اہم خبریںپاکستان

پنجاب اسمبلی میں پبلک پٹیشنز کا باقاعدہ آغاز، عوام ووٹر کے ساتھ قانون ساز بن گئی

اب عام شہری محض تماشائی یا صرف ووٹر نہیں، بلکہ عملی طور پر 'قانون ساز' کا کردار ادا کرتے ہوئے براہ راست اپنے مسائل، تجاویز اور بل ایوان تک پہنچا سکیں گے۔

 ایک انتہائی اہم اور تاریخی اقدام کے تحت، پنجاب اسمبلی نے اپنے دروازے عوام کے لیے کھول دیے ہیں۔ اب عام شہری محض تماشائی یا صرف ووٹر نہیں، بلکہ عملی طور پر ‘قانون ساز’ کا کردار ادا کرتے ہوئے براہ راست اپنے مسائل، تجاویز اور بل ایوان تک پہنچا سکیں گے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت مئی 2026 میں ‘سٹینڈنگ آرڈر 2 آف 2026′ جاری کیا ہے، جس کے بعد پبلک پٹیشنز (عوامی درخواستوں) کو جمع کرانے، ان کی جانچ پڑتال اور انہیں نمٹانے کا ایک جامع اور باقاعدہ طریقہ کار وضع ہو گیا ہے۔

عوام اب قانون ساز کیسے؟

 

عام روایات میں عوام کا کام صرف اپنے نمائندوں (MPAs) کو منتخب کر کے اسمبلی بھیجنا ہوتا ہے، لیکن اس نئے نظام کے تحت عام شہری قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ اقدام صوبے میں ‘شراکتی طرزِ حکمرانی’ (Participatory Governance) کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اب کوئی بھی شہری حکومتی خامیوں، سروس ڈیلیوری کے مسائل یا کسی نئے قانون کی ضرورت پر براہِ راست ایوان سے رجوع کر سکتا ہے، جو انہیں جمہوری عمل میں ایک باقاعدہ شراکت دار بناتا ہے۔

درخواست جمع کرانے کا طریقہ کار اور شرائط

 

اس نئے نظام کے تحت عوام کی ایوان تک رسائی کو منظم اور موثر بنایا گیا ہے:

  • 200 دستخط کی شرط: کسی بھی فوری اور اہم عوامی نوعیت کے مسئلے پر ایوان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے درخواست پر کم از کم 200 شہریوں کے دستخط ہونا لازمی ہیں۔

  • لیڈ پٹیشنرز (Lead Petitioners): درخواست دہندگان میں سے زیادہ سے زیادہ 5 افراد کو بطور نمائندہ چنا جائے گا، جو پارلیمانی فورمز پر اس کیس کی پیروی کریں گے۔

  • طریقہ کار: شہری اپنی درخواستیں بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک (ہارڈ کاپی) یا پنجاب اسمبلی کے آفیشل ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے الیکٹرانک طور پر جمع کروا سکتے ہیں۔

  • پارلیمانی نمائندگی کا حق: عوام کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کمیٹی کے اجلاسوں میں خود شرکت کر کے اپنے موقف کا دفاع کریں یا اپنی درخواست کی وکالت کے لیے اسمبلی کے کسی بھی موجودہ رکن کو نامزد کر دیں۔

کون سی درخواستیں مسترد ہوں گی؟

 

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اسمبلی کا قیمتی وقت صرف سنجیدہ مسائل پر صرف ہو، کڑا معیار مقرر کیا گیا ہے۔ درج ذیل نوعیت کی درخواستیں قابلِ سماعت نہیں ہوں گی:

  • جن میں ہتک آمیز اور غیر اخلاقی مواد شامل ہو۔

  • فرضی کہانیاں یا مفروضوں پر مبنی شکایات۔

  • عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات (Sub-judice matters)۔

  • ذاتی نوعیت کے مسائل یا کسی فردِ واحد کے خلاف ذاتی رنجش۔

  • ایسے معاملات جن پر اسمبلی یا اس کی کمیٹیاں پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہوں۔

درخواست کا ایک واضح، واحد اور اہم عوامی موضوع پر ہونا لازمی ہے جس کا براہ راست تعلق حکومتی محکموں سے ہو۔

سکروٹنی کمیٹی اور ادارہ جاتی عمل

عوامی درخواستوں پر فوری عمل درآمد کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی خاکہ تیار کیا گیا ہے:

  1. کمیٹی کا قیام: ڈپٹی سپیکر کی سربراہی میں ایک ‘سکروٹنی کمیٹی’ قائم کی گئی ہے۔

  2. وقت کی پابندی: یہ کمیٹی ہر درخواست کا تفصیلی جائزہ لے گی اور 30 دن کے اندر اپنی سفارشات جمع کرانے کی پابند ہوگی۔

  3. مستقل اجلاس: کمیٹی کے لیے لازم ہے کہ وہ زیرِ التوا عوامی درخواستوں کو نمٹانے کے لیے ماہانہ کم از کم ایک اجلاس ضرور بلائے۔

  4. حتمی فیصلہ: سکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں سپیکر یہ فیصلہ کرے گا کہ درخواست کو کس متعلقہ قائمہ کمیٹی یا انتظامی محکمے کو بھیجنا ہے اور اس کے حل کے لیے کیا ٹائم لائن مقرر کرنی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ایک سے زائد محکموں سے متعلق ہوا تو سپیکر ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے سکتا ہے۔

اس اقدام کی اہمیت

 

ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں پارلیمانی پٹیشن کا نظام ایک عام روایت ہے، لیکن پاکستان اور خاص طور پر پنجاب کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور سنگِ میل کی حیثیت رکھنے والا قدم ہے۔

اس کے ذریعے حکمرانوں اور عوام کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تاریخی پیش رفت عام آدمی کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ان کی آواز اب طاقت کے ایوانوں میں براہِ راست سنی جا سکتی ہے، جس سے نچلی سطح پر جمہوریت مزید مضبوط ہوگی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button