پاکستان نے قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کے بین الاقوامی فورم ’’باروئرز پلیٹ فارم‘‘ کی گورننگ کونسل کی سربراہی سنبھال لی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے 12 اکتوبر کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر پاکستان کی جانب سے یہ ذمہ داری قبول کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی بڑھتی لاگت اور ترقیاتی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم پاکستان کو ملنے والی سربراہی کا مطلب کیا ہے، یہ فورم کیسے کام کرے گا اور کیا اس سے قرضوں کے بوجھ میں کمی آسکے گی؟
باروئرز پلیٹ فارم کیا ہے؟
باروئرز پلیٹ فارم قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کا ایک مشترکہ فورم ہے، جس کا مقصد قرضوں کے انتظام سے متعلق معلومات اور تجربات کا تبادلہ، تکنیکی صلاحیت میں اضافہ اور عالمی مالیاتی مباحث میں ان ممالک کی آواز کو مضبوط بنانا ہے۔
اس فورم کی قیادت رکن ممالک کرتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تجارت و ترقی، یو این سی ٹی اے ڈی، اس کے سیکریٹریٹ کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ اس میں مختلف معاشی حالات، قرضوں کی سطح اور ترقی کے مراحل رکھنے والے ممالک شامل ہوسکتے ہیں۔
یہ فورم کب اور کیسے قائم ہوا؟
اس اقدام کی بنیاد جولائی 2025 میں اسپین کے شہر سیویل میں منعقدہ چوتھی بین الاقوامی کانفرنس برائے ترقیاتی مالیات کے وعدوں میں رکھی گئی۔ بعدازاں 15 اپریل 2026 کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے موسمِ بہار کے اجلاسوں کے موقع پر باروئرز پلیٹ فارم کا آغاز ہوا۔
ابتدائی مرحلے میں مصر نے عبوری سربراہی سنبھالی، جبکہ پلیٹ فارم کی تیاری کرنے والے ورکنگ گروپ میں پاکستان نائب سربراہ تھا۔ اس گروپ میں کولمبیا، ہونڈوراس، مالدیپ، نیپال اور زیمبیا بھی شامل تھے۔ اکتوبر میں پاکستان کی جانب سے گورننگ کونسل کی سربراہی سنبھالنا اس عمل کا اگلا مرحلہ ہے۔
پاکستان نے کیا ترجیحات پیش کی ہیں؟
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پلیٹ فارم کے 2026–27 کے ورک پلان کے لیے قرضوں کے بہتر انتظام، معاشی اصلاحات کے تجربات کے تبادلے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے کے نئے طریقوں کو اہم ترجیحات قرار دیا۔
انہوں نے مؤثر عمل درآمد اور قابلِ پیمائش نتائج پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری قرض کو ترقی میں معاون ہونا چاہیے۔ وزیرِ خزانہ نے یہ بھی واضح کیا کہ فورم کی توجہ باہمی سیکھنے اور تکنیکی تعاون پر ہوگی۔
قرض لینے والے ممالک کو الگ پلیٹ فارم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
عالمی مالیاتی نظام میں قرض دہندگان کے پاس باہمی رابطے اور مشاورت کے لیے دیرینہ انتظامات موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں قرض لینے والے ممالک کو اکثر اپنے مالی مسائل اور پیچیدہ قرض معاملات سے الگ الگ نمٹنا پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق باروئرز پلیٹ فارم اس خلا کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور عالمی قرض نظام سے متعلق مباحث میں زیادہ باخبر اور مربوط مؤقف پیش کرسکتے ہیں۔
عالمی قرضوں کا دباؤ کتنا سنگین ہے؟
یو این سی ٹی اے ڈی کی 7 اکتوبر 2026 کی معلومات کے مطابق ترقی پذیر ممالک نے 2025 میں سرکاری قرضوں پر تقریباً ایک ٹریلین ڈالر، یعنی ایک ہزار ارب ڈالر، خالص سود ادا کیا۔
ادارے کے مطابق 3.7 ارب افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں سرکاری قرضوں پر سود کی ادائیگی صحت یا تعلیم پر ہونے والے اخراجات سے زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ قرض کی بڑھتی لاگت حکومتوں کے لیے بنیادی خدمات اور ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کی گنجائش محدود کررہی ہے۔
کیا یہ فورم پاکستان کے قرضے معاف کراسکتا ہے؟
باروئرز پلیٹ فارم کے اعلان کردہ اختیارات میں قرض معاف کرنے یا قرض دہندگان پر نئی شرائط نافذ کرنے کا اختیار شامل نہیں ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی کے مطابق یہ اجتماعی طور پر قرضوں کی تنظیمِ نو کے مذاکرات، مشترکہ سودے بازی یا مالی بحران سنبھالنے کا ادارہ بھی نہیں ہے۔
اس میں تعاون رضاکارانہ اور غیر پابند نوعیت کا ہے۔ اس لیے پاکستان کی سربراہی سے قرضوں کی خودکار معافی، سود میں کمی یا موجودہ قرض معاہدوں میں تبدیلی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کو عملی طور پر کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
پلیٹ فارم کے مقاصد کی روشنی میں پاکستان کو دوسرے ممالک کے تجربات سے قرضوں کے خطرات سمجھنے، انتظامی صلاحیت بہتر بنانے اور ترقیاتی مالیات کے مختلف طریقوں کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔
سربراہی پاکستان کو ان مباحث کا ایجنڈا آگے بڑھانے اور قرض لینے والے ممالک کے مسائل نمایاں کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ ممکنہ فوائد ہیں؛ ان کا حصول عملی تعاون، حاصل کردہ معلومات کے استعمال اور ملکی پالیسی میں بہتری سے مشروط ہوگا۔
کیا سربراہی کا مطلب پاکستان سب سے زیادہ مقروض ہے؟
اس فورم کی سربراہی کسی ملک کے قرضوں کی عالمی درجہ بندی نہیں ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی کے مطابق پلیٹ فارم میں مختلف سطح کے قرض اور مختلف معاشی حالات رکھنے والے ممالک شریک ہوسکتے ہیں۔
لہٰذا پاکستان کی سربراہی کو اس بات کا ثبوت سمجھنا درست نہیں کہ پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے۔ اسی طرح فورم میں شمولیت کسی ملک کے دیوالیہ ہونے کا اعلان بھی نہیں ہے۔
اب اصل امتحان کیا ہوگا؟
پاکستان کی پیش کردہ ترجیحات اور فورم کے مقاصد کو سامنے رکھا جائے تو اس کی کارکردگی جانچنے کا اہم پیمانہ عملی نتائج ہوں گے: رکن ممالک کے درمیان کتنی مفید تکنیکی معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے، قرضوں کے انتظام کی صلاحیت میں کتنی بہتری آتی ہے اور ترقیاتی مالیات کے لیے کتنے قابلِ عمل طریقے سامنے آتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ سربراہی عالمی مالیاتی مباحث میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ہے۔ اس موقع کی معاشی قدر اس بات سے واضح ہوگی کہ فورم کے تعاون کو ملکی قرضوں کے بہتر انتظام اور ترقیاتی ضروریات کے لیے کس حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔
