شہباز شریف بمقابلہ برائن لارا: 414 ناٹ آؤٹ اور عوام کلین بولڈ
رائن لارا کا 400 رنز کا وہ ریکارڈ جسے توڑنا ناممکن سمجھا جاتا تھا، ہمارے وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت 414 روپے فی لیٹر تک پہنچا کر بالآخر توڑ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر آج کل ایک میم بہت تیزی سے گردش کر رہی ہے جس نے عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں تلخ مسکراہٹ پر بھی مجبور کر دیا ہے۔
اس میم میں ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری کرکٹر برائن لارا کھڑے ہیں جن کی شرٹ پر ان کا تاریخی ٹیسٹ سکور ‘400’ درج ہے، اور ان کے بالکل ساتھ وزیراعظم شہباز شریف سبز جرسی پہنے کھڑے ہیں جس پر ‘414’ لکھا ہے۔
بات بڑی سادہ مگر گہری ہے: برائن لارا کا 400 رنز کا وہ ریکارڈ جسے توڑنا ناممکن سمجھا جاتا تھا، ہمارے وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت 414 روپے فی لیٹر تک پہنچا کر بالآخر توڑ دیا ہے۔ اور عوام کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ کپتان ابھی کریز پر موجود ہیں اور "ناٹ آؤٹ” ہیں۔
یہ محض ایک میم نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کا عکس ہے جس کا سامنا پاکستان کا ہر وہ شہری کر رہا ہے جو روزانہ صبح اپنی موٹر سائیکل کو کک مارتے ہوئے پٹرول میٹر کی سوئی کو حسرت سے دیکھتا ہے۔
دل پر پتھر یا عوام پر پہاڑ؟
ہر بار جب پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے، تو سرکاری سطح پر ایک ہی رٹا رٹایا جملہ سننے کو ملتا ہے کہ "وزیراعظم نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ اور دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے۔”
اب عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر اس پتھر کا سائز کیا ہے؟ کیونکہ پٹرول کی قیمتیں جس رفتار سے بڑھ رہی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اب دل پر پتھر نہیں بلکہ پورا پہاڑ رکھا جا چکا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ پتھر حکمرانوں کے دل پر رکھا جاتا ہے، لیکن اس کا سارا بوجھ سیدھا غریب عوام کی جیب اور کمر پر پڑتا ہے۔
قیمتوں کا گورکھ دھندا: ‘پہلا وار’ اور ٹکڑا ٹکڑا پالیسی
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب ایک نفسیاتی کھیل بن چکا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، عوام کو الجھانے کے لیے ایک خاص حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے:
پہلا وار (حالیہ بڑے اضافے)
پہلے ایک ہی جھٹکے میں قیمتوں میں 20، 30، بلکہ بعض اوقات تو 40 روپے تک کا ہوشربا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں وہ راتیں اچھی طرح یاد ہیں جب پٹرول 300 کی نفسیاتی حد عبور کر رہا تھا، تو ایک ہی رات میں قیمتیں سیدھی آسمان پر پہنچا دی گئیں۔
رات کے بارہ بجتے ہی پٹرول پمپس پر جو قیامت ٹوٹتی ہے اور موٹر سائیکل سواروں کی جو لمبی قطاریں لگتی ہیں، وہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ یہ وہ ‘پہلا وار’ ہوتا ہے جس سے عوام کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور ان کا ماہانہ بجٹ دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔
نام نہاد ریلیف:
اس زور دار جھٹکے کے بعد، جب عوام کا غصہ عروج پر ہوتا ہے تو حکومت "عوامی ہمدردی” کا کارڈ کھیلتی ہے۔ کچھ عرصے بعد، بطور "عوامی ریلیف"، قیمت میں 2 یا 4 روپے کی معمولی کمی کر دی جاتی ہے۔ اس اونٹ کے منہ میں زیرے برابر کمی پر سرکاری ترجمان ایسے شادیانے بجاتے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔
ٹکڑا ٹکڑا اضافہ:
عوام بیچارے ابھی اس دو چار روپے کے ‘ریلیف’ کی خوشی منا ہی رہے ہوتے ہیں کہ اگلی چند پندرہ روزہ سمریاں پھر سے سر اٹھا لیتی ہیں۔ پھر وہی پرانا کھیل شروع ہوتا ہے؛ کبھی 8 روپے، تو کبھی 10 روپے، ٹکڑا ٹکڑا کر کے قیمت دوبارہ بڑھائی جانے لگتی ہے۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے، وہ قیمت اس حالیہ 414 روپے کے ہندسے تک پہنچ جاتی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کی جیب سے پہلے 100 روپے نکال لیے جائیں، پھر 5 روپے واپس کر کے اسے احسان مند بنا دیا جائے، اور پھر چپکے سے مزید 20 روپے نکال لیے جائیں۔
مہنگائی کے باؤنسرز اور غریب کا دسترخوان
پٹرول کی قیمت صرف پٹرول پمپ کے میٹر تک محدود نہیں رہتی۔ یہ وہ معاشی باؤنسر ہے جو سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے کرایوں، پھر سبزی منڈی، اور آخر میں غریب کے دسترخوان پر آ کر لگتا ہے۔
414 روپے فی لیٹر پٹرول کا مطلب ہے کہ آٹا، چینی، دالیں اور ہر بنیادی ضرورت کی چیز کی قیمت میں خود بخود آگ لگ چکی ہے۔
ایک عام شہری جب 500 روپے کا پٹرول ڈلواتا ہے تو اب پمپ کا میٹر اتنی جلدی رک جاتا ہے کہ اسے شک ہونے لگتا ہے کہ شاید مشین خراب ہے۔
اس اذیت ناک صورتحال میں یہ میم دراصل اس قوم کا نوحہ ہے جو مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر روتے روتے ہنسنے لگی ہے۔
برائن لارا ریٹائر شہباز شریف کریز پر موجود
برائن لارا تو 400 رنز بنا کر ریٹائر ہو گئے تھے، مگر ہمارے وزیراعظم کا پٹرول کا یہ سکور بورڈ ابھی بھی تیزی سے چل رہا ہے۔
خدا خیر کرے، کیونکہ عوام تو اس ہوشربا مہنگائی کی پچ پر کلین بولڈ ہو چکے ہیں، اور اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں اگلا ہدف 500 کا سنگ میل نہ ہو! فی الحال تو قوم 414 کی اس شاندار "اننگز” پر اپنا سر پیٹنے میں مصروف ہے۔



