
بجاش خان نیازی پاکستان کے معروف ٹرانسپورٹر اور بس کمپنی نیازی ایکسپریس 99 کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ نیازی ایکسپریس 99 پاکستان میں بین الاضلاعی اور شہری بسوں کی بڑی کمپنی ہے جو روزانہ ہزاروں مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچاتی ہے۔
بجاش خان نیازی ٹرانسپورٹ سے زیادہ اب اپنے سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ مقبول ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور سادہ انداز میں ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں جس میں وہ مختلف معاملات پر صارفین سے مشورہ طلب کرتے ہیں۔
صارفین ان کی ویڈیوز کو پسند کرتے اور مزے مزے کے تبصرے بھی کرتے ہیں۔
بجاش نیازی کی رمضان میں انسان دوستی
رمضان المبارک کے دوران بجاش نیازی صرف کاروباری شخصیت نہیں رہتے بلکہ مسافروں اور مزدوروں کے لئے میزبان بن جاتے ہیں۔ وہ لاہور کے بس اسٹینڈ پر فری سحری کا انتظام کرتے ہیں جس میں ہزاروں مسافروں اور راہ گیروں کو آلو والے پراٹھے، چنے ، پائے، کوفتے اور آملیٹ سمیت طرح طرح کے کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔
بجاش نیازی اپنی سحری میں صرف کھانا فراہم نہیں کرتے بلکہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو مہمان بننے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے فیس بک اور انسٹا گرام اکاؤنٹس پر روزانہ کی سحری کی ویڈیوز سامنے آتی ہیں جن میں وہ مسافروں کو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ "ہمارے مہمان بنیں” اور "آئیں ہم سب مل کر سحری کریں”۔ اس طرح وہ روایتی مہمان نوازی کو جدید آن لائن مہم کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
ان کی سحری کا مینیو اتنا شاندار ہوتا ہے جو کہ کسی وی آئی پی ہوٹل سے کم نہیں ہوتا۔ وہ ساتھ ہی لوگوں کو خود سروس کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین ان کے انداز کو پسند کرتے ہوئے انکا مہمان بننے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔
سیاسی سرگرمیاں
بجاش خان نیازی صرف کاروباری اور سماجی کاموں تک محدود نہیں رہے۔ وہ این اے‑129 کے ضمنی انتخاب میں بطور امیدوار سامنے آئے۔ وہ اپنے آپکو پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر پیش کرتے رہے تاہم پی ٹی آئی انہیں اپنی پارٹی میں تسلیم نہیں کرتی۔
انتخابات کے دوران انہوں نے پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر پر اپنے مخصوص انداز میں کئی تنقیدی ویڈیوز بھی بنائیں جس پر وہی پی ٹی آئی سپور ٹر کی تنقید کی زد میں رہے۔
بجاش خان نیازی کے فلاحی اقدامات اور عوام کیلئے کتنے سود مند؟
بجاش خان نیازی ایک ہمہ گیر شخصیت ہیں جو ٹرانسپورٹ بزنس کی کامیابی کے ساتھ سماجی فلاح کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ نیازی ایکسپریس 99 کو کامیاب بنانے کے ساتھ ساتھ وہ رمضان میں مسافروں اور مزدوروں کو فری سحری کی سہولت فراہم کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر انہیں اپنا مہمان بننے کی دعوت دیتے ہیں۔
ان کی یہ مہم نہ صرف لوگوں کو مفت کھانا فراہم کرتی ہے بلکہ پاکستانی معاشرے میں انسان دوستی اور مہمان نوازی کی روایت کو بھی تقویت دیتی ہے۔
بطورِ عام شہری شاید ہم اس عمل کی افادیت نہ پہچان پائیں لیکن مزدور طبقہ، مسافر، بس اڈے کے ملازمین اور ہاکر، فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز اور بائیکیا سروس مہیا کرنے والوں کیلئے یہ تمام انتظامات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔



