گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے سکیورٹی اجلاس نے صوبے میں گورنر اور منتخب حکومت کے اختیارات سے متعلق بحث کو نمایاں کردیا ہے۔ بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے گورنر پر وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ تاہم دستیاب تحقیق میں خیبرپختونخوا میں باقاعدہ گورنر راج کے نفاذ کا صدارتی اعلان نہیں ملا۔
اجلاس کی تصدیق گورنر کی اپنی پوسٹ کے علاوہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے بھی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔
فیصل کریم کنڈی نے اپنی پوسٹ میں کیا کہا؟
ایکس پر اپنی پوسٹ میں فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ انہوں نے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، آئی جی پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر سینئر حکام کے ساتھ اہم سکیورٹی اجلاس کی صدارت کی۔
گورنر کے مطابق دہشت گردی، جرائم اور امن و امان کے مسائل کے دوران صوبہ غفلت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ عوام کا تحفظ اس کی اولین ذمہ داری ہونا چاہیے اور سیاسی سرگرمیاں سکیورٹی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہییں۔
کنڈی نے مزید کہا کہ ہر ادارے کو انسانی جانوں کے تحفظ اور امن برقرار رکھنے پر توجہ دینا ہوگی۔ ان کی پوسٹ میں اجلاس کا جواز سکیورٹی چیلنجز کو قرار دیا گیا، تاہم وزیراعلیٰ کی مشاورت یا اجلاس کی مخصوص قانونی بنیاد کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ابوذر سلمان نیازی کا سخت ردعمل
بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے اپنی ایکس پوسٹ میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت گورنر ہاؤس کے پودوں کو مناسب پانی ملنے کی نگرانی کرنا تو ممکن ہے، لیکن وزیراعلیٰ کے اختیارات استعمال کرنا نہیں۔
انہوں نے فیصل کریم کنڈی کے انتخابی ریکارڈ پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ ووٹ بینک نہ ہونے اور 2008 سے انتخابات ہارنے کے باوجود وہ خیبرپختونخوا پر حکومت کرنے کے خواہش مند ہیں۔
نیازی کا مرکزی اعتراض یہ ہے کہ منتخب وزیراعلیٰ کی موجودگی میں گورنر صوبائی انتظامیہ کے سربراہ کا کردار اختیار نہیں کرسکتا۔ ان کے انتخابی ریکارڈ سے متعلق الفاظ سیاسی الزام ہیں؛ اس رپورٹ میں ان کی الگ تصدیق نہیں کی گئی۔
اجلاس میں کیا زیربحث آیا؟
اے پی پی کے مطابق اجلاس میں امن و امان، انسداد دہشت گردی، جرائم، احتجاجی سرگرمیوں اور لانگ مارچ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید اسلحے کی خریداری، افرادی قوت اور بنیادی سہولتوں کے حوالے سے درپیش مشکلات بھی زیرغور آئیں۔
گورنر نے پولیس اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے اداروں کی استعداد اور باہمی رابطہ بہتر بنانے پر زور دیا۔ خبر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نام شرکا میں شامل نہیں، البتہ ان کی عدم شرکت کی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی۔
گورنر راج کی بحث کا پس منظر
اس اجلاس سے دو روز پہلے، 4 اکتوبر کو، فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر ہاؤس میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر ملاقات کی تھی۔
گورنر ہاؤس کے سرکاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس مؤقف پر اتفاق کیا کہ اگر صدر اور وزیراعظم صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔ یہ ممکنہ اقدام کے بارے میں بیان تھا، گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان نہیں۔
اسی پس منظر میں گورنر کی زیرصدارت صوبائی انتظامیہ کے اجلاس کو سیاسی طور پر زیادہ اہمیت مل رہی ہے۔ تاہم کسی ممکنہ اقدام پر مشاورت اور اس کے قانونی نفاذ میں فرق ہے۔
آئین میں صوبائی انتظامیہ کا اختیار کس کے پاس ہے؟
آرٹیکل 129 کے مطابق صوبائی انتظامی اختیار گورنر کے نام پر، وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا پر مشتمل حکومت استعمال کرتی ہے، جو وزیراعلیٰ کے ذریعے کام کرتی ہے۔ آرٹیکل 105 کے تحت گورنر عمومی طور پر کابینہ یا وزیراعلیٰ کے مشورے کے مطابق فرائض انجام دیتا ہے۔ آرٹیکل 131 وزیراعلیٰ کو صوبائی انتظامیہ سے متعلق گورنر کو باخبر رکھنے کا پابند کرتا ہے۔
اس آئینی ترتیب کی روشنی میں گورنر کو معلومات فراہم کرنا اور صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات استعمال کرنا الگ معاملات ہیں۔ اجلاس کی قانونی حیثیت کا مکمل جائزہ اس کی مجاز بنیاد، مشاورت اور جاری ہونے والے احکامات دیکھ کر ہی ممکن ہوگا۔
آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی پر صدارتی اعلان کے ذریعے حکومتی اختیارات سنبھالنے یا گورنر کو سونپنے کا طریقہ فراہم کرتا ہے۔ اجلاس کی صدارت بذاتِ خود اس آئینی عمل کا متبادل نہیں۔
کیا خیبرپختونخوا میں بالواسطہ گورنر راج چل رہا ہے؟
منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے گورنر کا اس طرح معاملات چلانا بالواسطہ گورنر راج کی طرف اشارہ ہے۔ پیپلز پارٹی خود آئین دینے والی جماعت ہے اسے اس طریقے سے بچ کر آگے چلنا چاہیے کیونکہ ان کا یہ عمل مستقبل میں غیر قانونی طور پر حکومتوں کو ہٹانے اور ان کے معاملات میں دخل اندازی کا باعث بن سکتا ہے۔
