
برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں پیش آنے والے ایک ہولناک قتل کیس کا بالآخر فیصلہ سامنے آ گیا، جہاں ایک نوجوان کو اپنی سوتیلی ماں کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
یہ کیس نہ صرف اپنی نوعیت کے باعث توجہ کا مرکز بنا بلکہ اس میں شامل حقائق نے اسے مزید سنسنی خیز بنا دیا۔
سوتیلی ماں کے قتل کے کیس کا پس منظر
پولیس اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق، 22 سالہ عبدالسمی نے اپنی 41 سالہ سوتیلی ماں رضوانہ کوثر کو ان کے گھر میں قتل کیا۔
واقعہ 15 اگست 2023 کو پیش آیا جب رضوانہ کوثر کو بریڈفورڈ کے علاقے کینسنگٹن روڈ پر واقع گھر کے باتھ ٹب میں بے ہوش حالت میں پائی گئیں۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دو دن بعد دم توڑ گئیں۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم نے اپنی سوتیلی ماں کو ان کے اپنے دوپٹے (ہیڈ اسکارف) سے گلا گھونٹ کر قتل کیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ دم گھٹنے سے ہونے والی دماغی چوٹ تھی، جو آکسیجن کی کمی کے باعث ہوئی۔
ملزم کی کیس کو غلط رنگ دینے کی کوششیں
یہ کیس اس وقت مزید اہم ہو گیا جب عدالت میں یہ بات سامنے آئی کہ عبدالسمی نے قتل سے پہلے انٹرنیٹ پر وراثت سے متعلق سوالات تلاش کیے تھے، جن میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ آیا قاتل مقتول کی جائیداد کا وارث بن سکتا ہے یا نہیں۔ استغاثہ کے مطابق یہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قتل ممکنہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔
ابتدائی طور پر ملزم نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی سوتیلی ماں کو باتھ ٹب میں پایا اور فوراً ایمرجنسی نمبر 999 پر کال کی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مقتولہ کی گردن پر نشانات اس وقت پڑے جب وہ سی پی آر دینے کے لیے ان کا دوپٹہ ہٹا رہا تھا۔ تاہم تفتیش اور فرانزک شواہد نے اس بیان کو غلط ثابت کر دیا۔
کیس کی سماعت بریڈفورڈ کراؤن کورٹ میں ہوئی، جہاں جیوری نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عبدالسمی کو قتل کا مجرم قرار دیا۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی، جس میں کم از کم 14 سال اور 91 دن قید لازمی قرار دی گئی ہے۔
مقتولہ کے اہل خانہ نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ رضوانہ کوثر ایک نہایت مہربان اور محبت کرنے والی خاتون تھیں جن کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق اس واقعے نے پورے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف خاندانی تعلقات میں بگاڑ کی ایک سنگین مثال ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ مالی مفادات کس حد تک انسان کو جرم پر آمادہ کر سکتے ہیں۔



