حضرت عثمانِ غنی 32

سیدنا حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ: پیکرِ حیاء، بحرِ سخاوت اور ذوالنورین

میرے ایک استاد حیاء کی بہت خوبصورت تعریف کیا کرتے ہیں، سو کامل حیاء رکھنے والے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی یوم شہادت پر سوچا اسے شیئر کیا جائے، فرماتے ہیں:

"انسان کی فطری شرم جب ایمان کی روشنی سے منور ہو تو اسے حیاء کہتے ہیں۔”

 

آج 18 ذوالحجہ ہے، وہ دن جب تاریخِ اسلام کا ایک ایسا ستارہ خون میں نہلا دیا گیا جس کی چمک سے آج بھی آسمانِ ولایت منور ہے۔ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی ایک ایسا حسین امتزاج تھی جس میں حیاء، سخاوت، اور عشقِ رسول ﷺ اپنے کمال پر نظر آتے ہیں۔

پیکرِ حیاء

حیاء کے موضوع پر بات ہو اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہ آئے، یہ ناممکن ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ حیاء کے عنوان پر اگر کوئی دیوان بھی لکھے گا، تو اس کے ہر ورق پر عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام ہی جگمگائے گا۔

آپ کی حیاء کا عالم یہ تھا کہ خود رسول اللہ ﷺ آپ کا بے حد لحاظ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ آرام فرما رہے تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم تشریف لائے تو آپ ﷺ اسی حالت میں لیٹے رہے، لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست فرما لیے۔ جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی جو قیامت تک کے لیے عثمانِ غنی کی حیاء کی سند بن گئی:

"کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں، جس سے آسمان کے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں؟”

یہ اسی فطری شرم اور ایمان کی روشنی کا کمال تھا جس نے آپ کی حیاء کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا جہاں فرشتے بھی رشک کرتے تھے۔

ذوالنورین (دو نوروں والے)

تاریخِ انسانیت میں یہ اعزاز اور فضیلت کسی اور کے حصے میں نہیں آئی کہ کسی نبی کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے کسی ایک شخص کے نکاح میں آئی ہوں۔ آپ ﷺ نے اپنی لختِ جگر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان سے کیا۔

جب ان کا وصال ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو بھی آپ کے عقد میں دے دیا۔ اسی بے مثال شرف کی وجہ سے آپ کو "ذوالنورین” (دو نوروں والے) کہا جاتا ہے۔

آپ ﷺ کا حضرت عثمان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں یکے بعد دیگرے انہیں عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔”

 

سخاوت کے سمندر

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دل دنیاوی مال و دولت سے بے نیاز اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہمیشہ بے چین رہتا تھا۔ آپ کی سخاوت کے واقعات تاریخ کے سینے پر سنہرے حروف میں کندہ ہیں۔

جب ہجرت کے بعد مدینہ میں میٹھے پانی کی قلت ہوئی تو آپ نے ایک یہودی سے بیرِ رومہ (رومہ کا کنواں) بھاری قیمت میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا، جس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت کی بشارت دی۔

غزوہ تبوک جسے "جیشِ عسرہ” (تنگی کا لشکر) کہا جاتا ہے، کے موقع پر جب اسلام کو مالی امداد کی سخت ضرورت تھی، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سینکڑوں اونٹ، گھوڑے اور ہزاروں دینار نبی کریم ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دیے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "آج کے بعد عثمان کا کوئی عمل اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔”

 

شہادت کا روح پرور اور اندوہناک منظر

 

آپ کی خلافت کے آخری ایام میں باغیوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ 40 دن تک جاری رہا۔ مدینے کا وہ حکمران جس نے بیرِ رومہ خرید کر سب کے لیے وقف کر دیا تھا، اس پر اس کے اپنے ہی گھر میں پانی بند کر دیا گیا۔ مگر مجال ہے جو آپ کے ماتھے پر شکن آئی ہو۔ آپ نے مسلمانوں کی تلواریں آپس میں ٹکرانے سے روکنے کے لیے اپنی جان کی قربانی دینا قبول کر لی مگر کسی کو اپنے دفاع میں تلوار اٹھانے کی اجازت نہ دی۔

18 ذوالحجہ کے دن آپ روزے سے تھے۔ رات کو خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی جنہوں نے فرمایا: "عثمان! آج افطار ہمارے ساتھ کرنا۔”

آپ بیدار ہوئے اور قرآنِ مجید کی تلاوت میں مشغول ہو گئے۔ اسی حالت میں باغی دیواریں پھاند کر اندر داخل ہوئے اور آپ پر حملہ کر دیا۔ تلواروں کے وار چلے اور اس مظلوم خلیفہ کا خون قرآنِ مجید پر گرا۔

حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان کا دل حیاء سے معمور ہو، ہاتھ سخاوت کے لیے کھلے ہوں اور روح اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عشق میں ڈوبی ہو، تو شہادت کا رتبہ بھی کس قدر حسین اور ابدی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی سیرت سے حیاء، سخاوت اور ایثار سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں