کھیلوں کی دنیا میں بعض اوقات ایسی کہانیاں جنم لیتی ہیں جو صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ عزم، محنت اور درست فیصلوں کی مثال بن جاتی ہیں۔ سری لنکا کے نوجوان ایتھلیٹ رومیش تھرنگا کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
ایک وقت تھا جب وہ کرکٹ کے میدان میں میڈیم فاسٹ بولر کے طور پر اپنی صلاحیتیں آزما رہے تھے، مگر آج وہ کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو چیمپئن ہیں۔ گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں انھوں نے پاکستان کے اولمپک چیمپئن ارشد ندیم اور بھارت کے عالمی شہرت یافتہ ایتھلیٹ نیرج چوپڑا کو پیچھے چھوڑ کر طلائی تمغہ جیت لیا۔
یہ کامیابی نہ صرف رومیش تھرنگا کے لیے بلکہ سری لنکا کی ایتھلیٹکس کی تاریخ کے لیے بھی ایک سنگ میل ہے۔
ایک ایسا چیمپئن جس نے اپنا کھیل ہی بدل دیا
رومیش تھرنگا کا تعلق سری لنکا کے ضلع کالوتارا سے ہے۔ ان کا پہلا عشق کرکٹ تھا۔ وہ کولمبو کے St. Peter’s College کی کرکٹ ٹیم میں میڈیم فاسٹ بولر تھے اور اپنی رفتار کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ ان کی بولنگ تقریباً 134 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، جو اسکول کی سطح پر ایک متاثر کن رفتار سمجھی جاتی ہے۔
مگر قسمت نے ان کے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا۔
ان کے والد خود ڈسکس اور شاٹ پٹ کے کھلاڑی رہ چکے تھے۔ انہی کی حوصلہ افزائی پر رومیش نے 2017 میں جیولن تھرو کو سنجیدگی سے اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہی نوجوان چند برس بعد دنیا کے بہترین جیولن تھرو ایتھلیٹس کو شکست دے گا۔
کامن ویلتھ گیمز 2026 کا یادگار مقابلہ
گلاسگو کے Scotstoun Stadium میں ہونے والے مردوں کے جیولن تھرو کے فائنل میں دنیا کے کئی نامور کھلاڑی شریک تھے۔ سب کی نظریں پاکستان کے ارشد ندیم اور بھارت کے نیرج چوپڑا پر تھیں، مگر مقابلے کا اختتام ایک مختلف کہانی کے ساتھ ہوا۔
رومیش تھرنگا اپنی پہلی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے، لیکن دوسری کوشش میں انھوں نے 89.75 میٹر کی شاندار تھرو کر کے سب کو حیران کر دیا۔
بعد کی تمام کوششوں میں کوئی بھی کھلاڑی اس فاصلے کو عبور نہ کر سکا اور یوں سری لنکا کے اس نوجوان نے طلائی تمغہ اپنے نام کر لیا۔
ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کیوں پیچھے رہ گئے؟
جیولن تھرو میں ایک ہی لمحہ پورے مقابلے کا رخ بدل دیتا ہے۔ اگرچہ ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا دنیا کے بہترین جیولن تھرو ایتھلیٹس میں شمار ہوتے ہیں، لیکن گلاسگو میں رومیش تھرنگا نے اپنے بہترین دن پر غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔
یہ شکست کسی کمزور حریف سے نہیں بلکہ ایک ایسے ایتھلیٹ سے ہوئی جو چند برس پہلے تک کرکٹ کھیلتا تھا اور بعد میں جیولن تھرو کو اپنا مستقل کیریئر بنا چکا تھا۔ یہی بات اس کامیابی کو مزید دلچسپ اور غیر معمولی بناتی ہے۔
کرکٹ نے جیولن میں کیسے مدد کی؟
ماہرین کے مطابق فاسٹ بولنگ اور جیولن تھرو میں کئی جسمانی خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔
-
بازو کی رفتار
-
کندھے کی طاقت
-
جسم کا توازن
-
دوڑنے کا انداز
-
طاقت کو درست وقت پر منتقل کرنے کی صلاحیت
رومیش تھرنگا نے کرکٹ میں حاصل ہونے والی انہی صلاحیتوں کو جیولن تھرو میں استعمال کیا اور مسلسل تربیت کے ذریعے انہیں مزید نکھارا۔
کیا یہ صرف قسمت تھی؟
رومیش تھرنگا کی کامیابی کو محض خوش قسمتی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ایک کھیل چھوڑ کر دوسرے کھیل میں عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنا برسوں کی محنت، مسلسل تربیت، مضبوط ذہنی تیاری اور درست کوچنگ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ بعض اوقات اپنی اصل صلاحیت کو پہچاننے کے لیے راستہ بدلنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
