ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 51

ٹیلی کام ترمیمی بل 2026: ڈیجیٹل ترقی کے نام پر شہریوں کی املاک پر قبضہ

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ کے گھر کی چھت پر کوئی ٹیلی کام کمپنی موبائل ٹاور لگانا چاہے، اور آپ کے انکار کی صورت میں آپ کو 5 کروڑ روپے جرمانہ یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے؟

یہ کوئی مذاق نہیں، بلکہ حال ہی میں قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے ٹیلی کام ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 کی چند متنازع شقیں ہیں جنہوں نے پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وفاقی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، دیگر اراکینِ اسمبلی اور عوام کی جانب سے شدید مخالفت کے بعد اب اس بل پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

بل کا پس منظر اور متنازع شقیں

 

قومی اسمبلی سے 11 جون 2026 کو منظور ہونے والے اس بل کا بظاہر مقصد ملک میں 5G ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے پھیلانا تھا۔ تاہم، اس میں شامل بعض تجاویز نے شہریوں کے نجی املاک کے حقوق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں:

  • خاموش رضامندی کا قانون: اگر کوئی ٹیلی کام کمپنی کسی شہری کی جائیداد پر ٹاور یا کیبل بچھانے کے لیے نوٹس بھیجتی ہے اور 21 سے 30 دن کے اندر مالک کی جانب سے کوئی جواب نہیں آتا، تو اسے قانوناً ‘رضامندی’ سمجھا جائے گا۔

  • بھاری جرمانے کی تجویز: کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والے پراپرٹی مالکان پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز شامل کی گئی۔

  • عدالتی اختیارات کی منتقلی: جائیداد کے تنازعات کے حل کا اختیار عدالتوں کے بجائے سرکاری افسران کے حوالے کرنے کی بات کی گئی، جس سے شفافیت پر سوال اٹھے۔

ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 کی عوامی اور سیاسی مخالفت

 

پاکستان پیپلز پارٹی نےٹیلی کام ترمیمی بل 2026 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق اور نجی ملکیت کے قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ پی پی پی کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی رہنماؤں، سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی نے بھی اس قانون پر کڑی تنقید کی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے بھی بل کی شقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹرز نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو قانونی تحفظ اور باہمی رضامندی کے بغیر اپنے گھر میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر لگانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت کا ردعمل اور نظرثانی کا فیصلہ

 

اس شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کے بعد، وفاقی حکومت کو بالآخر قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔ وزارتِ آئی ٹی کے حکام نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا مقصد نجی املاک پر زبردستی قبضہ کرنا نہیں ہے، اور وہ ان تمام مبہم شقوں کو دور کرنے کے لیے تیار ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے۔ فی الحال اس بل کی منظوری کا عمل روک کر اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی بلاشبہ وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن اس کی آڑ میں شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت نظرثانی کے بعد اس بل میں کیا تبدیلیاں لاتی ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل ترقی اور عوام کے حقوق کے درمیان ایک مناسب توازن قائم کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں