اپ پنجاب کے کسی بازار کا رخ کریں وہاں کسی دکاندار، ریڑھی والے اور یہاں تک کہ کندھے پر اپنا سامان رکھ کر بیچنے والے شخص سے بھی پوچھیں تو وہ اپ کو کاروباری حالات کے علاوہ جس چیز سے زیادہ تنگ نظر ائے گا وہ ہے پیرا فورس ۔ وہ فورس جس کا نعرہ ہے پہلے عزت پھر نفاذ۔
اس فورس کی تشکیل ہی بے معنی تھی۔ پاکستان میں انفورسمنٹ کے لیے پہلے ہی کئی ادارے موجود ہیں۔ ان داروں کی کارکردگی بہتر کرنے کی بجائے کروڑوں روپے لگا کر نئی فورس کھڑی کر دی گئی۔
اس فورس کو بے لگام اختیارات دے دیئے گئے اور یوں وہ فورس جو عوام کی سہولت کے لیے بنائی گئی تھی عوام کی تذلیل پر اتر ائی۔
عوامی تذلیل کے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اپ کو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں پڑے گی اپ صرف سوشل میڈیا پر پیرا فورس لکھ کر سرچ کریں اپ کو درجنوں ویڈیوز مل جائیں گی۔ آپ پنجاب کے کسی بازار میں خود جا کر بھی یہ سروے کر سکتے ہیں۔
حکومت پیرا فورس کے خلاف بات سننے کو تیار نہ تھی
ابتدائی طور پر جب یہ فورس سامنے ائی تو حکومت اس کی برائی کسی طور سننے کو تیار نہیں تھی۔ حکومت کا کہیں نہ کہیں یہ مؤقف تھا کہ عوام ریگولیشن کے خلاف ہے اور تاجر طبقہ انفوررسمنٹ سے ڈرتا ہے ، اس لئے یہ بات کی جاتی ہے۔
بعد ازاں جب پیرا فورس کی اختیارات سے تجاوز اور عوام سے بد سلوکی کی ویڈیوز وائرل ہونے لگی تو حکومت کو ہوش ایا۔
پنجاب حکومت نے آسک پیرا کے نام سے ایک ایپ بنا دی۔ اس ایپ پر جا کر اپ پیرا فورس کے خلاف درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے واقعات سامنے انے کے بعد جب تحقیقات کی گئیں تو کئی پیرا فورس کےاہلکاران کو نوکری سے ہاتھ دھونا بڑا۔
پہلے عزت پھر نفاذ کا کھوکھلا نعرہ
پہلے عزت پھر نفاذ کا نعرہ لے کر میدان میں انے والی اس فورس کی سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پیج کو کھول کر دیکھیں تو اپ کو سمجھ ا جائے گی کہ یہ فورس اختیارات سے کیس قدر تجاوز کرتی ہے۔
پیرا فورس کے اپنے پیجز پر ہی اپ کو روزانہ کی بنیاد پہ ایسے واقعات ملیں گے جس میں عوامی شکایت پر کسی اہلکار کے خلاف کاروائی کی گئی ہوگی۔ یوں اپنا سوشل میڈیا ہی اس فورس کو چارج شیٹ کر رہا ہے۔
بروقت احتساب کی ضرورت
یہ اچھی چیز ہے کہ اب حکومت کو اس ادارے کے احتساب کا خیال ایا۔
اب یہ فورس اپنا تاثر درست کرنے کے لیے چاہے جتنی مرضی کوششیں کر لے عوام کو ذہن پر جو باتیں نقش ہو چکی انہیں مٹانا مشکل ہے۔
ابھی بھی حکومت کو اس چیز پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ ادارہ جس کی ضرورت نہیں بھی تھی پر بنا دیا گیا اس کے اختیارات سے تجاوز پر ایکشن لیں۔ عوامی شکایات سے پہلے ہی اس کا قبلہ درست کریں۔
بہت سے اہلکار ابھی بھی پیرا کی وردی کے اندر ٹک ٹاک بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں۔بہت سے مقامات پر پیرا فورس کی گاڑیاں اور بائکس کو سٹیٹس سمبل کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ عوامی پیسے کے ضیاع کو روکا جائے اور اس فورس کو حقیقی معنوں میں عوام کی سہولت کے لیے استعمال کیا جائے۔
