خیبرپختونخوا میں‌ ایمرجنسی 3

خیبرپختونخوا میں‌ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد ن لیگ یوم سیاہ کیوں‌منا رہی؟

خیبرپختونخوا میں‌ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس ایک صحافی کے سوال نے مسلم لیگ ن کی سیاسی تاریخ اور موجودہ فیصلے کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ صحافی نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے پوچھا کہ مسلم لیگ ن ہر سال 12 اکتوبر کو یومِ سیاہ مناتی ہے، کیونکہ اسی روز جنرل پرویز مشرف نے اس کی منتخب حکومت ختم کی تھی، تو کل بھی ن لیگ یہ یوم سیاہ منائے گی؟ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ وہ کل بھی یومِ سیاہ منائیں گے

یہ جواب ایک اہم سیاسی سوال چھوڑ گیا: جس جماعت کے لیے اپنی منتخب حکومت کا خاتمہ آج بھی قابلِ مذمت ہے، وہ مخالف جماعت کی منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کے فیصلے کو کس جمہوری معیار پر پرکھ رہی ہے؟

 

ایک دن کا فاصلہ، ستائیس سال کی تاریخ

 

11 اکتوبر 2026 کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے، جن کے ساتھ گیارہ رکنی مشاورتی کونسل صوبے کے امور چلائے گی۔ اعلان کی وضاحت کے لیے ہونے والی پریس کانفرنس میں وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔

اس فیصلے کے اگلے ہی روز، 12 اکتوبر کو، نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی اقدام کے ستائیس سال مکمل ہو رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن ماضی میں اس دن احتجاجی کیمپ، ریلیاں اور جلسے منعقد کرتی رہی ہے۔ اس کا مؤقف رہا کہ جنرل مشرف نے منتخب حکومت ہٹا کر عوامی مینڈیٹ اور آئینی نظام پر حملہ کیا تھا۔

اسی تاریخی پس منظر میں اعظم نذیر تارڑ کا برسی منانے کا جواب محض ایک تقریب کے انعقاد کی اطلاع نہیں رہتا؛ وہ جماعت کے ماضی کے مؤقف اور آج کے فیصلے کے درمیان وضاحت کا تقاضا بھی پیدا کرتا ہے۔

 

مشرف نے کیا کیا تھا؟

 

12 اکتوبر 1999 کو فوج نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا۔ جنرل مشرف کا تحریری اعلانِ ایمرجنسی 14 اکتوبر کو جاری ہوا، تاہم اسے 12 اکتوبر سے مؤثر قرار دیا گیا۔ اس اعلان کے تحت آئین کو التوا میں رکھا گیا، سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیاں معطل ہوئیں، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عہدیداروں کے منصب ختم ہوئے اور پورا ملک مسلح افواج کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔

لہٰذا اس واقعے کو صرف ’’ایمرجنسی لگانے‘‘ تک محدود کرنا تاریخی تصویر کو ادھورا کر دیتا ہے۔ وہ فوجی اقتدار پر قبضہ اور آئینی نظام کی معطلی تھی، جس کے خلاف مسلم لیگ ن اپنی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتی رہی ہے۔

 

آج کا اقدام مختلف کیسے ہے؟

 

موجودہ حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں‌ ایمرجنسی کا اقدام آئین کے اندر رہتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس نے دہشت گردی، امن و امان کی خرابی اور صوبائی حکومت کی مبینہ ناکامی کو اس کی بنیاد قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور وفاق کی جانب سے مطلوبہ وسائل فراہم نہ کیے جانے کا مؤقف رکھتی ہے۔

یہ قانونی فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے: 1999 میں آئین کو التوا میں رکھ کر فوجی اقتدار قائم کیا گیا تھا، جبکہ آج حکومت آئین میں موجود ہنگامی دفعات استعمال کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ دونوں اقدامات کو قانونی طور پر ایک قرار دینا درست نہیں۔

تاہم آئینی اختیار کا حوالہ سیاسی جواب دہی ختم نہیں کرتا۔ حکومت کو بتانا ہوگا کہ امن کی بحالی کے لیے منتخب صوبائی انتظامیہ کے اختیارات ختم کرنا کیوں ضروری تھا، دوسرے راستے کیوں ناکافی تھے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو انتظامی اختیار واپس دینے کا راستہ کیا ہوگا۔

 

برسی منانے سے سوال ختم نہیں ہوگا

 

اعظم نذیر تارڑ کا جواب ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ ن 12 اکتوبر 1999 کے بارے میں اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئی۔ مگر اسی وجہ سے اس کے موجودہ فیصلے کی جانچ مزید سخت ہوگی۔ جو جماعت اپنے خلاف اقدام کو عوامی مینڈیٹ کی توہین کہتی رہی ہو، اس سے مخالف جماعت کے مینڈیٹ کے معاملے میں بھی اصولی وضاحت مانگی جائے گی۔

اس تقابل کا اصل نکتہ یہ نہیں کہ مشرف کا فوجی اقدام اور آج کا گورنر راج ہر اعتبار سے یکساں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے نزدیک منتخب حکومت کا تحفظ ایک مستقل جمہوری اصول ہے یا حالات اور سیاسی فریق کے ساتھ اس کی تعبیر بدل جاتی ہے؟

کل مسلم لیگ ن مشرف کے اقدام کی برسی منائے گی۔ لیکن آج کے فیصلے کے بعد اسے ماضی کی مذمت کے ساتھ اپنے حال کا جواز بھی پیش کرنا ہوگا۔ کیونکہ یومِ سیاہ منانا ایک سیاسی روایت ہے، جبکہ اس سے سبق سیکھنا ایک جمہوری ذمہ داری۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں