شوکت خانم کراچی 7

شکاگو میں ہدف سے تقریباً دوگنا عطیات، شوکت خانم کراچی کے افتتاح کی تیاریاں

جبران الیاس کے مطابق فنڈ ریزنگ تقریب میں تقریباً سات لاکھ ڈالر جمع ہوئے؛ کراچی میں ادارے کے تیسرے اور سب سے بڑے کینسر ہسپتال کا افتتاح 29 دسمبر 2026 کو مقرر ہے۔

شوکت خانم ہسپتال کے لیے شکاگو میں منعقدہ فنڈ ریزنگ تقریب میں مقررہ ہدف سے تقریباً دوگنا رقم جمع ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ جبران الیاس کے مطابق تقریب کا ہدف ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر تھا، جبکہ جمع ہونے والی رقم تقریباً سات لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے اس کامیابی کو عمران خان کے نام پر اعتماد اور شوکت خانم کی ٹیم کی محنت کا نتیجہ قرار دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کراچی میں اپنے تیسرے اور سب سے بڑے کینسر ہسپتال کے افتتاح کی تیاری کر رہا ہے۔ ادارے کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف کے مطابق نئے ہسپتال کا افتتاح 29 دسمبر 2026 کو کیا جائے گا۔

 

شکاگو کی تقریب میں کتنا تعاون جمع ہوا؟

 

شوکت خانم کے سرکاری شیڈول کے مطابق، کراچی ہسپتال کی معاونت کے لیے شکاگو کی فنڈ ریزنگ تقریب 16 اکتوبر 2026 کو منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

جبران الیاس کے بیان کے ساتھ شیئر کی گئی تصویر میں ہدف 350,000 ڈالر اور مجموعی رقم 699,485 ڈالر دکھائی گئی ہے۔ اس حساب سے رقم مقررہ ہدف سے 349,485 ڈالر زیادہ اور ہدف کے تقریباً 199.85 فیصد بنتی ہے۔ یوں اسے تقریباً دوگنا کہنا درست ہے۔

یہ اعداد جبران الیاس کے بیان اور شیئر کردہ تصویر پر مبنی ہیں؛ انہیں ہسپتال کی حتمی آڈٹ شدہ وصولیوں کا بیان نہیں سمجھنا چاہیے۔

 

کراچی میں 30 ارب روپے کا منصوبہ

 

شوکت خانم انتظامیہ کے مطابق، کراچی کے نئے ہسپتال کی لاگت 30 ارب روپے ہے اور مکمل استعداد پر یہ لاہور کے ہسپتال سے دوگنا بڑا ہوگا۔ افتتاح سے پہلے فنشنگ، طبی آلات کی تنصیب اور عملے کی بھرتیوں پر کام جاری ہے۔ ریڈی ایشن کے علاج میں استعمال ہونے والے لینئر ایکسیلیریٹرز سمیت اہم آلات سائٹ پر پہنچ چکے ہیں۔

ڈی ایچ اے سٹی کراچی میں واقع یہ ہسپتال لاہور اور پشاور کے بعد ادارے کا تیسرا کینسر ہسپتال ہوگا۔ اس کا مقصد کراچی، سندھ کے دیگر علاقوں اور جنوبی بلوچستان کے مریضوں کے لیے تشخیص اور علاج تک رسائی بہتر بنانا ہے۔

 

مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے کیا اہمیت ہے؟

 

کینسر کا علاج صرف ادویات یا آپریشن تک محدود نہیں ہوتا۔ بار بار معائنے، ٹیسٹ اور علاج کے مختلف مراحل مریض اور اس کے خاندان سے وقت اور وسائل کا تقاضا کرتے ہیں۔ دوسرے شہر جانے کی صورت میں سفر اور رہائش کے اخراجات بھی اس بوجھ میں شامل ہو جاتے ہیں۔

کراچی میں علاج کی نئی سہولت، خصوصاً سندھ اور جنوبی بلوچستان کے ان خاندانوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے جنہیں خصوصی علاج کے حصول کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس کا عملی فائدہ ہسپتال کے فعال ہونے، دستیاب خدمات اور مریضوں کو قبول کرنے کی استعداد کے ساتھ واضح ہوگا۔

 

تعمیر کے بعد بھی عطیات کیوں ضروری ہوں گے؟

 

ادارے کے مطابق، اس کے ہسپتالوں میں 75 فیصد سے زیادہ مریض مفت علاج حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے نئے ہسپتال کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد بھی ادویات، طبی خدمات اور روزمرہ اخراجات کے لیے مسلسل مالی تعاون درکار ہوگا۔

شکاگو کی تقریب اسی وسیع فنڈ ریزنگ مہم کا حصہ ہے جس کے تحت شوکت خانم نے امریکہ کے مختلف شہروں میں کراچی ہسپتال کی معاونت کے لیے تقریبات کا شیڈول جاری کیا ہے۔

کراچی کے مریضوں کے لیے اب اہم مرحلہ اعلان کردہ تاریخ پر ہسپتال کا فعال ہونا ہے، تاکہ تعمیر اور عطیات کی یہ کوشش تشخیص، علاج اور مریضوں کی عملی مدد میں تبدیل ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں