5 اگست 27

کشمیر بھی عمران خان بھی:آ خر 5 اگست ہی کیوں؟

تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض کیلنڈر کا حصہ نہیں رہتے، بلکہ قوموں کی اجتماعی یادداشت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ 5 اگست بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔

پاکستان کے لیے 5 اگست ہمیشہ اس دن کے طور پر یاد کی جاتی ہے جب بھارت نے 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد وادی میں کرفیو، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں، مواصلاتی بندشیں اور شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ پاکستان ہر سال یومِ استحصالِ کشمیر منا کر دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی قوم کی سیاسی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

مگر قسمت نے شاید اسی تاریخ کو پاکستان کے لیے بھی ایک آئینہ بنا دیا۔

5 اگست 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔ ممکن ہے یہ محض ایک اتفاق ہو، ممکن ہے نہ ہو۔ اس کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔ لیکن سیاست میں بعض اوقات حقائق سے زیادہ علامتیں بولتی ہیں۔

اور یہی علامت آج سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔

 

5 اگست عمران خان کی گرفتاری

 

جس دن پاکستان دنیا کو یہ باور کرا رہا تھا کہ کشمیری قیادت کو جیلوں میں ڈال کر عوام کی آواز نہیں دبائی جا سکتی، اسی دن پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے قائد بھی جیل پہنچ گئے۔

یہ محض ایک گرفتاری نہیں تھی۔

یہ ایک ایسی تصویر تھی جس نے پاکستان کے بیانیے کو خود پاکستان کے سامنے لا کھڑا کیا۔

پاکستان برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہے، سیاسی اختلاف کو طاقت سے نہیں دبایا جا سکتا، اور عوامی مینڈیٹ کا فیصلہ عدالتوں یا طاقت کے مراکز نہیں بلکہ بیلٹ بکس کرتے ہیں۔

اگر یہ اصول کشمیر کے لیے درست ہیں تو کیا یہ پاکستان کے لیے بھی اتنے ہی اہم نہیں ہونے چاہییں؟

یہ سوال عمران خان کی شخصیت سے کہیں بڑا ہے۔

آپ عمران خان کے حامی ہوں یا مخالف، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایک مضبوط جمہوریت کی اصل پہچان یہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے سیاسی مخالف کے ساتھ انصاف، شفافیت اور مساوی قانون کا مظاہرہ کرتی ہے۔

پاکستان جب عالمی فورمز پر بھارت سے سوال کرتا ہے کہ کشمیری قیادت کو جیلوں میں رکھ کر آپ جمہوریت کی بات کیسے کر سکتے ہیں، تو دنیا بھی یہی سوال پاکستان سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے۔

کشمیر کا مقدمہ کمزور نہیں ہے۔ کمزور تب ہوتا ہے جب پاکستان کے اپنے اندر جمہوری اقدار پر سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔

بین الاقوامی سیاست میں اخلاقی طاقت صرف بیانات سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اپنے عمل سے حاصل ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے 5 اگست اب صرف کشمیر کی تاریخ نہیں رہی۔

 

 پاکستان کیلئے ایک یاددہانی

 

یہ پاکستان کے لیے بھی ایک یاددہانی بن چکی ہے۔ ایک طرف بھارت نے 5 اگست کو کشمیر کی آئینی شناخت تبدیل کی۔

دوسری طرف یہی تاریخ پاکستان میں ایک ایسے سیاسی دور کی علامت بن گئی جس میں ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کی طویل قید نے جمہوریت، انصاف اور عوامی مینڈیٹ پر نئے سوالات کھڑے کر دیے۔

یہ دونوں واقعات ایک جیسے نہیں۔ ان کے قانونی، آئینی اور سیاسی پس منظر مختلف ہیں۔ لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک ضرور ہے: ریاست اور عوامی مینڈیٹ کے درمیان تعلق۔

ریاستیں طاقت کے ذریعے خاموشی تو پیدا کر سکتی ہیں، مگر رضامندی نہیں۔عدالتیں فیصلے دے سکتی ہیں، مگر عوامی قبولیت صرف عوام دیتے ہیں۔

شاید اسی لیے 5 اگست آج دو مختلف واقعات کی نہیں، بلکہ ایک ہی سبق کی علامت بن چکی ہے۔

وہ سبق یہ ہے کہ جمہوریت کی ساکھ اس وقت قائم ہوتی ہے جب ایک ریاست وہی اصول اپنے لیے بھی اختیار کرے جن کا مطالبہ وہ اپنے مخالف سے کرتی ہے۔

اگر پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا کشمیر کے عوام کی آواز سنے، تو اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ دنیا پاکستان میں جمہوری عمل، سیاسی آزادی اور عوامی مینڈیٹ پر بھی اسی اعتماد سے یقین کر سکے۔

کیونکہ اصول جب صرف مخالف کے لیے ہوں تو وہ مؤقف نہیں رہتے، صرف نعرہ بن جاتے ہیں۔ اور شاید یہی 5 اگست کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں