الجزیرہ انگلش 18

آزاد کشمیر احتجاج کے بعد الجزیرہ انگلش ویب سائٹ تک رسائی میں‌دشوری

پاکستان میں متعدد انٹرنیٹ صارفین نے اطلاع دی ہے کہ الجزیرہ انگلش کی ویب سائٹ تک رسائی ممکن نہیں رہی۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات سے متعلق الجزیرہ کی رپورٹنگ کو "زرد صحافت” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔

اگرچہ ہزاروں صارفین ویب سائٹ نہ کھلنے کی شکایت کر رہے ہیں، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) یا وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا کہ الجزیرہ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

 

تنازع کی ابتدا کیسے ہوئی؟

 

الجزیرہ نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر متعدد رپورٹس اور ویڈیوز نشر کیں جن میں انتخابی بائیکاٹ، احتجاج، سیاسی کشیدگی اور بعض حلقوں کی جانب سے انتخابی عمل پر اٹھائے گئے سوالات کو نمایاں کیا گیا۔

اس کے جواب میں وزارتِ اطلاعات نے الجزیرہ کی رپورٹنگ کو جانبدار، گمراہ کن اور زرد صحافت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں انتخابی عمل کی مکمل تصویر پیش نہیں کی گئی بلکہ چند واقعات کو بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا۔

وزارت کے مطابق ایسی رپورٹنگ عوام میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

 

 

صحافیوں نے کیا بتایا؟

 

وزارت کے بیان کے کچھ ہی دیر بعد معروف پاکستانی صحافی بے نظیر شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں براؤزر پر لکھا تھا:

"This site can’t be reached.”

بعد ازاں صحافی عامر ضیا نے بھی سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان میں الجزیرہ کی ویب سائٹ بند کر دی گئی ہے کیونکہ وہ بھی اس تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

اس کے بعد مختلف شہروں سے کئی صارفین نے بھی اسی قسم کی شکایات سامنے رکھیں۔

 

کیا واقعی الجزیرہ انگلش پر پابندی لگا دی گئی ہے؟

 

یہ سب سے اہم سوال ہے۔ اب تک PTA یا وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا جس میں واضح طور پر کہا گیا ہو کہ الجزیرہ انگلش کی ویب سائٹ کو پاکستان میں بلاک کر دیا گیا ہے۔

اسی لیے فی الحال یہ کہنا درست ہوگا کہ:

  • ویب سائٹ متعدد صارفین کے لیے قابلِ رسائی نہیں۔

  • لیکن اس کی وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔

ممکنہ طور پر یہ حکومتی پابندی، تکنیکی مسئلہ یا کسی اور نوعیت کی رکاوٹ ہو سکتی ہے، تاہم حتمی وجہ صرف متعلقہ حکام ہی واضح کر سکتے ہیں۔

 

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

 

الجزیرہ دنیا کے نمایاں بین الاقوامی خبر رساں اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی نشریات دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں دیکھی جاتی ہیں۔

اگر کسی بین الاقوامی نیوز پلیٹ فارم تک رسائی محدود ہوتی ہے تو اس سے کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں، مثلاً:

  • اظہارِ رائے کی آزادی

  • میڈیا کی خودمختاری

  • معلومات تک عوام کی رسائی

  • آن لائن مواد کی حکومتی نگرانی

دوسری جانب حکومتوں کا مؤقف ہوتا ہے کہ اگر کوئی ادارہ غلط یا گمراہ کن معلومات پھیلائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے تاکہ قومی مفادات اور درست معلومات کا تحفظ کیا جا سکے۔

دونوں مؤقف کیا ہیں؟

 

وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ الجزیرہ نے آزاد کشمیر کے انتخابات کی غیر متوازن، جانبدارانہ اور گمراہ کن کوریج کی، جس سے انتخابی عمل کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

صحافتی آزادی کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بین الاقوامی میڈیا ادارے پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اس کے لیے واضح قانونی جواز، شفاف طریقہ کار اور سرکاری اعلان ہونا چاہیے تاکہ عوام کو درست معلومات مل سکیں۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں