جماعتِ اسلامی کا لانگ مارچ 19

پیٹرول پھر مہنگا، مہلت اختتام پر: جماعتِ اسلامی کا لانگ مارچ کب بحال ہوگا؟

پیٹرول کی قیمت میں تازہ اضافے اور جماعتِ اسلامی کی جانب سے حکومت کو دی گئی مہلت کے آخری دن، پیٹرولیم لیوی کے خلاف مؤخر لانگ مارچ کی بحالی کا سوال پھر اہم ہوگیا ہے۔ جماعت نے ستمبر میں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں دوبارہ مارچ کا عندیہ دیا تھا، تاہم حافظ نعیم الرحمن نے 5 اکتوبر کو کہا کہ اگلے احتجاجی مرحلے کا اعلان 7 اکتوبر کے بعد ہوگا۔

دستیاب بیانات جماعت کی مکمل خاموشی کے دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ البتہ مارچ کی بحالی کی واضح تاریخ اور مذاکرات سے حاصل ہونے والی عملی پیش رفت کا سوال اپنی جگہ برقرار ہے۔

پیٹرول کی قیمت پھر بڑھ گئی

 

7 اکتوبر سے پیٹرول کی قیمت 1.19 روپے اضافے کے بعد 394.83 روپے فی لیٹر ہوگئی، جو ایک روز پہلے 393.64 روپے تھی۔ اسی فیصلے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.91 روپے سستا ہوکر 395.85 روپے فی لیٹر ہوا۔ اس لیے تازہ تبدیلی کو تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کہنا درست نہیں، لیکن پیٹرول کے صارفین پر بوجھ ضرور بڑھا ہے۔

 

لانگ مارچ کیوں مؤخر ہوا تھا؟

 

22 ستمبر کو ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وزیراعظم کی وطن واپسی پر ملاقات ہوگی اور مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مارچ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

اس وقت جماعت نے پوری احتجاجی تحریک ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس نے کیمپوں اور دھرنوں کے جاری رہنے کا مؤقف اختیار کیا، جبکہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کو مذاکرات کا موقع دینے کے لیے روک دیا گیا۔

 

پہلی مہلت سے نئے اعلان تک

 

ستمبر کے اعلان میں اکتوبر کا پہلا ہفتہ بتایا گیا تھا۔ 5 اکتوبر کو کراچی میں حافظ نعیم نے اگلے مرحلے کے اعلان کے لیے 7 اکتوبر کے بعد کا وقت بتایا اور حکومتی فیول ریلیف پیکیج کو ناکافی قرار دیا۔

7 اکتوبر کی رات تک پہلے ہفتے کی مدت اپنے اختتام پر ہے۔ اس لیے اسے کئی روز پہلے ختم ہونے والی ڈیڈ لائن کہنا درست نہیں۔ اہم تبدیلی یہ ہے کہ پہلے اسی ہفتے مارچ کی بحالی کا عندیہ تھا، جبکہ نئے بیان میں اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے اعلان کی بات کی گئی۔

جماعت کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق حافظ نعیم نے کہا کہ احتجاج، جلسے اور دستخطی مہم جاری ہیں اور لانگ مارچ کا پروگرام تیار ہے، جس کا اعلان باقی ہے۔ انہوں نے 7 اکتوبر کو غزہ سے یکجہتی کے مارچ کا بھی اعلان کیا تھا۔

 

وزیراعظم سے ملاقات: تاریخ ابھی طے ہونی ہے

 

7 اکتوبر کی میڈیا رپورٹس کے مطابق لیاقت بلوچ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیراعظم کا پیغام پہنچایا ہے۔ حکومت اور جماعتِ اسلامی کی کمیٹیاں شہباز شریف اور حافظ نعیم کی ملاقات کا متفقہ شیڈول طے کرنے کے لیے مشاورت کریں گی۔

اس خبر میں ملاقات کے انعقاد یا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے فیصلے کی تصدیق نہیں تھی۔ جماعت کے مطالبات میں لیوی کا مکمل خاتمہ، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے معاملات بھی شامل ہیں۔

کیا جماعتِ اسلامی خاموش ہے؟

 

مکمل خاموشی کا دعویٰ تازہ ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا۔ جماعت نے اکتوبر میں بھی لیوی کے خاتمے کا مطالبہ دہرایا، حکومتی ریلیف پر تنقید کی اور دوبارہ مارچ کی بات کی ہے۔

البتہ احتجاجی مؤقف اور مؤخر لانگ مارچ کی عملی بحالی الگ باتیں ہیں۔ اس تحقیق میں دیکھے گئے تازہ ذرائع میں مارچ کی روانگی کی حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں ملی۔ جماعت کی قیادت کے لیے وضاحت طلب سوال یہ ہے کہ مزید انتظار کس عملی یقین دہانی پر کیا جارہا ہے، اور مذاکرات ناکام ہوئے تو پیش قدمی کب ہوگی؟

 

ریلیف پیکیج یا لیوی کا خاتمہ؟

حکومت کا مؤقف ہے کہ مشکل معاشی حالات میں کمزور اور متوسط طبقے کو اپنی استطاعت کے مطابق ریلیف دیا جارہا ہے۔ جماعتِ اسلامی محدود ریلیف پیکیج کے بجائے پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہتی ہے۔

مذاکرات احتجاجی مطالبات منوانے کا راستہ ہوسکتے ہیں، لیکن بار بار مہلت دینے کی افادیت عملی نتائج سے جانچی جائے گی۔ پیٹرول کی تازہ قیمت اور مؤخر مارچ کے درمیان اصل سوال یہی ہے کہ عوام کو کتنا ریلیف ملا، اور جس مطالبے پر مارچ شروع ہوا تھا، اس کے لیے اگلا واضح قدم کیا ہوگا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں