خود مختار خاتون 36

ایس ای سی پی کی جانب سے خود مختار خاتون پروگرام کا آغاز

پاکستان میں خواتین کو معاشی طور پر مستحکم اور بااختیار بنانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے ملکی تاریخ میں پہلی بار، خاص طور پر خواتین کی زیرِ نگرانی چلنے والے مائیکرو، سمال اور میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) کے لیے ایک منفرد ڈیجیٹل فنانسنگ پروڈکٹ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

"خود مختار خاتون” — ایک نیا آغاز

 

اس نئی اور شاندار سہولت کو "خود مختار خاتون” کا نام دیا گیا ہے، جسے ‘والی فنانشل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ’ نے تیار کیا ہے۔ یہ پروڈکٹ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں (شریعت) کے عین مطابق ڈیزائن کی گئی ہے۔

اس سہولت کے نمایاں خدوخال درج ذیل ہیں:

  • فنانسنگ کی حد: خواتین کاروباری افراد اپنی کریڈٹ اسیسمنٹ کی بنیاد پر 1 لاکھ (100,000) روپے سے لے کر 15 لاکھ (1.5 ملین) روپے تک کی فنانسنگ حاصل کر سکیں گی۔

  • حصول کا آسان طریقہ: یہ سہولت پہلے سے منظور شدہ (وائٹ لسٹڈ) ڈیجیٹل لینڈنگ ایپلی کیشن ”حکیم“ کے ذریعے دستیاب ہوگی۔ خواتین گھر بیٹھے اپنا درخواست کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں باآسانی مکمل کر سکیں گی۔

  • کاروباری اثاثوں کی خریداری اور ترسیل: منظور شدہ رقم نقد فراہم کرنے کے بجائے، اسے پلیٹ فارم پر موجود انٹیگریٹڈ مارکیٹ پلیس کے ذریعے کاروباری اثاثے خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ خریدے گئے اثاثے براہ راست قرض لینے والی خاتون کے رجسٹرڈ پتے پر بحفاظت پہنچا دیے جائیں گے۔

  • واپسی کا سہل طریقہ: اس فنانسنگ کی واپسی کے لیے 12 ماہ کی مساوی اور آسان اقساط مقرر کی گئی ہیں، جس سے خواتین کو اپنے کاروبار کا کیش فلو موثر طریقے سے سنبھالنے اور پیداواری اثاثے بنانے میں بھرپور مدد ملے گی۔

معاشی شمولیت  کا فروغ

 

ایس ای سی پی کا یہ شاندار اقدام ملک میں ان طبقوں تک باقاعدہ مالیاتی سہولیات پہنچانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جو روایتی طور پر اس نظام سے محروم رہے ہیں۔ ‘والی فنانشل سروسز’، جو کہ ایک لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنی (NBFC) ہے، اس سے قبل موبائل ایپ کے ذریعے صرف کنزیومر نینو فنانسنگ فراہم کر رہی تھی۔

تاہم، "خود مختار خاتون” کی منظوری کے بعد، اب یہ کمپنی باقاعدہ طور پر ایس ایم ای سیکٹر کو فنانسنگ فراہم کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں لینڈنگ این بی ایف سیز معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2025 سے دسمبر 2025 کی ششماہی کے دوران، ان کمپنیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریباً 7.5 ملین مائیکرو اور چھوٹے کاروباری افراد کو 111 ارب روپے کی خطیر فنانسنگ فراہم کی ہے۔

اس نئی پروڈکٹ کے متعارف ہونے سے امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں خواتین کے چھوٹے کاروبار مزید تیزی سے ترقی کریں گے اور قومی معیشت میں ان کا حصہ مزید مضبوط ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں