تاجروں کو ساتھ جرائم پیشہ افراد کی طرح برتاؤ کرنے کی وجہ سے پیرا فورس شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔

صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں میں  پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کے اہلکاروں کی جانب سے شہریوں سے بدتمیزی کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خصوصاً  ناجائز کریک ڈاؤن اور تاجروں کو ساتھ جرائم پیشہ افراد کی طرح برتاؤ کرنے کی وجہ سے پیرا فورس شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔

یوں وہ فورس جو حکومتی احکامات کے نفاذ اور شہریوں کی سہولت کیلئے بنائی گئی تھی ، اب غنڈہ گردی کی استعارہ بنتی جارہی ہے۔

 پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) کے وہ اہلکار جو اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے شہریوں کو تنگ کرنے میں ملوث ہیں، اب حکومت کے ریڈار پر  آ گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جمعرات کو لاہور میں پیرا فورس کے چوتھے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فورس کے 4,000 افسران اور اہلکاروں کی مکمل چھان بین (Scrutiny) کا حکم دے دیا ہے۔

اہم فیصلے اور سخت سزائیں

 

اجلاس کے دوران یہ دو ٹوک فیصلہ کیا گیا کہ عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنے والے اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ لیے گئے اہم احکامات درج ذیل ہیں:

  • قید کی سزا: غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اور ادارے کا نام بدنام کرنے والے اہلکاروں کو اب محض چند دن کی حراست یا معطلی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، بلکہ انہیں 3 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

  • باڈی کیمرے: شفافیت کو یقینی بنانے اور شہریوں کو ہراساں کیے جانے سے بچانے کے لیے 30 جون تک تمام فیلڈ اہلکاروں کی وردیوں پر باڈی کیمرے (Body Cameras) نصب کیے جائیں گے۔

  • ڈیجیٹل مانیٹرنگ: اہلکاروں کی کارکردگی اور روزمرہ سرگرمیوں کو ’پیرا 360 ڈیش بورڈ‘ کے ذریعے مرکزی سطح پر مانیٹر کیا جائے گا۔

  • انٹیلی جنس اور وسل بلور سسٹم: محکمے کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کے لیے اندرونی انٹیلی جنس اور وسل بلور (Whistleblower) سسٹم کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔

شہریوں کا تحفظ اور ایماندار افسران کی حوصلہ افزائی

 

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ہر اہلکار کے سروس ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے ایماندار اور صاف شفاف ریکارڈ کے حامل افسران کو یقین دلایا کہ انہیں گھبرانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، البتہ کرپٹ اور عوام پر ظلم کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے گا۔

داغدار شہرت کے حامل افسران کو فوری طور پر ان کے بنیادی محکموں (Parent Departments) میں واپس بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

پیرا فورس کا پس منظر اور مستقبل کے اہداف

 

پیرا فورس کا قیام صوبے میں گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی، تجاوزات اور سرکاری و نجی زمینوں پر قبضے جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ فورس کو مزید موثر بنانے کے لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں جاری ہیں اور جون کے آخر تک اہلکاروں کی تعداد 7,000 تک پہنچ جائے گی۔

حکومت کا عزم ہے کہ اس فورس کو خالصتاً ایک منظم ریگولیٹری ادارہ بنایا جائے جو عوام کے لیے خوف کے بجائے سہولت اور قانون کی بالادستی کی علامت ہو۔ اس کیلئے یہ ایکشن وقت کی ضرورت تھا جو اب لے لیا گیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button