ایران کی جیت 32

اسرائیلیوں‌نے ایران کی جیت تسلیم کر لی

حال ہی میں سامنے آنے والے ایک نئے اور چشم کشا سروے نے اسرائیلی معاشرے اور سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ اس سروے کے مطابق، 92 فیصد سے زائد اسرائیلی عوام کا یہ ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے اور حالیہ جنگ کے بعد، درحقیقت ایران ہی فاتح بن کر ابھرا ہے۔

یہ اعداد و شمار نہ صرف اسرائیلی حکومت کے دعووں کی قلعی کھولتے ہیں، بلکہ عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور قیادت پر شدید عدم اعتماد کی بھی غمازی کرتے ہیں۔

سروے کے حیرت انگیز حقائق ایران کی جیت 

یہ سروے 17 سے 20 جون 2026 کے درمیان ‘ہیبرو یونیورسٹی آف یروشلم’ اور ‘اگام انسٹیٹیوٹ’ کے باہمی اشتراک سے کیا گیا، جس میں 3,644 افراد نے حصہ لیا۔ نتائج کے مطابق حیران کن طور پر 92.1 فیصد اسرائیلیوں کی رائے ہے کہ اس حالیہ چھ ہفتوں کی کشیدگی اور اس کے بعد ہونے والے معاہدے میں ایران کا پلڑا بھاری رہا۔

سب سے زیادہ دلچسپ اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کٹر حامی اور دائیں بازو کے 93.1 فیصد ووٹرز بھی اسی بات پر متفق ہیں کہ جنگ کا اصل فاتح ایران ہے۔

اسرائیلی سیکیورٹی اور جنگی اہداف پر سوالات

اسرائیل اور امریکہ نے اس جنگ کے آغاز میں انتہائی بلند و بانگ دعوے کیے تھے، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ، میزائل خطرے کو مٹانا، اور وہاں کی حکومت کو گرانا شامل تھا۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس نکلے۔

87.8 فیصد اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ ان کی حکومت ان میں سے کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی یا محض جزوی کامیابی ہی مل سکی۔

مزید یہ کہ 82.9 فیصد عوام کا خیال ہے کہ اس جنگ نے اسرائیل کی طویل مدتی سکیورٹی کو مضبوط کرنے کے بجائے الٹا مزید کمزور کر دیا ہے۔

نیتن یاہو پر عوام کا سنگین عدم اعتماد

سروے کے نتائج اسرائیلی قیادت، خاص طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے کسی سیاسی زلزلے سے کم نہیں۔ تقریباً تین چوتھائی (72.5 فیصد) عوام نیتن یاہو کے ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ اسرائیل نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہے یا کسی وجودی خطرے کو ٹالا ہے۔

56.4 فیصد لوگوں کے نزدیک نیتن یاہو کی جنگی حکمت عملی "ناکام” یا "انتہائی ناقص” رہی، جب کہ ان کی مقبولیت کا گراف بھی تیزی سے گر کر مارچ میں 40.5 فیصد سے جون میں محض 29.4 فیصد تک آ گیا ہے۔

امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید غصہ

 

اسرائیلی عوام کی برہمی کا ایک بڑا ہدف امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار بھی ہے۔ اسرائیل کی مشاورت اور شمولیت کے بغیر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کو 86 فیصد اسرائیلی انتہائی منفی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ اور اس کے بعد کے معاملات کو سنبھالنے کے طریقے کو 69.1 فیصد اسرائیلیوں نے "ناقص اور ناکام” قرار دیا ہے۔

"مکمل فتح” کا ٹوٹتا ہوا سراب

اسرائیل پچھلے 31 مہینوں سے (7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بعد سے) غزہ اور لبنان میں مسلسل "مکمل فتح” کا نعرہ لگا رہا ہے۔ لیکن عوام اب اس سرکاری بیانیے سے اکتا چکے ہیں۔

صرف 12.2 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ حماس کی حکومت گرانے، یرغمالیوں کو چھڑانے اور لبنان میں حزب اللہ کے خطرے کو ختم کرنے جیسے مقاصد حاصل ہوئے ہیں، جب کہ 61.3 فیصد کا دو ٹوک الفاظ میں ماننا ہے کہ یہ اہداف بالکل بھی حاصل نہیں کیے جا سکے۔

البتہ ایک قابل ذکر تعداد (48.2 فیصد) اب بھی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے حق میں ہے، چاہے اس کے لیے انہیں امریکی مخالفت کا ہی سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

اسرائیل کی ایران کی جیت تسلیم کرنا بڑا پیغام

یہ سروے واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے زمینی حقائق اور اسرائیلی حکومت کے بیانیے کے درمیان کتنا بڑا اور گہرا خلیج آ چکا ہے۔ یعنی کہ صرف امریکہ نہیں، اسرائیل کو بھی شکست اور ایران کی جیت ہوئی ہے۔

اسرائیلی عوام اب کھوکھلے دعووں پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے اسرائیلی عوام کے ذہنوں میں اپنی ہی دفاعی اور سیاسی قیادت پر سنگین نوعیت کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جو یقیناً آنے والے دنوں میں اسرائیل کی اندرونی سیاست میں ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں