فلم دھرندھر 24

فلم دھرندھر سے شہرت پانے والی اداکارہ عائشہ خان احتجاج کے دوران گرفتار

‘0.بالی ووڈ کی  فلم دھرندھر سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ عائشہ خان اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کی نئی فلم نہیں بلکہ تعلیمی اصلاحات کے حق میں ہونے والے احتجاج میں شرکت اور پولیس کی جانب سے حراست میں لیا جانا ہے۔

اس واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں پولیس اہلکار اداکارہ کو دیگر مظاہرین کے ساتھ پولیس وین میں بٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عائشہ خان ممبئی میں اس احتجاج میں طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچی تھیں، جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات، امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفاف امتحانی نظام کے مطالبے کے لیے جمع ہوئی تھی۔ احتجاج کے دوران پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لیا، جن میں عائشہ خان بھی شامل تھیں۔

احتجاج کس بات پر ہو رہا ہے؟

 

یہ احتجاج بھارت میں حالیہ عرصے کے دوران مختلف قومی امتحانات، خصوصاً NEET سمیت دیگر امتحانی نظام میں سامنے آنے والے مبینہ پیپر لیک، بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری ملک گیر تحریک کا حصہ ہے۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ لاکھوں طلبہ اپنی تعلیم اور مستقبل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں، مگر امتحانی نظام میں مبینہ کرپشن اور پیپر لیک جیسے واقعات ان کی محنت کو ضائع کر دیتے ہیں۔ اسی لیے طلبہ ملک بھر میں شفاف امتحانی نظام، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کیا ہے؟

 

یہ احتجاج نوجوانوں کی ایک احتجاجی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی (Cockroach Janata Party)’ کی حمایت میں بھی کیا جا رہا ہے۔ اس تحریک کا نام ایک متنازع سیاسی بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں بے روزگار نوجوانوں کو مبینہ طور پر "کاکروچ” قرار دیا گیا تھا۔ نوجوانوں نے اسی لفظ کو احتجاج کی علامت بناتے ہوئے اسے اپنی تحریک کا نام دے دیا۔

اس تحریک نے گزشتہ چند ہفتوں میں بھارت کے مختلف شہروں، خصوصاً دہلی، ممبئی، بنگلورو اور دیگر علاقوں میں بڑے احتجاج منظم کیے ہیں، جہاں ہزاروں نوجوان تعلیمی اصلاحات اور شفاف نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فلم دھرندھر کی عائشہ خان کا گرفتاری پر رد عمل

 

حراست میں لیے جانے کے بعد فلم دھرندھر کی عائشہ خان نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نہ کوئی نعرہ لگایا، نہ تقریر کی اور نہ ہی کسی قسم کی اشتعال انگیزی میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق وہ صرف احتجاجی مقام پر موجود تھیں اور طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پہنچی تھیں، اس کے باوجود پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

اداکارہ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں انہیں پولیس وین کے اندر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ انہوں نے اپنی گرفتاری پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حراست میں لینے کی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔

حکومت اور طلبہ کے درمیان کشیدگی برقرار

 

بھارت میں تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک مسلسل زور پکڑ رہی ہے۔ طلبہ تنظیمیں امتحانی نظام میں بنیادی تبدیلیوں، شفاف تحقیقات اور ذمہ دار حکام کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور بے ضابطگیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے اقدامات جاری ہیں۔

عائشہ خان کی گرفتاری نے اس احتجاج کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جس کے بعد تعلیمی اصلاحات کی تحریک ایک بار پھر قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ادھر اداکارہ کی گرفتاری کی ویڈیوز لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور یہ معاملہ بھارتی میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں