ڈگریوں کا خاتمہ 10

چین کا جرات مندانہ فیصلہ: 12 ہزار فرسودہ ڈگریوں کا خاتمہ

رپورٹ کے مطابق، چین نے اپنی جامعات میں پڑھائے جانے والے 12,000 کے قریب ایسے ڈگری پروگرامز اور کورسز کو ختم کر دیا ہے جو اب پرانے اور غیر متعلقہ (Obsolete) ہو چکے تھے۔

یہ کوئی معمولی انتظامی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے دور کی ضرورت کو تسلیم کرنے کا ایک واضح اعلان ہے۔

چین یہ بات بخوبی سمجھ چکا ہے کہ رٹے رٹائے اور دہائیوں پرانے نصاب کے ساتھ وہ مستقبل کی معاشی دوڑ نہیں جیت سکتا۔ انہوں نے فرسودہ مضامین کی جگہ جدید دور کے تقاضوں (جیسے ڈیٹا سائنس اور گرین ٹیکنالوجی) کے مطابق نئے کورسز متعارف کروائے ہیں۔

پاکستان کا تعلیمی منظر نامہ: پرانا نصاب اور بدلتی دنیا

 

اب ذرا اپنے گھر یعنی پاکستان کی طرف دیکھیں۔ ہمارے ہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس اور کسی حد تک افسوسناک ہے۔ ہماری جامعات میں آج بھی وہی پرانے کورسز اور وہی بوسیدہ نوٹس پڑھائے جا رہے ہیں جو شاید تیس سال پہلے مرتب کیے گئے تھے۔

دنیا مشین لرننگ اور آٹومیشن کی بات کر رہی ہے، اور ہم آج بھی طالبعلموں کو ایسی چیزیں رٹوا رہے ہیں جن کی عملی مارکیٹ میں کوئی ڈیمانڈ باقی نہیں رہی۔

نوجوانوں کی جامعات سے دوری کی اصل وجہ

 

یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس سے آج کے نوجوانوں کی جامعات اور ڈگریوں سے رغبت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جب ایک طالبعلم دیکھتا ہے کہ وہ چار سال اور لاکھوں روپے لگا کر جو کچھ سیکھ رہا ہے، عملی دنیا کی انڈسٹری میں اس کی کوئی قدر نہیں، تو اس کا دل اس تعلیمی نظام سے اچاٹ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ایک ایسی مشین کا حصہ محسوس کرتا ہے جو ڈگریاں تو چھاپ رہی ہے لیکن ہنر نہیں دے رہی۔

قصور کس کا ہے؟ نظام کی خامی اور طلباء کا رویہ

اس ساری صورتحال کو دو زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے:

  • نظام کی سستی: بلاشبہ سب سے بڑا اور بنیادی قصور ہمارے تعلیمی نظام کا ہے۔ تعلیمی پالیسی ساز اداروں کو چاہیے تھا کہ وہ دنیا کے بدلتے رجحانات پر نظر رکھتے اور ہر سال انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق نصاب کو اپڈیٹ کرتے۔ اس خامی نے ہماری نوجوان نسل کا قیمتی وقت ضائع کیا ہے۔

  • طلباء کی غلط فہمی: لیکن کیا اس زوال میں صرف نظام کا قصور ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ایک بڑی غلطی ہمارے طلباء کی جانب سے بھی ہو رہی ہے۔ پرانے نظام سے مایوس ہو کر آج کل بہت سے نوجوانوں نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ "یونیورسٹی کی تعلیم بالکل بیکار ہے۔”

جامعات سے منہ موڑنا دانشمندی نہیں

یونیورسٹی کو مکمل طور پر غیر اہم سمجھنا انتہائی غیر دانشمندانہ اور خطرناک سوچ ہے۔ یونیورسٹی صرف نوکری کا سرٹیفکیٹ لینے کی جگہ نہیں ہوتی؛ یہ درج ذیل چیزوں کا وہ اہم مرکز ہے جس کا نعم البدل کوئی یوٹیوب ویڈیو یا شارٹ کورس نہیں ہو سکتا:

  • شعور اور آگاہی

  • تنقیدی سوچ (Critical Thinking)

  • لوگوں سے ملنا جلنا اور تعلقات بنانا (Networking)

  • شخصیت سازی (Character Building)

طلباء کو چاہیے کہ وہ یونیورسٹیوں سے دور بھاگنے کے بجائے، اپنے تعلیمی حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔ انہیں انتظامیہ اور اساتذہ کے سامنے یہ مطالبہ رکھنا چاہیے کہ ہمیں دورِ حاضر کے مطابق نئے کورسز پڑھائے جائیں اور پرانی ڈگریوں کا خاتمہ کیا جائے۔ جب سٹوڈنٹس خود نئی چیزوں کی ڈیمانڈ کریں گے، تو نظام کو مجبوراََ خود کو بدلنا پڑے گا۔

اے آئی (AI) کے اس تیز ترین دور میں بقا صرف اسی کی ہے جو خود کو وقت کے ساتھ بدلے گا۔ چین نے غیر متعقلہ ڈگریوں کا خاتمہ کر کے  اپنا راستہ چن لیا ہے اور اپنی سمت درست کر لی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام بھی اس جمود کو توڑے، اور ہمارے طلباء بھی مایوسی کا شکار ہو کر تعلیم سے منہ موڑنے کے بجائے ایک بہتر اور جدید تعلیمی نظام کے قیام کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں