وزیر اعلیٰ پنجاب نے حال ہی میں شہریوں کی سہولت اور پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) میں شفافیت لانے کے لیے "آسک پیرا” (Ask PERA) کے نام سے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے۔
"پہلے عزت، پھر نفاذ” کے خوبصورت اور دلکش نعرے کے ساتھ شروع کی گئی اس مہم کا مقصد اہلکاروں کے غیر مناسب رویے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی براہِ راست روک تھام کرنا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض ایک ایپ متعارف کروا دینے سے ان زخموں پر مرہم رکھا جا سکے گا جو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس فورس کے رویے نے عوام کو دیے ہیں؟
محافظ یا خوف کی علامت؟
عوام کی سہولت اور قانون کی عملداری کے لیے بنائی گئی اس فورس کا قیام بظاہر ایک خوش آئند اقدام تھا، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران سوشل میڈیا پر درجنوں ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جنہوں نے پیرا فورس کے طریقہ کار اور ان کی تربیت پر سنگین نوعیت کے سوالات اٹھا دیے۔
ان وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ محنت کشوں، چھوٹے تاجروں، اور عام شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا گیا جیسے وہ کوئی عادی اور سنگین جرائم پیشہ افراد ہوں۔
قانون کے نفاذ کی آڑ میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے اور سرِ بازار شہریوں کی تذلیل کے واقعات نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا۔ جس فورس کو عوام کے دلوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا تھا، اس نے اپنے متکبرانہ رویے اور طاقت کے بے جا استعمال سے خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیا۔
حکومتی ایکشن اور اصلاحات کی کوششیں
عوامی سطح پر اٹھنے والے اس شدید ردعمل اور غم و غصے کی لہر کے بعد، وزیر اعلیٰ پنجاب کو صورتحال کا سخت نوٹس لینا پڑا۔
اس ظلم اور ناانصافی کو لگام ڈالنے کے لیے ابتدائی طور پر فورس کے اہلکاروں کے لیے باڈی کیمرے 30 جون تک لگانا لازمی قرار دیے گئے تاکہ کسی بھی کارروائی کے دوران ہر لمحے کی ریکارڈنگ موجود ہو اور کوئی اہلکار حقائق کو مسخ نہ کر سکے۔
اس کے ساتھ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کے لیے سخت سزائیں بھی تجویز کی گئیں جس میں تین سال تک قد بھی شامل ہے، تاکہ فورس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا کڑا محاسبہ کیا جا سکے۔
آسک پیرا (Ask PERA) کا قیام: ایک نئی امید یا محض تسلی؟
انہی اصلاحاتی اقدامات کے تسلسل میں اب "آسک پیرا” ایپ لانچ کی گئی ہے۔ حکومت کا یہ عزم ہے کہ یہ پلیٹ فارم شہریوں کو براہِ راست شکایات درج کرانے کا اختیار دے کر شفاف احتساب کو یقینی بنائے گا۔
اب اگر کوئی اہلکار دورانِ ڈیوٹی بدتمیزی، طاقت کے بے جا استعمال یا غیر اخلاقی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہے، تو شہری فوری طور پر اپنے موبائل کے ذریعے اعلیٰ حکام تک اپنی آواز پہنچا سکیں گے۔
پہلے عزت پھر نفاذ؛ نعرہ اچھا عمل ضروری
بلاشبہ، "آسک پیرا” کا قیام اور "پہلے عزت، پھر نفاذ” کا نعرہ حکومتی سطح پر ایک مثبت اور تعمیری سوچ کا عکاس ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت نے عوامی شکایات کو سنا اور ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم، اصل چیلنج اس نعرے کو سڑکوں، بازاروں اور گلی کوچوں میں عملی جامہ پہنانا ہے۔
عوام اب صرف پریس ریلیز اور ایپس پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں، وہ زمینی حقائق اور فورس کے رویوں میں واضح تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔
کیا پیرا فورس واقعی اپنے داغدار ماضی کو پیچھے چھوڑ کر خود کو ایک عوام دوست، مہذب اور پیشہ ورانہ ادارے میں ڈھال سکے گی، یا یہ ڈیجیٹل ایپ بھی محض ایک کاغذی کارروائی ثابت ہوگی؟ اس کا حتمی فیصلہ آنے والا وقت اور سڑک پر کھڑے ایک عام شہری کے ساتھ ہونے والا برتاؤ ہی کرے گا۔