برفیلے پہاڑ 2

آسمان میں چھپے برفیلے پہاڑ: کائنات کا وہ راز جسے قرآن نے صدیوں پہلے آشکار کیا

کائنات اپنے اندر بے شمار اسرار اور پیچیدگیاں چھپائے ہوئے ہے۔ ہم انسان جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی کی منازل طے کر رہے ہیں، کائنات کے ایسے حیرت انگیز راز ہم پر افشا ہو رہے ہیں جو عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔

لیکن حیرت کا مقام وہ ہوتا ہے جب ہمیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ جن سائنسی حقائق تک پہنچنے کے لیے آج کے انسان نے جدید ترین ریڈارز اور سیٹلائٹس کا سہارا لیا، وہ حقائق آج سے صدیوں پہلے ہی ایک مقدس کتاب میں پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دیے گئے تھے۔

ایسا ہی کائنات کا ایک دلفریب راز آسمان پر تیرتے بادلوں کی ساخت سے جڑا ہے۔

جدید سائنس کا مشاہدہ: بادلوں کی پہاڑ نما ساخت

 

جب ہم زمین سے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو بادل ہمیں روئی کے نرم گالوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ لیکن جب ہوائی جہاز یا خلائی کیمروں کے ذریعے ان کا بغور مشاہدہ کیا گیا تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آئی۔

سائنسی اعتبار سے بادلوں کی ایک بالکل درست وضاحت یہ سامنے آئی ہے کہ ژالہ باری (اولے) برسانے والے بادلوں کی ساخت انتہائی بلند و بالا ہوتی ہے اور وہ بالکل بڑے اور عظیم الشان پہاڑوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

ان بادلوں (جنہیں موسمیاتیات کی زبان میں Cumulonimbus کہا جاتا ہے) کے اندر برف کے بڑے بڑے تودے بنتے ہیں اور ان کی چوٹیاں ہزاروں فٹ کی بلندی تک جاتی ہیں، جو ہو بہو زمین پر موجود کسی دیوہیکل برفیلے پہاڑی سلسلے کا منظر پیش کرتی ہیں۔ انہیں برفیلے پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔

قرآن مجید کا حیرت انگیز انکشاف

اب اس جدید سائنسی دریافت کا موازنہ اس کلام سے کریں جو آج سے چودہ سو سال قبل ریگستانِ عرب میں نازل ہوا۔ اس وقت جب انسان کے پاس فضا میں پرواز کرنے اور بادلوں کو اوپر سے دیکھنے کا کوئی تصور تک موجود نہ تھا، قرآن مجید نے بادلوں کی اس ساخت کو ایک انتہائی خوبصورت اور سائنسی لحاظ سے درست انداز میں بیان کیا۔

قرآن پاک (سورۃ 24، آیت 43) میں ارشاد ہوتا ہے:

"اور آسمان سے جو ان میں اولوں کے پہاڑ ہیں ان میں سے اولے برساتا ہے پھر انہیں جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے۔”

یہ محض کوئی شاعرانہ استعارہ نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں یہ برفیلے پہاڑ کی ایک نہایت درست سائنسی تشریح ہے۔

 سائنس اور الہام کا خوبصورت امتزاج:

 

  • سائنسی حقیقت: اولے برسانے والے بادل حقیقت میں دیوہیکل پہاڑوں کی طرح بلند اور وسیع الجثہ ہوتے ہیں۔

  • قرآنی حقیقت: قرآن نے ان بادلوں کو واضح طور پر "آسمان کے پہاڑ” کہہ کر پکارا ہے جن سے اولے برستے ہیں۔

یہ بات انسانی عقل کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ آسمان پر تیرتے ان پوشیدہ پہاڑوں کا ذکر اس وقت کیا گیا جب کسی انسانی آنکھ نے ان کی اس حقیقی شکل کو نہیں دیکھا تھا۔

یہ کائنات کے ان بیسیوں رازوں میں سے ایک ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کائنات کا خالق وہی ہے جس نے یہ کلام نازل کیا، اور آج کی سائنس محض اس کلام میں چھپی نشانیوں کی تصدیق کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں