پیارے آقا ﷺ 25

وہ کنواں جہاں پیارے آقا ﷺ کی انگوٹھی گم ہو گئی

 مسجدِ قباء کے مغربی جانب واقع تاریخی بئرِ اریس اسلامی تاریخ اور سیرتِ نبوی ﷺ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ کو جنت کی بشارت دی گئی، جبکہ اسی کنویں سے ایک اور تاریخی واقعہ بھی وابستہ ہے۔

پیارے آقا ﷺ کی وہ چاندی کی انگوٹھی، جس پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ نقش تھا، حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں اسی کنویں میں گر گئی اور طویل تلاش کے باوجود دوبارہ نہ مل سکی۔

اسی نسبت سے بئرِ اریس کو بئرِ خاتم یعنی انگوٹھی والا کنواں بھی کہا جاتا ہے، جبکہ بعض تاریخی و مذہبی مراجع میں اسے بئرِ نبی کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری اور تاریخی ذرائع کے مطابق یہ مدینہ منورہ کے نمایاں اسلامی آثار میں شمار ہوتا رہا ہے اور مسجدِ قباء کی توسیع کے بعد اس کا مقام مسجد کے وسیع تر احاطے کا حصہ بن چکا ہے۔

 

بئرِ اریس کا نام کہاں سے آیا؟

 

بئرِ اریس کا اصل نام اس کنویں سے وابستہ قدیم نسبت کی وجہ سے بتایا جاتا ہے۔ بعض سعودی تاریخی ذرائع کے مطابق اریس ایک شخص کا نام تھا اور کنویں کو اسی نسبت سے بئرِ اریس کہا گیا۔ یہ کنواں عہدِ نبوی ﷺ سے بھی پہلے موجود تھا اور اس کی تعمیر یا ابتدائی کھدائی کی درست تاریخ معلوم نہیں۔ بعد کے ادوار میں یہ کنواں مسجدِ قباء کے قریب مدینہ منورہ کے اہم تاریخی مقامات میں شمار ہونے لگا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بئرِ اریس قدیم زمانے کا کنواں تھا اور مسجدِ قباء سے تقریباً 38 میٹر مغرب میں واقع تھا۔ تاریخی روایات میں اس کے پانی کو بھی اہمیت حاصل رہی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے اس مقام سے تعلق کے واقعات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔

 

وہ دن جب تین عظیم صحابہؓ کو جنت کی بشارت ملی

 

بئرِ اریس کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت اس واقعے کی وجہ سے ہے جو صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے۔

صحیح بخاری کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ بئرِ اریس کے پاس تشریف فرما تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ آپ ﷺ کے پاس موجود تھے اور دروازے پر آنے والے صحابہؓ کے لیے اجازت طلب کر رہے تھے۔

سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دینے کے ساتھ جنت کی بشارت دی۔

اس کے بعد حضرت عمر فاروقؓ آئے۔ انہیں بھی رسول اللہ ﷺ کی جانب سے جنت کی بشارت دی گئی۔

پھر حضرت عثمان غنیؓ تشریف لائے۔ انہیں بھی جنت کی خوش خبری دی گئی، تاہم ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ انہیں ایک آزمائش یا مصیبت پیش آئے گی۔ یہ روایت بئرِ اریس کو خلفائے راشدینؓ کی تاریخ اور عہدِ نبوی ﷺ کی ایک انتہائی اہم یادگار سے جوڑتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بئرِ اریس کو محض ایک قدیم کنواں نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے ایسے مقام کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں خلافتِ راشدہ کے تین عظیم خلفاءؓ کے بارے میں ایک عظیم نبوی بشارت سے متعلق واقعہ پیش آیا۔

 

نبی کریم ﷺ کی مہر والی انگوٹھی اور بئرِ اریس

 

بئرِ اریس کی شہرت کا دوسرا بڑا سبب نبی کریم ﷺ کی چاندی کی انگوٹھی ہے۔

صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی تھی، جس پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ نقش تھا۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد یہ انگوٹھی حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس رہی، پھر حضرت عمر فاروقؓ کے پاس اور ان کے بعد حضرت عثمان غنیؓ کے پاس پہنچی۔

یہ انگوٹھی صرف ذاتی زینت کی چیز نہیں تھی بلکہ اسے رسول اللہ ﷺ کی سرکاری مہر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ آپ ﷺ کی جانب سے بھیجے جانے والے خطوط اور سرکاری مراسلت میں مہر کی ضرورت پیش آنے پر اسی نوعیت کی انگوٹھی استعمال کی جاتی تھی۔

حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں ایک دن آپ بئرِ اریس کے پاس موجود تھے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ نے انگوٹھی ہاتھ سے نکالی اور اسی دوران وہ کنویں میں گر گئی۔

حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے مطابق حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہؓ نے تین دن تک اس انگوٹھی کو تلاش کیا۔ کنویں کا پانی نکال کر بھی تلاش کی گئی، لیکن انگوٹھی نہ مل سکی۔

یہ واقعہ اتنا مشہور ہوا کہ بئرِ اریس کو بعد میں بئرِ خاتم یعنی انگوٹھی کا کنواں کہا جانے لگا۔

 

انگوٹھی کب گری تھی؟

 

تاریخی سعودی ذرائع کے مطابق انگوٹھی حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے تقریباً چھٹے سال، یعنی 30 ہجری کے آس پاس بئرِ اریس میں گری۔ انگوٹھی کی تین دن تک تلاش کیے جانے کا ذکر بھی صحیح بخاری کی روایت میں موجود ہے، تاہم وہ دوبارہ نہ مل سکی۔

بعض بعد کے مؤرخین نے انگوٹھی کے گم ہونے کے واقعے کو حضرت عثمانؓ کے دور میں آنے والے بڑے سیاسی و سماجی فتنوں سے علامتی طور پر جوڑا ہے، لیکن یہ ایک تاریخی تعبیر ہے، اسے نبوی پیش گوئی یا قطعی دینی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔ صحیح اور ثابت روایت اتنی ہے کہ انگوٹھی بئرِ اریس میں گری اور تلاش کے باوجود نہ مل سکی۔

 

کیا پیارے آقا ﷺ نے بئرِ اریس کا پانی استعمال فرمایا؟

 

سعودی پریس ایجنسی اور مدینہ منورہ کے تاریخی ذرائع کے مطابق بئرِ اریس کا تعلق رسول اللہ ﷺ سے متعدد روایات کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ ان ذرائع میں ذکر ہے کہ پیارے آقا ﷺ  نے اس کنویں کے پانی سے وضو فرمایا، اس کا پانی استعمال کیا اور اس کے کنارے تشریف فرما ہوئے۔

اسی تعلق کی وجہ سے بعض مراجع میں اسے بئرِ نبی بھی کہا گیا ہے۔ تاہم اس مقام کی سب سے مضبوط اور معروف حدیثی نسبت وہی ہے جس میں پیارے آقا ﷺ کا بئر کے پاس تشریف فرما ہونا اور حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے لیے جنت کی بشارت کا ذکر آتا ہے۔

 

قدیم زمانے میں بئرِ اریس کیسی تھی؟

 

تاریخی بیانات کے مطابق بئرِ اریس ایک گہرا اور پانی سے بھرپور کنواں تھا، جس کے اردگرد باغات اور کھیتی باڑی بھی موجود رہی۔ سعودی تاریخی رپورٹوں میں اسے پتھروں سے بنی قدیم ساخت کا کنواں قرار دیا گیا ہے، جبکہ مختلف زمانوں میں اس کی ساخت اور پانی تک رسائی کے لیے تبدیلیاں بھی کی گئیں۔

ایک سعودی تاریخی رپورٹ کے مطابق قرونِ وسطیٰ کے مؤرخین نے اس کنویں کی گہرائی، پانی کی سطح اور اطراف کی ساخت کا ذکر کیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے گرد تعمیرات ہوئیں، بعض ادوار میں سیڑھیاں بنائی گئیں اور یہ مقام مدینہ آنے والے زائرین کی تاریخی دلچسپی کا مرکز بھی رہا۔

 

آج بئرِ اریس کہاں ہے؟

 

یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ بئرِ اریس کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا تاریخی مقام تو باقی ہے، لیکن اصل کھلا کنواں اپنی پرانی صورت میں موجود نہیں۔

سعودی سرکاری مذہبی رہنمائی کے پلیٹ فارم کے مطابق بئرِ اریس مسجدِ قباء کے قریب واقع تھی اور مسجد کی توسیع کے باعث اسے ہٹا دیا گیا یا اس کا مقام توسیعی منصوبے میں شامل ہو گیا۔ اسی طرح سعودی تاریخی پلیٹ فارم Athar کے مطابق بئرِ اریس مسجدِ قباء کی جدید توسیع میں شامل ہو چکی ہے اور اس پر مغربی بیرونی صحن قائم ہے، جبکہ مقام کی تاریخی اہمیت کو محفوظ رکھا گیا ہے۔

یعنی آج زائرین کو وہاں ماضی کی طرح ایک کھلا، نمایاں اور اصل ساخت والا کنواں نظر نہیں آتا۔ اس کا تاریخی مقام مسجدِ قباء کے وسیع احاطے اور توسیعی منصوبے کا حصہ بن چکا ہے۔

یہ معاملہ مسجدِ قباء کے وسیع تر ترقیاتی منصوبے سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کے تحت مسجد اور اس کے گرد موجود تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی پر کام کیا گیا۔

سعودی ذرائع کے مطابق مسجدِ قباء کے گرد موجود 57 تاریخی مقامات، جن میں کنویں، باغات اور دیگر آثار شامل ہیں، کی بحالی اور تاریخی شناخت کے تحفظ کے لیے بھی منصوبے بنائے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں