عاشورہ محرم 29

عاشورہ محرم کی چھٹیاں: سیرو تفریح‌نہیں‌تجدیدِ ایمان کا وقت

تاریخِ انسانی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض کیلنڈر کی تاریخیں نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے اندر درد، قربانی اور حق پر ڈٹ جانے کا ایک پورا فلسفہ سموئے ہوتے ہیں۔

محرم الحرام کے ایام، بالخصوص نویں اور دسویں محرم (یومِ عاشورہ)، مسلمانوں کے لیے ایسے ہی ایام ہیں۔ نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثاروں کی کربلا میں دی گئی قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ باطل کے سامنے سر جھکانے سے بہتر حق کی راہ میں کٹ جانا ہے۔

لیکن آج کے دور میں جب ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑاتے ہیں تو ایک افسوسناک پہلو سامنے آتا ہے: ان ایام کی حرمت رفتہ رفتہ پامال ہو رہی ہے۔

عاشورہ محرم کی چھٹی کا تصور اور بدلتے رویے

 

حکومتوں کی جانب سے عاشورہ محرم کی چھٹی اس لیے دی جاتی ہے تاکہ لوگ دنیاوی کام کاج سے کٹ کر ان ایام کی مناسبت سے عبادت کر سکیں، روزے رکھیں، ذکر و اذکار کریں اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں۔

لیکن موجودہ دور میں مادیت پرستی اور جدید طرزِ زندگی نے اس "چھٹی” کے مفہوم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

 بہت سے لوگ محرم کی چھٹیوں کو "لانگ ویک اینڈ” (Long weekend) سمجھ کر تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ ان دنوں میں ہوٹلوں، پکنک سپاٹس اور سیر گاہوں پر ہجوم اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم نے غم اور تفکر کے دنوں کو پکنک میں تبدیل کر دیا ہے۔

عبادت اور مطالعے کے بجائے ان ایام میں بھی سوشل میڈیا پر غیر ضروری تفریحی مواد کا استعمال عروج پر رہتا ہے۔

اس تبدیلی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟

 

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ اس کے پیچھے چند گہرے معاشرتی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہیں۔

 ہماری نئی نسل کو کربلا کا واقعہ محض ایک تاریخی کہانی کے طور پر سنایا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے چھپے فلسفے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور دین کی بقا کے لیے سب کچھ قربان کر دینے کے جذبے کو نصاب اور تربیت کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

 موجودہ دور کا انسان تھکاوٹ کا شکار ہے۔ وہ ہر چھٹی کو محض جسمانی آرام اور تفریح کا ذریعہ سمجھتا ہے، چاہے وہ چھٹی کسی بھی مذہبی یا تاریخی پس منظر کی حامل ہو۔

 خاندانی سطح پر والدین نے بچوں کو ان ایام کا تقدس سکھانا کم کر دیا ہے۔ جب گھر کا ماحول عام دنوں جیسا ہوگا تو بچوں کے لیے یہ دن محض سکول اور دفتر سے چھٹی کا دن ہی رہیں گے۔

عاشورہ کا اصل تقاضا اور تقدس کی بحالی

 

ایامِ عاشورہ ہم سے تفریح نہیں، بلکہ تفکر، بیداری اور عبادت کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان ایام کی حرمت کو بحال کرنے کے لیے ہمیں بحثیت معاشرہ اور فرد چند عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے:

  • روزہ اور عبادت: احادیث کی روشنی میں یومِ عاشورہ کا روزہ رکھنا اور نوافل ادا کرنا ان دنوں کا بہترین مصرف ہے۔

  • مطالعہ اور ذکر: ان ایام میں سیر و تفریح کے منصوبے بنانے کے بجائے، تاریخِ اسلام، سیرتِ طیبہ اور واقعہ کربلا کا مطالعہ کیا جائے۔

  • نئی نسل کی تربیت: بچوں کو بتائیں کہ آج کے دن چھٹی کا مقصد آرام نہیں بلکہ اس عظیم قربانی کو یاد کرنا ہے جو اسلام کی بقا کے لیے دی گئی۔

  • صدقہ اور خیرات: شہدائے کربلا کی یاد میں ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا اور پانی پلانا بہترین عمل ہے۔

ایام عاشور چھٹی نہیں شہدائے کربلاء کی قربانیوں کو سمجھنے کا دن

 

کربلا محض رونے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بیداری کا پیغام ہے۔ محرم کے دنوں کو محض چھٹی سمجھ کر گزار دینا شہدائے کربلا کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جن لوگوں نے ہمارے ایمان کی بقا کے لیے تپتے صحرا میں پیاس اور ظلم برداشت کیا، ان کی یاد کے دن کم از کم اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنی دنیاوی مصروفیات اور تفریحات کو ترک کر کے ان کے پیغام کو سمجھیں اور اپنی روح کو بیدار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں