پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں 5 اکتوبر محض ایک سابق کھلاڑی کی سالگرہ کا دن نہیں۔ یہ اس کپتان کی پیدائش کا دن ہے جس کی قیادت میں پاکستان نے 1992 میں پہلی مرتبہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔
مگر 5 اکتوبر 2026 کو عمران خان کی 74ویں سالگرہ پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان کے لیے کوئی نمایاں سالگرہ پیغام سامنے نہ آنے پر ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان میں کرکٹ اور سیاست کے درمیان لکیر دھندلی ہوتی جا رہی ہے؟
آج اس معاملے پر پاکستانی میڈیا میں بھی تنقید سامنے آئی۔ PCB کے آفیشل X اکاؤنٹ کی جانب سے عمران خان کو سالگرہ کی مبارک باد نہ دینے پر سوشل میڈیا صارفین نے ناراضی اور افسوس کا اظہار کیا۔
وہ نام جسے PCB خود اپنے Hall of Fame میں رکھتا ہے
یہ معاملہ اس لیے بھی نمایاں ہے کیونکہ عمران خان محض پاکستان کے سابق کپتان نہیں بلکہ خود پاکستان کرکٹ بورڈ کے Hall of Fame کے ابتدائی ارکان میں شامل ہیں۔
PCB کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق Hall of Fame کا مقصد پاکستان کے عظیم ترین کرکٹرز کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور پاکستان کی کرکٹ تاریخ کو محفوظ کرنا ہے۔ اس کے ابتدائی چھ ارکان میں حنیف محمد، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس اور ظہیر عباس شامل تھے۔
یعنی جس شخصیت کو بورڈ اپنی سرکاری تاریخ میں پاکستان کے عظیم کرکٹرز میں شمار کرتا ہے، اسی کی سالگرہ پر بورڈ کی خاموشی نے سوالات کو جنم دیا ہے۔
اعداد و شمار بھی عمران خان کی کرکٹ حیثیت بتاتے ہیں
سیاست سے عمران خان کے بارے میں کوئی بھی رائے رکھی جا سکتی ہے، لیکن ان کے کرکٹ ریکارڈ کو سیاسی وابستگی کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ICC کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے پاکستان کے لیے 88 ٹیسٹ کھیلے، 3,807 رنز بنائے اور 362 وکٹیں حاصل کیں۔ 175 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 3,709 رنز کے ساتھ 182 وکٹیں لیں۔ وہ ICC Cricket Hall of Fame میں بھی شامل ہیں۔
ان کے کیریئر کا سب سے بڑا لمحہ 1992 کا ورلڈ کپ تھا۔ پاکستان نے میلبرن میں انگلینڈ کو شکست دے کر اپنا پہلا ون ڈے ورلڈ کپ جیتا اور عمران خان اس ٹیم کے کپتان تھے۔ ESPN کے اعداد و شمار کے مطابق فائنل میں عمران خان نے 72 رنز بھی بنائے، جو پاکستان کی اننگز کا سب سے بڑا انفرادی اسکور تھا۔
یہی وجہ ہے کہ ESPNcricinfo کی 5 اکتوبر کی "On This Day” فہرست عمران خان کی پیدائش کو نمایاں کرتی ہے اور انہیں پاکستان کے عظیم ترین کرکٹرز میں شمار کرتی ہے۔
عمران خان کی سالگرہ پر دنیا کی داد، اپنا بورڈ خاموش
یہ تضاد سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کی بنیادی وجہ ہے۔
ایک طرف بین الاقوامی کرکٹ پلیٹ فارمز عمران خان کے کرکٹ کیریئر، آل راؤنڈ کارکردگی اور 1992 کی قیادت کو یاد کر رہے ہیں، دوسری جانب وہ ادارہ جس کی تاریخ کا عمران خان مستقل حصہ ہیں، وہاں ان کی سالگرہ پر خاموشی دکھائی دی۔
یہاں مسئلہ کسی سیاستدان کو مبارک باد دینے یا نہ دینے سے زیادہ ادارہ جاتی مستقل مزاجی کا بنتا ہے۔
PCB ماضی میں سابق پاکستانی کرکٹرز کی سالگرہ پر ان کی تصاویر، اعداد و شمار اور کامیابیوں کے ساتھ پوسٹس کرتا رہا ہے۔
اگر یہی روایت دوسرے سابق کرکٹرز کے لیے اختیار کی جاتی ہے تو پاکستان کو ورلڈ کپ جتوانے والے سابق کپتان کے معاملے میں خاموشی کی وجہ پوچھنا غیر معمولی سوال نہیں۔
لارڈز میں بھی عمران خان کا نام تنازع بن گیا تھا
یہ بحث محض آج کی سالگرہ کی پوسٹ تک محدود نہیں۔ 27 اگست 2026 کو لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے دوسرے ٹیسٹ کے دوران Sky Sports نے عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان کا انٹرویو نشر کیا۔ انٹرویو سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کیا تھا اور اس میں عمران خان کی جیل میں صحت اور حالات سے متعلق ان کے بیٹوں کے تحفظات زیرِ بحث آئے تھے۔
Dawn، The Guardian اور Wisden سمیت متعدد ذرائع کے مطابق PCB نے انٹرویو نشر کیے جانے پر Sky Sports سے باقاعدہ شکایت کی۔ رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا کہ بورڈ نے انٹرویو نشر ہونے کی صورت میں پاکستانی ٹیم کے لنچ کے بعد میدان میں واپس نہ آنے کا امکان زیرِ غور لایا تھا۔ بالآخر انٹرویو نشر ہوا اور پاکستانی ٹیم بھی میدان میں واپس آگئی۔
کیا PCB کو سیاسی تنازعات سے الگ رہنا چاہیے؟
اس پوری بحث میں ایک بنیادی ادارہ جاتی سوال سامنے آتا ہے۔
PCB کا کام پاکستان میں کرکٹ کا انتظام، ترقی اور قومی کرکٹ ورثے کا تحفظ ہے۔ اس لیے کسی سابق کرکٹر کی موجودہ سیاسی حیثیت کو اس کے کرکٹ ریکارڈ سے الگ رکھنا ادارے کی غیرجانبداری کے لیے اہم سمجھا جا سکتا ہے۔
عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی ہیں، اس لیے ان کا نام آج پاکستان کی شدید سیاسی تقسیم سے بھی جڑا ہوا ہے۔ لیکن ان کی سیاسی شناخت ان کے 1971 سے 1992 تک کے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر یا 1992 کے ورلڈ کپ کو تاریخی ریکارڈ سے ختم نہیں کرتی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ PCB خود آج بھی اپنی Hall of Fame ویب سائٹ پر عمران خان کا نام نمایاں طور پر برقرار رکھتا ہے۔
محسن نقوی کے دو عہدے اور مفادات کی بحث
اس معاملے میں PCB چیئرمین محسن نقوی کی دوہری سرکاری حیثیت بھی بحث میں آتی ہے۔
محسن نقوی فروری 2024 میں تین سالہ مدت کے لیے PCB چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ وہ موجودہ وفاقی حکومت میں وزیرِ داخلہ بھی ہیں۔
اسی لیے جب PCB کا کوئی فیصلہ عمران خان جیسے حکومت مخالف سیاسی رہنما سے متعلق دکھائی دیتا ہے تو اس پر سیاسی اثراندازی کا سوال زیادہ شدت سے اٹھتا ہے۔
کرکٹ کی تاریخ حکومتوں کے ساتھ تبدیل نہیں ہونی چاہیے
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ عمران خان کو سالگرہ کی مبارک باد کیوں نہیں دی گئی۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی قومی کھیل کے ادارے کا تاریخی رویہ کسی کھلاڑی کی موجودہ سیاسی حیثیت کے مطابق بدلنا چاہیے؟
حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور جاتی ہیں، مگر کھیل کا تاریخی ریکارڈ مستقل رہتا ہے۔
عمران خان سیاست میں متنازع شخصیت ہو سکتے ہیں، ان کی سیاست کی حمایت یا مخالفت پاکستانی شہریوں کا حق ہے، لیکن پاکستان کے کرکٹ ریکارڈ میں وہ 88 ٹیسٹ کھیلنے والے، 362 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے آل راؤنڈر اور پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان ہیں۔
اسی لیے 5 اکتوبر کو PCB کی خاموشی صرف ایک "Happy Birthday” پوسٹ کا معاملہ نہیں رہی۔ اس نے دوبارہ اس وسیع تر بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو سیاسی کشمکش سے کس حد تک الگ اور اپنے کرکٹ ورثے کے بارے میں کس حد تک یکساں اور غیرجانبدار رہنا چاہیے۔
اور شاید PCB کے لیے سب سے سادہ اصول بھی یہی ہونا چاہیے: کھلاڑی کا کرکٹ ریکارڈ، اس کی سیاست سے الگ رکھا جائے۔
