ٹرمپ نوبیل امن انعام 17

شہباز کی حمایت،ٹرمپ نوبیل امن انعام سے محروم

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوبیل امن انعام کی امید ظاہر کی، لیکن ناروے کی نوبیل کمیٹی نے 2026 کا انعام جنوبی افریقہ کی قانون دان ناوی پلے کو دے دیا۔ کمیٹی نے امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ اس فیصلے کے ساتھ ایک بنیادی سوال سامنے آیا ہے: ایران میں امریکی حملوں اور اسرائیل کی عسکری حمایت کے باوجود ٹرمپ کو عالمی امن کی علامت قرار دینے کی دلیل کتنی مضبوط ہے؟

شہباز شریف نے 9 اکتوبر کو ایکس پر اپنے بیان میں ٹرمپ کی حمایت کی بنیاد جنوبی ایشیا میں ان کے کردار کو بنایا۔ وزیراعظم کے مطابق امریکی صدر کی مداخلت نے پاکستان اور بھارت کو تصادم کے دہانے سے واپس لانے اور جنگ بندی ممکن بنانے میں مدد دی۔ پاکستان نے جون 2025 میں بھی اسی بنیاد پر ٹرمپ کو 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کی حمایت کا بیان کردہ جواز پاک بھارت کشیدگی میں کمی ہے۔

تاہم کسی ایک خطے میں سفارتی کردار کی تعریف اور کسی رہنما کو مجموعی طور پر عالمی امن کا مستحق قرار دینا مختلف درجے کے دعوے ہیں۔ دوسرے دعوے کے لیے اس رہنما کے جنگی فیصلوں، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی احتساب سے متعلق پالیسیوں کو بھی جانچنا ضروری ہے۔

 

ایران کے اسکول میں ہلاکتیں: امن کے دعوے پر سنگین سوال

 

ایران کے شہر میناب میں 28 فروری 2026 کو شجرۂ طیبہ اسکول پر حملہ اس بحث کا انتہائی تکلیف دہ پہلو ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقات میں شواہد امریکی میزائل حملے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس کی رپورٹ کے مطابق محققین نے 123 بچوں اور 34 بالغ افراد کی ہلاکتیں شناخت کیں، جبکہ امریکی حکومت نے اس وقت تک مکمل تحقیقاتی نتائج جاری نہیں کیے تھے۔

ستمبر میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے بھی امریکی حملوں کے ممکنہ جنگی جرائم ہونے کی نشاندہی کی۔ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق مشن نے میناب اور لامرد کے حملوں کے بارے میں ایسے معقول شواہد بیان کیے جن کی بنیاد پر غیر امتیازی حملوں کا نتیجہ اخذ کیا گیا۔ امریکی انتظامیہ نے ان نتائج کو مسترد کیا اور پینٹاگون نے تحقیقات جاری ہونے کا مؤقف اختیار کیا۔ یہ ایک تحقیقاتی نتیجہ ہے، ٹرمپ کے خلاف کسی عدالت کا حتمی مجرمانہ فیصلہ نہیں۔

اس فرق کے باوجود سیاسی اور اخلاقی سوال اپنی جگہ برقرار ہے: جس صدر کے دور میں امریکی فوج کے حملے میں اتنے بچے مارے گئے ہوں، اسے امن انعام دینے کی حمایت کرتے وقت اس واقعے اور اس کے احتساب کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟

 

غزہ: سفارت کاری کے ساتھ اسرائیل کو بموں کی فراہمی

 

غزہ کے معاملے میں ٹرمپ کا کردار صرف ثالثی تک محدود نہیں رہا۔ فروری 2025 میں ان کی جانب سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد اسرائیل کو دو ہزار پاؤنڈ وزنی ایم کے 84 بموں کی کھیپ ملی۔ بائیڈن انتظامیہ نے گنجان آباد غزہ میں شہری نقصان کے خدشات پر یہ کھیپ روک رکھی تھی۔ ٹرمپ نے اپنی پالیسی کا دفاع طاقت کے ذریعے امن حاصل کرنے کی دلیل سے کیا۔

یہ حمایت بعد میں بھی جاری رہی۔ رائٹرز نے 15 ستمبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر کے گولہ بارود کی فروخت کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس میں ہزاروں بھاری بم شامل ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ رپورٹ ایک مجوزہ فروخت سے متعلق تھی؛ اسے تمام ہتھیاروں کی مکمل ترسیل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

دوسری جانب، ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کے نتائج کو بھی ریکارڈ سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوئی۔ مگر رائٹرز کی 6 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایک سال بعد بھی اسرائیلی حملے جاری تھے، اسرائیل تقریباً دو تہائی غزہ پر قابض تھا، اور انخلا، تعمیرِ نو اور حماس کو غیر مسلح کرنے کے اہداف تعطل کا شکار تھے۔

یوں ٹرمپ کی امن کوششوں کی محدود کامیابیاں موجود ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایسی عسکری پالیسیاں بھی ہیں جو ان کی امن پسندی کے دعوے کو کمزور کرتی ہیں۔ ایک ثالث کی ساکھ اس وقت مزید سوالات کی زد میں آتی ہے جب وہ جنگ کے ایک فریق کو بھاری ہتھیار بھی فراہم کر رہا ہو۔

 

ناوی پلے کا انتخاب کیوں معنی رکھتا ہے؟

 

ناوی پلے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج اور اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ہیں۔ انہوں نے اس اقوام متحدہ کمیشن کی سربراہی بھی کی جس نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا؛ اسرائیل نے ان نتائج کو مسترد کیا۔ ان کا انتخاب عالمی انصاف اور ریاستی طاقت کے احتساب کو بحث کے مرکز میں لے آیا ہے۔

تاہم نوبیل کمیٹی کے فیصلے کو یہ کہہ کر پیش کرنا درست نہیں ہوگا کہ اس نے باقاعدہ ایران یا غزہ کی وجہ سے ٹرمپ کو مسترد کیا۔ اعلان پلے کی خدمات کے اعتراف کا ہے؛ ٹرمپ کو انعام نہ ملنے کی مخصوص وجہ اخذ کرنا تجزیہ ہوگا، کمیٹی کا ثابت شدہ مؤقف نہیں۔

 

شہباز شریف کی حمایت کا اصل امتحان

 

پاکستان کے لیے جنگ بندی میں مدد دینے والے کسی رہنما کا شکریہ ادا کرنا ایک قابلِ فہم سفارتی عمل ہے۔ لیکن اسی رہنما کے لیے نوبیل امن انعام کی وکالت ایک وسیع اخلاقی تائید بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ ایسی تائید کے ساتھ ایران کے بچوں، فلسطینی شہریوں اور جنگی احتساب کے سوالات کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو محض ’’امن کا ہیرو‘‘ کہنا ان کی پالیسیوں کا نامکمل بیان ہے۔ زیادہ مضبوط اور شواہد پر مبنی تنقید یہ ہے کہ ان کی حکومت نے بعض مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ براہِ راست فوجی طاقت استعمال کی اور اسرائیل کو تباہ کن ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی۔

شہباز شریف کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ٹرمپ نے پاکستان کو کیا سفارتی فائدہ پہنچایا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک خطے میں جنگ بندی کا کردار، دوسرے خطے میں شہریوں کی ہلاکتوں اور عسکری حمایت کے سنگین ریکارڈ پر غالب آ سکتا ہے؟ امن کے عالمی اعزاز کی حمایت کرتے ہوئے اس سوال سے گریز ممکن نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں