اہم خبریںپاکستانجرم و سزا

تعلیمی اداروں میں بچوں کا جنسی استحصال اور والدین کی ذمہ داریاں

ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ لکھا کہ انسداد ریپ ایکٹ کی دفعہ 26 کے تحت متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرنا منع ہے۔

چشتیاں، بہاولنگر کے ایک سکول میں چھٹی کا وقت قریب تھا کہ پرنسپل امداد اللہ نے چوتھی کلاس کے ایک دس سالہ بچے کو اپنے دفتر بلایا، دروازہ بند کیا اور اسے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنا ڈالا۔
بچہ گھر پہنچا تو خوفزدہ اور بخار میں مبتلا تھا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو بچہ رونے لگا، بچے نے گواہوں کی موجودگی میں بتایا کہ وہ آئندہ سے سکول نہیں جائے گا کیونکہ اس کا پرنسپل اسے روزانہ اپنے دفتر میں بلا کر اسکے ساتھ جنسی حرکات کرتا ہے اور کسی کو بتانے کی صورت دھمکیاں دیتا ہے، آج بھی اُس نے ایسا ہی کیا ہے۔
یہ 2 فروری 2021ء کا دن تھا۔ بچے کے باپ نے 4 فروری کو وقوعے کی ایف آئی آر درج کروا دی۔

پرنسپل کی گرفتاری اور سیشن کورٹ

اگلے روز پرنسپل گرفتار ہو گیا، مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا۔ متاثرہ بچے نے بھی گواہی دی۔ ملزم کا موقف تھا کہ اسکی سابقہ بیوی کی طلاق کی رنجش کی وجہ سے سابقہ سسرال والوں نے مدعی کے ساتھ مل کر یہ جھوٹا مقدمہ بنایا ہے۔
تاہم ملزم نے اپنے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہ کیا۔ ٹرائل کورٹ نے 25 اگست 2022ء کو ملزم کو 14 سال قیدِ بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

ہائیکورٹ میں اپیل اور کیس

ملزم امداد اللہ نے اپنی سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کر دی جس کی سماعت دو رُکنی بنچ نے کی اور جسٹس طارق سلیم شیخ نے دسمبر 2023ء میں فیصلہ سنایا۔
ہائیکورٹ میں ملزم کی طرف سے دلائل دیئے گئے کہ ایف آئی آر کے اندراج میں دو دن کی بلاوجہ تاخیر کی گئی ہے، جس سے معاملہ مشکوک ہوتا ہے۔
ملزم کی سابقہ بیوی کے اکسانے پر یہ جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ہے۔ وقوعے کا کوئی چشم دید گواہ نہیں۔ بچے کی گواہی قابلِ قبول نہیں کیونکہ ٹرائل جج نے اسکی اہلیت جانچنے کے لیے ‘Voir dire’ یعنی ابتدائی سوالات کا ٹیسٹ نہیں کیا۔ بچے کی اکیلی گواہی پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سزا نہیں دی جا سکتی۔

ہائیکورٹ کا  فیصلہ جو بچوں کا جسنی استحصال کرنے والی کیلئے موت کا پروانہ ہے

عدالت نے لکھا کہ جنسی ہراسانی کیسز میں ڈر، شرم، ملزم کی دھمکیوں اور لاشعوری کی وجہ سے کیس رپورٹ کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ جب تک تاخیر کے پیچھے کوئی بدنیتی ثابت نہ ہو جائے، تاخیر نقصان دہ نہیں ہے۔ بچے کی گواہی میں ابتدائی سوالات اگر نہ کیے جا سکیں تو بچے کی گواہی غیر معتبر نہیں ہوجاتی۔
عدالت نے لکھا کہ اس کیس میں متاثرہ بچے نے ملزم کے وکیل کی لمبی جرح کا انتہائی پراعتماد انداز میں جواب دیا جس سے اس کی ذہنی اہلیت ثابت ہوتی ہے۔ چونکہ جنسی جرائم میں چشم دید گواہ ملنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے اگر متاثرہ بچے کی گواہی سچی ہو اور وہ سکھائی گئی معلوم نہ ہو، تو صرف اکیلے بچے کی گواہی کی بنیاد پر بھی ملزم کو سزا سنائی جا سکتی ہے۔
عدالت نے مزید لکھا کہ عام طور پر ‘سنی سنائی’ بات بطور ثبوت قبول نہیں ہوتی، لیکن قانونِ شہادت کے آرٹیکل 21 کے تحت جنسی ہراسانی کا شکار ہونے کے فوراً بعد متاثرہ فرد کا کسی کو واقعے کی شکایت کرنا ایک relevant fact ہے۔ لہٰذا بچے کا وقوعے کے فوراً بعد اپنے والد اور گواہوں کو واقعے کے بارے میں بتانا قانوناً درست شہادت ہے۔ مدعی اور گواہان کا ملزم سے کوئی سابقہ عناد ثابت نہیں ہوا۔

بچوں کا جسنی استحصال کا کیس اور عدلیہ کی ذمہ داری

آخر میں عدالت نے لکھا کہ انسداد ریپ ایکٹ کی دفعہ 26 کے تحت متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرنا منع ہے۔ لیکن اس کیس میں ٹرائل جج نے فیصلے میں بار بار بچے کا پورا نام لکھا جو افسوسناک ہے۔
جج حضرات آئندہ فیصلے لکھتے وقت احتیاط کریں اور متاثرہ فرد کا پورا نام لکھنے کے بجائے مخفف کا استعمال کریں۔

جنسی ہراسانی کے مقدمات کی سماعت بند کمرے میں (In-camera) ہونی چاہیے۔ عدالت نے ملزم امداد اللہ کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی۔

نوٹ: یہ عدالتی کیس  محمد رضوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کی وال سے لیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button