
مارچ 2026 میں پنجاب حکومت نے آؤٹ سورس کیے گئے سرکاری سکولوں کی کارکردگی جانچنے کا نیا نظام متعارف کرایا۔ اس نظام کے مطابق پنجاب ایجوکیشن کرکیولم اینڈ ٹریننگ اتھارٹی (PECTA) آؤٹ سورس شدہ سکولوں کیلئے الگ سکول بیسڈ ٹیسٹ منعقد کرے گی اور نتائج حکومت کو بھیجے گی۔
صرف وہ سکول جن کے طلبہ کے امتحان میں کامیابی کا تناسب 90 فیصد سے زیادہ ہوگا، ہر طالب علم کیلئے سرکاری ادائیگی کے حقدار ہوں گے؛ کم کارکردگی والے سکولوں کو فنڈز نہیں ملیں گے۔
گریڈ 1 اور 2 کے بچوں کیلئے زبانی امتحان کا انتظام ہے تاکہ ابتدائی سیکھنے کی صلاحیتوں کو جانچا جاسکے۔ امتحانات کی نگرانی ڈویژنل ڈائریکٹرز کریں گے اور امتحانی پرچوں کی پرنٹنگ کا خرچہ بھی PECTA اٹھائے گی۔
حکومت کے مؤقف کے نکات
حکام کے مطابق اس قدم کا مقصد سیکھنے کے معیار کو بہتر بنانا اور جواب دہی بڑھانا ہے، تاکہ صرف بہتر کارکردگی دکھانے والے ادارے ہی حکومتی فنڈز سے فائدہ اٹھائیں۔
PECTA کا ٹیسٹنگ نظام پورے پنجاب میں یکساں امتحان اور نتیجہ بندی فراہم کرے گا، جس سے حکام کو مختلف اضلاع میں سکولوں کی کارکردگی کا موازنہ کرنے میں مدد ملے گی۔
پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام (PSRP) اور فیز III
پنجاب حکومت کئی سال سے سرکاری سکولوں کا انتظام غیر سرکاری تنظیموں اور نجی آپریٹرز کے حوالے کر رہی ہے۔ پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام (PSRP) یا پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے تحت ہزاروں سکولوں کی ذمہ داری مختلف پارٹنر اداروں کو دی جاتی ہے۔
فروری 2026 میں حکومت نے 2,735 اضافی سرکاری سکول نجی اور غیر سرکاری تنظیموں کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام سکول آؤٹ سورس فیز 3 کا حصہ ہے جس کا مقصد کم کارکردگی، کم داخلہ اور ناقص انتظام والے سکولوں میں بہتری لانا ہے۔
اس وقت تک 11 ہزار سے زیادہ سکول پہلے ہی نجی پارٹنرز کے حوالے کیے جا چکے تھے؛ حکومت نے آئندہ مرحلوں میں مجموعی طور پر 14 ہزار سے زائد سکول آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا۔
درخواست دینے کی آخری تاریخ 31 مارچ رکھی گئی تھی، اور منتخب پارٹنرز کو اپریل میں سکولوں کا انتظام سنبھالنے کی توقع تھی۔
حمایت اور مخالفت
حکومت کا دعویٰ ہے کہ آؤٹ سورسنگ سے تعلیمی معیار بہتر ہوگا، ڈراپ آؤٹ ریٹ کم ہوگا اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔
تنقید کرنے والوں کے مطابق یہ پالیسی ریاست کی تعلیم کی ذمہ داری سے دست برداری اور طبقاتی تفریق کو بڑھا سکتی ہے، کیونکہ نجی انتظامات میں طلبہ کیلئے مستقبل کی فیس یا دیگر اخراجات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ادائیگیوں کی تاخیر اور انتظامی مسائل
نئی پالیسی میں سکولوں کی ادائیگی طلبہ کے نتائج سے مشروط ہے، لیکن پہلے سے موجود آؤٹ سورس سکولوں میں فنڈز کی تاخیر پہلے ہی بہت بڑا مسئلہ ہے:
مارچ 2026 میں اخبارات نے رپورٹ کیا کہ تقریباً 20,000 اساتذہ جو Punjab Education Initiatives Management Authority (PEIMA) کے تحت چلنے والے 4,300 سکولوں میں کام کر رہے ہیں، تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔
تاخیر کی وجہ سے سکولوں کو عملے کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے کرنے میں دشواری ہوئی، جس سے کئی اساتذہ نے ملازمت چھوڑنے پر غور شروع کر دیا۔
PEIMA کے چیف ایگزیکٹو نے وضاحت کی کہ جنوری تک کی ادائیگیاں جاری ہو چکی ہیں اور فروری کے بقایا جات پانچ تا سات دنوں میں ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا، تاہم ابھی تک اسکولوں کو سبسڈی کی رقم وقت پر نہیں ملتی۔
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اور پارٹنر اداروں کے درمیان فنڈز کی ترسیل کے مسائل پہلے سے موجود ہیں۔ نئے 90 فیصد امتحانی معیار کے بعد یہ خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے کہ کم کارکردگی والے سکولوں کو مکمل طور پر ادائیگی ہی نہیں ہوگی، اور فنڈز کی تاخیر معمول بن جائے گی۔
کیا سکول آؤٹ سورس فیز 3 میں سکول لینا چاہیے؟
فوائد
حکومتی سبسڈی اور انفراسٹرکچر سپورٹ – آؤٹ سورس سکولوں کو طالب علموں کیلئے فیس نہیں لینی پڑتی؛ حکومت فی بچہ سبسڈی دیتی ہے، اور بعض اداروں میں ڈسپلن اور نتائج بہتر دیکھے گئے ہیں۔
خود مختاری اور انتظامی لچک – نجی/این جی او پارٹنر سکول انتظامی فیصلے خود کر سکتے ہیں اور مقامی ضرورتوں کے مطابق اقدامات لے سکتے ہیں، جو بعض سرکاری سکولوں میں ممکن نہیں تھا۔
وسائل تک رسائی – PEF پروگرام کے تحت بعض جگہوں پر اضافی کلاس رومز، چھتوں کی مرمت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جس سے تعلیمی نظام بہتر ہوا۔
خدشات
غیر یقینی ادائیگیاں – موجودہ سکولوں کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ فنڈز کی ادائیگی میں کئی ماہ کی تاخیر ہوتی ہے۔ 90 فیصد پاس کی شرط پوری نہ ہونے پر ادائیگی مکمل طور پر بند بھی ہوسکتی ہے۔
اعلیٰ امتحانی معیار کا دباؤ – 90 فیصد کامیابی کی شرط بہت بلند ہے؛ اکثر پسماندہ یا دیہی علاقوں میں یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گا، جس سے سکول کے مالیاتی استحکام پر اثر پڑے گا۔
ٹیچرز اور عملے کی نوکری کا تحفظ – آؤٹ سورسینگ کے بعد سرکاری ملازمین کا مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے؛ بہت سے اساتذہ کو نئی تنظیموں میں شامل نہیں کیا جاتا یا ان کی مراعات کم ہو جاتی ہیں۔
طبقاتی تفاوت اور پبلک ذمہ داری – ناقدین کے مطابق سرکاری سکولوں کی نجی انتظامیہ ریاست کو اپنی بنیادی ذمہ داری سے دستبردار کرتی ہے اور مستقبل میں معاشرتی طبقات کے درمیان تعلیمی فرق بڑھا سکتی ہے۔
فیصلہ اور سفارش
معاملے کا جائزہ: اگرچہ حکومت کا مقصد معیارِ تعلیم اور جوابدہی بہتر بنانا ہے، لیکن سکول فیز 3 میں شمولیت سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ادائیگیوں کا نظام سخت اور غیر یقینی ہے۔ 90 فیصد کامیابی کی شرط بہت مشکل ہے اور پچھلے مرحلوں میں فنڈز کی بروقت ادائیگی میں سنگین رکاوٹیں سامنے آئیں۔
صلاحیت اور وسائل کا تجزیہ: ایسے نجی یا غیر سرکاری ادارے جو اضافی وسائل، تربیت یافتہ اساتذہ اور طلبہ کو امتحانات کیلئے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، شاید اس نظام میں کامیاب ہوں۔ تاہم جن اداروں کے پاس انتظامی یا تعلیمی مضبوطی نہیں، انہیں مالی نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
معاہدے کے شرائط پڑھنا: پارٹنر بننے سے پہلے PEF/PEIMA کے معاہدے کی تمام شقیں پڑھنا ضروری ہے، خصوصاً یہ جاننا کہ اگر طلبہ مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں تو سکول کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔
متبادل ذرائع آمدن پر غور: اگر ادارہ اپنی آمدنی کا مکمل انحصار سرکاری سبسڈی پر رکھتا ہے تو وہ تاخیر یا بندش کی صورت میں بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ متبادل فنڈنگ ذرائع یا سماجی معاونت کے منصوبے بنانا ضروری ہے۔
نتیجہ
پنجاب حکومت کی جانب سے آؤٹ سورس سکولوں کیلئے 90 فیصد کامیابی کی شرط اور کارکردگی پر مبنی ادائیگی کا نظام تعلیم میں جوابدہی اور معیار کو بڑھانے کی کوشش ہے، لیکن عملی مثالیں بتاتی ہیں کہ فنڈز کی تاخیر اور سخت شرائط سکولوں اور اساتذہ کیلئے بڑا چیلنج بن سکتی ہیں.
سکول آؤٹ سورس فیز 3 میں حصہ لینے والے اداروں کو اپنے تعلیمی معیار، انتظامی صلاحیت اور مالی منصوبہ بندی کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا چاہیے۔ اگر کوئی ادارہ مقررہ معیار پورا کر سکتا ہے، اضافی وسائل رکھتا ہے اور فنڈز کی ممکنہ تاخیر برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو اسے اس پروگرام سے فائدہ ہوسکتا ہے۔
بصورت دیگر بہتر یہی ہے کہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے اور حکومت سے ادائیگیوں کے نظام کو شفاف اور بروقت بنانے کا مطالبہ کیا جائے۔



